124

بجلی ایک روپے پچانوے پیسے فی یونٹ مہنگی

  وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب نے کہا ہے کہ سابق حکومتوں نے بارودی سرنگیں لگائی تھیں،2019 تک 227 ارب روپے کی بارودی سرنگ ہمیں ورثے میں ملی، ن لیگ کی حکومت نے ایسا خسارہ چھوڑا کہ ہمیں ادائیگیاں کرنا پڑیں،ماضی کی حکومتوں  کی وجہ سے بجلی کے فی یونٹ میں ایک روپے 95 پیسے کا اضافہ  کیا گیا ہے ۔  جمعرات کو وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اور وزیراعظم کے معاون خصوصی تابش گوہر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمر ایوب نے کہا کہ  توانائی کے مسائل ہماری حکومت کو ورثے میں ملے،ن لیگ کی حکومت نے ایسا خسارہ چھوڑا کہ ہمیں ادائیگیاں کرنا پڑیں،شعبہ توانائی میں گردشی قرضہ ن لیگ حکومت کی کار ستارنی ہے۔ ن لیگ حکومت نے دانستہ طور پر بدنیتی پر معاہدے کرکے کارخانے لگائے۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ حکومت کی وجہ سے ملک میں 43 فیصد بجلی مہنگی بنتی ہے،عوام پر بوجھ ڈالتے تو یہ تقریبا 202 روپے اور 61 پیسے فی یونٹ بنتا ہے۔ بجلی کے فی یونٹ میں ایک روپے 95 پیسے کا اضافہ کرنے جارہے ہیں۔ مشکل معاشی حالات کے باوجود پاور سیکٹر کیلئے 473 ارب روپے سبسڈی دی۔پریس کانفرنس  کرتے ہوئے و فاقی وزیر منصوبہ بندی  ترقی و اصلاحات  اسد عمر نے کہا کہ  گزشتہ چند ماہ سے معیشت سے متعلق اچھی خبریں آر ہی ہیں، پاکستان کی معیشت بہتری کی طرف جا رہی ہے، ہماری برآمدات میں اضافہ ہورہا ہے۔وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ بڑی صنعتوں کی پیدوار میں نومبر کے مہینہ میں اضافہ نظر آیا۔ بڑی صنعتوں کی پیدوار میں 15 فیصد اضافہ نظر آیا۔ ترقیاتی منصوبوں کے تحت 208 ارب روپے کے ترقیاتی کام کرائے گئے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 8 سال میں پہلی بار پہلے 6 ماہ میں سب سے زیادہ بجٹ کا استعمال ہوا۔ بجلی کے استعمال میں 8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بجلی کے مسائل ہماری حکومت کوورثے میں ملے۔ معیشت کا پہیہ تیزی سے چلنا شروع ہوچکا ہے۔اسد عمر  مزید کہا کہ  ملکی برآمدات میں اضافہ خوش آئند ہے،طویل عرصے کے بعد کرنٹ اکاونٹ سرپلس ہے۔ ان فیصلوں کی قیمت ادا کرنے کیلئے 9 روپے فی یونٹ بجلی کی قیمت بڑھانا پڑی۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے توانائی تابش گوہر نے کہا کہ آئی پی پیز کے ساتھ  نئے معاہدوں سے شعبہ توانائی پر مالی بوجھ کم ہوگا۔ گردشی قرضوں میں کمی کیلئے حکومت نے بڑیاقدامات کیے ہیں۔ بجلی کی طلب میں گزشتہ چندسال میں کمی آئی ہے۔تابش گوہر نے کہا کہ گردشی قرضوں میں کمی کیلئے حکومت نے بڑے اقدامات کیے۔ قواعدوضوابط کے مطابق توانائی معاہدے کیے۔ آئی پی پیز کیساتھ نئے معاہدوں سے 6 ہزار ارب روپے کا بوجھ کم ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بجلی کی طلب میں گزشتہ چند سال میں کمی آئی ہے۔ بجلی چوری روکنے کے لیے صوبوں سے مذاکرات کریں گے۔ 450 ارب روپے بقایا جات کی ادائیگی رواں سال کردی جائے گی۔ ساڑھے 3 ہزارمیگاواٹ کے پرانے پاور پلانٹس بند کردیں گے۔