155

جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی

ارفعہ ساجد

آخر یہ بستی صرف اپناپاکستان ہے یا یہ الارض اللہ۔ ہمارے حکمرانوں کا رونا روئوں یا اس گلوبل ویلیج کو برباد کرنے کے عوامل کا ذکر کروں؟کا ئنات کی وسعت و پہنائی اربوں کھربوں نوری سالوں کی جمع و ضرب پر محیط ہے۔ اس میں خدا کی اس بستی کی حیثیت اس وسعت کے مقابلے میں رائی کے ہزارویں حصے سے بھی کم ہے۔ اس پر بھی اشرف المخلوقات نے وہ فساد اور افتراق پیدا کیا ہے کہ stephen hawkingکے بقول یہ ایک ہزار سال سے زیادہ نہیں جی سکتے۔ ظلم و بربریت کی یہ داستان طوفانِ نوح سے لے کر بنی اسرائیل، عادوثمود، شدادوحداد، طالوت و جالوت، بائبل و نینوا اور پومیی آئی سے آگے تک دہرائی جا چکی ہے۔ تہذیبِ مصر، ایرانی ہندوستانی تہذیب۔ رومتہ اکھڑ کا اور مایانی تہذیب۔ حارابی اور اشوری تہذیب۔ ہندوستانی اور چینی تہذیب ۔ اور ان کی عروج و زوال کی داستان نگہ بازگشت کے لیئے کافی ہے۔ظہر الفساد فِی البرِ والبحرِ:خشکی اور تری پر فساد ہی فساد برپا ہے۔ انسان کے عیوب کی کوئی حد ہی نہیں؟ تشہقوت کی بد مستی اور جذبہ تفرق کی بد لگامی۔ دنیائیت اور کمینگی، دوں ہمتی اور پست فطرتی۔ عذاری اور دروغ بانی۔ بہانہ سازی اور فریب کاری۔ مکاری اور عیاری۔ منافقت اور تلون مزاجی۔ سہل انگاری اور تن آسانی۔ ضعفِ خودی اور عدم یقین کے انسانیت کش جراثیم رگ و پے میں سرایت کر چکے ہیں۔ نہ ان کی بات کا اعتبار نہ وعدے کا یقین۔ نہ ان کے کفر میں پختگی نہ ایمان میں استقلال۔ ادنی سے لالچ پر بڑی سے بڑی متاعِ انسانیت کو بیچ ڈالنے پر آمادہ۔ اور ذرا سا خوف زندگی کے ہر گوشے پر موت طاری کر دینے کے لیئے کافی:وہ ہر بلند ہونے والی آواز کو اپنے خلاف ہی سمجھ لیتے ہیں کہیں کسی پتے کی کھڑکھڑاہٹ ہوئی اور وہ لگے کانپنے کہ موت آئی ۔ نہ ان کی اطاعت میں کیفیتِ جانثاری اور نہ ان کی سرکشی میں رنگِ خود اعتمادی۔ نہ ان کے قیام میں شکوہ خسروی نہ ان کے رکوع میں فطرتِ روح الامین۔ کھڑے ہیں تو کسی کٹھ پتلی کی طرح کسی دوسرے کی تار کے سہارے اور جھکے ہیں تو جذبہ تشکر اور احسان مندی سے نہیں ۔ نہ اس میں صداقت نہ اس میں خلوص۔ یہ بھی خود فریبی۔ وہ بھی خود فریبی۔ بلکہ اس لیئے کہ کھڑے ہونے کی طاقت نہیں رہی۔

دین و دانش را غلام ارزاں دہد

تا بدن را زندہ دارد جاں دہد

اور دوسری طرف نشہ قوت و حکومت سے استیلا و تغلب اور استبداد تمرد انسان کے ''انا الموجود لا غیری''کے ابلیسیانہ تصور کے سوا ہی کچھ نہیں ۔غریبوں اور کمزوروں کو زندہ نہیں رہنے دیا جاتا۔ اس لیئے ان کا خون، ان کی آتشِ حکمرانی کی تسکین کا سامان فراہم کر سکتا ہے۔

اس سیلِ سبک سیر و زمیں گیر کے آگے

عقل و نظر و عِلم و ہنر ہیں خس و خاشاک

اور یہ صرف اس چھوٹی سی بستی، زمین، پر برپا ہے جس کی حیثیت کائنات کی وسعتوں کے مقابلے میں رائی کا ہزارواں حصہ ہے۔صرف پچھلی صدی میں جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوئم کی قتل و غارت کا اندازہ کر لیجیئے۔ لاکھوں نہیں رڑوڑوں لقمہ اجل بنا دیئے گئے۔ یہ عراق میں WMDکے نام پرکھیلا گیا مکروہ کھیل ابھی کل ہی کی بات ہے۔ Stratforکے مطابق ساڑھے تیرہ لاکھ افراد سے زیادہ قتل ہو چکے ہیں۔ اور بیس ہزار بچوں کی زمین دوز پناہ گاہ کو نیپام بموں سے اڑادینے کا دلدوز واقعہ کسے یاد نہیں؟اسی تھنک ٹینک کے مطابق افغانستان میں اب تک یہ دس لاکھ انسانوںکو ہڑپ کر چکی ہے۔ آج ایک طرف ملکِ شام کی اینٹ سے اینٹ بج رہی ہے تو دوسری طرف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان ستر ہزار نفوس سے زیادہ کا خراج ادا کر چکا ہے۔ پاکستان میں آئے دن ایک نیا نائن الیون برپا ہوا ہے۔ قدرت کا قانونِ مکافات اس بات کا چیخ چیخ کر اعلان کرتا ہے۔ کہ اس کی گرفت سے یہ حد سے بڑھ جانے والے لوگ بچ نہیں پائیں گے۔ ان کا حساب ضرورہوگا۔ ہو کر رہے گا۔

وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے

جو لوحِ ازل پہ لکھا ہے

جب ظلم و ستم کے کوہِ گراں

روئی کی طرح اڑائے جائیں گے

جب محکوموں کے پائوں تلے

جب دھرتی دھڑدھڑ دھڑ کے گی

اور اہلِ حکم کے سر اوپر

جب بجلی کڑکڑکڑکے گی۔

ہم دیکھیںگے

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے، ہم دیکھیںگے۔

سوال یہ ہے کہ قانونِ مکافات ان حد سے بڑھنے والوں کو کب اپنی گرفت میں لے گا؟ جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی، کب ان کا حساب ہوگا؟ابابیل آئیں گے ؟نہیں

خِضر کیونکر بتائے، کیا بتائے

اگر ماہی کہے دریا کہاں ہے

دیو استبداد کو اگر شکست فاش دی جا سکتی ہے اس کاطریقہ صرف قرآن کی دعوت میں موجود ہے۔ یارو جو دین پانی کی فالتی بوندیں بہانے کا درس نہیں دیتا وہ دوسرے انسان کا خون بہانے کا درس کیسے دے سکتا ہے؟ صرف اتنا کہنا چاہوں گی: فکرِ جدید کا ماہر پروفیسر sheenکہتا ہے۔ سنیئے مشرق کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ اس نے سمجھ رکھا ہے خدا ہی سب کچھ کرتا ہے اور مغرب کی غلطی یہ ہے کہ اس نے سمجھ رکھا ہے کہ انسان ہی سب کچھ کرتا ہے۔ یہ دونوں تصورات افراط و تفریط کے مظہر ہیں۔

اقبال نے اس دریا کو یوں کوزے میں بند کیا ہے:

دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے

کھرا ہے جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی

جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا