29

درست اورعوامی امنگوں کا عکاس فیصلہ


 وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کشمیر کو حق خود ارادیت دئیے بغیر بھارت کے ساتھ تعلقات نارمل نہیں ہوسکتے۔وفاقی کابینہ نے بھارت سے چینی اور کپاس منگوانے کی ای سی سی کی تجویز بھی مسترد کردی تھی۔کابینہ نے کہا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں پانچ اگست2019سے پہلے کی آئینی صورتحال بحال کرے، آرٹیکل 370 کی بحالی تک بھارت سے کسی قسم کی تجارت نہیں ہو سکتی۔ ای سی سی نے گزشتہ دنوں بھارت میں قیمت کم ہونے پر کاٹن منگوانے کی تجویز منظور کی تھی۔ وزیر خزانہ حماد اظہر کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا تھا جس میں بھارت سے پانچ لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔وفاقی وزیربرائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ جب تک مودی انتہا پسندی کی پالیسی سے پیچھے نہیں ہٹتے بھارت سے تجارت نہیں ہوسکتی۔ وزارت خزانہ کا موقف ہے بھارت سے تجارت میں فائدہ ہے، پاکستان کے بھارت سے تعلقات بہترنہیں، براڈ شیٹ کمیشن کی رپورٹ میں تجویزکردہ اصلاحات بہت اہم ہیں، جب تک مودی انتہا پسندی کی پالیسی سے پیچھے نہیں ہٹتے بھارت سے تجارت نہیں ہوسکتی۔ کشمیر میں قید و بند کی صعوبتیں لوگ برداشت کررہے ہیں، سیاسی نقطہ نظر سے ہمارے تعلقات بھارت سے اچھے نہیں ہیں لیکن پاکستان بھارت سے تعلقات میں بہتری سمیت خطے میں امن چاہتا ہے، کیا لاکھوں مسلمانوں کے خون کو بھول جائیں؟ بھارت سے چینی اور کپاس کی تجارت ممکن نہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ای سی سی کا فیصلہ حکومت کا نہیں ہوتا تمام وزارتیں اپنے اپنا موقف پیش کرتی ہیں اور فیصلہ کابینہ کرتی ہے۔جاعت اسلامی سندھ کے جنرل سیکرٹری کاشف سعید شیخ نے پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے بھارت کے ساتھ تجارتی روابط کی بحالی، چینی، کپاس اور دھاگہ درآمد کرنے کی منظوری کو کشمیر کے ایک کروڑ سے زائد مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی، پاکستان کے شہ رگ سے غداری کے مترادف قراردیا تھا۔ان کا کہنا تھامسلمانوں کے سب سے بڑے قاتل مودی کی جانب سے کشمیر کی بھارتی آئین میں دی گئی خصوصی حیثیت کے خاتمے، کشمیر میں بھارتی شہریوں کو بسانے کے اعلان کے بعد گزشتہ دو سالوں سے زائد عرصے سے کشمیری عوام کیلئے زمین تنگ کر دی ہے، تمام ٹاپ لیڈرشپ نظربند اور ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار، جبکہ آئے روز جعلی جھڑپوں میں نوجوانوں کو شہید کیا جا رہا ہے۔ تمام تر ظلم و بربریت کے باوجود کشمیری عوام اپنی آزادی کے ایجنڈے سے ایک انچ بھی ہٹنے کیلئے تیار نہیں ہیں، لیکن پاکستان کے موجودہ اور سابقہ حکمرانوں نے بھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھانے اور تجارتی روابط کی بحالی سے کشمیریوں کے پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔موجودہ حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہیئے کہ بھارت کے ساتھ کسی قسم کے بھی روابط کی بحالی کشمیری عوام کی آزادی اور بھارتی ریاستی مظالم کے بند ہونے تک نہیں کی جا سکتی۔ بھارت ایک جانب کشمیر کی ریاستی حیثیت کو ختم، کشمیریوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے مذموم عزائم کے ایجنڈے پر سختی سے عمل کر رہا ہے، تو دوسری جانب پاکستانی حکمران تجارتی روابط کی بحالی کے ذریعے مودی جیسے فاشسٹ کے ہاتھ مضبوط کرکے کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کو کمزور کرنے کے بھارتی منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں معاون ثابت ہوئے ہیں، جسے پاکستان کے بائیس کروڑ عوام ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ جماعت اسلامی روز اول سے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے، ہم حکمرانوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ عالمی سامراجی ایجنڈے کی تکمیل اور بھارت کی خوشنودی کی بجائے کشمیری عوام کی خود مختاری، اپنی شہ رگ کو آزاد کروانے کیلئے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیری عوام کے امنگوں کے عین مطابق سفارتی پالیسی اپنائے۔ماضی میں تاجر کہہ چکے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت کی بندش سے دونوں ممالک کا نقصان ہوگا لیکن یہ تجارت کشمیر کی قیمت پر پاکستانی تاجروں اور عوام کو کسی صورت قبول نہیں ہوگی۔ مسئلہ کشمیر اور سرحدی تنازعات کی وجہ سے پاک بھارت تجارت پچھلی دو دہائیوں میں کئی مرتبہ معطل رہ چکی ہے۔ رواں برس پلوامہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور بھارت کی طرف سے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے بعد سے یہ دو طرفہ تجارت تقریبا بندش کا شکار ہے۔ پاکستان بھارت کو 383ملین ڈالر کی اشیا برآمد کرتا ہے جس میں کھجور کی برآمدبانوے ملین ڈالر، سیمنٹ کی تریسٹھ ملین ڈالر اور چمڑے کی بنی اشیا13.7ملین ڈالر ہے، جبکہ دوسری جانب پاکستان بھارت سے1.9بلین ڈالر کی اشیا درآمد کرتا ہے  جس میں پاکستان، بھارت سے344ملین ڈالر کی کاٹن درآمد کرتا ہے جو ہماری ٹیکسٹائل انڈسٹری میں خام مال کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ پاکستان بھارت کو جو اشیا برآمد کرتا ہے ان میں سب سے زیادہ کھجوریں اور سیمنٹ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ چمڑہ، جپسم، کین شوگر، مختلف آئل سیڈز، سکریپ اور سرجیکل آلات شامل ہیں ۔ بھارت سے پاکستان جو کچھ درآمد کرتا ہے ان میں سرفہرست کاٹن ہے اس کے علاوہ کاٹن یارن، سنتھیٹک اور آرگینک کلرنگ میٹریل وغیرہ شامل ہیں۔پاکستان کچھ عرصہ پہلے تک مرغیوں کی فیڈ بنانے کے لیے بھارت سے سویابین بیج درآمد کرتا تھامگر اب وہ یہ بیج ارجنٹائن سے منگواتا ہے ۔ بھارت سے تجارت کرنے میں  سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اگر ایک پٹاخا ادھر چلتا یا ادھر دونوں صورتوں میں ہمسایہ ممالک کے درمیان تجارت کو روک دیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے پاکستانی انڈسٹری ایک ناقابل اعتبار ذریعہ پر انحصار کرنے لگی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے آئل ایکسٹریکشن پلانٹ والوں نے ارجنٹائن اور امریکہ سے سویا بین کے بیج درآمد کر کے یہاں مقامی طور پر اسے کرش کر کے تیل نکالنا شروع کر دیا۔ یہ طریقہ پاکستان کے لیے تب فائدہ مند ہو گا جب پاکستان ملک کے اندر سویا بین کے بیج پیدا کر سکے۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس کی سرحد دنیا کی آدھی آبادی کے ساتھ لگتی ہے اس لیے ہمیں تو اپنی تجارت پر زیادہ توجہ دینی چاہیے تاکہ ہم دنیا کی آدھی آبادی کے ساتھ تجارت کرسکیں۔ اب بھارت یہ چاہتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ جاری مسائل بھی حل نہ ہوں اور تجارت بھی چلتی رہے اور تجارت بھی وہ والی جس کا فائدہ صرف بھارت کو ہو اور پاکستان ہمیشہ نقصان ہی اٹھائے۔ خطے میں تجارت بہت ضروری ہے لیکن کشمیر کی قیمت پر نہیں۔ حکومت بھارت کو نمک بھیجنا بند کرے۔ ان کے مطابق اگر بھارت کشمیر پر قبضہ کر کے مسئلہ خراب کر سکتا ہے تو پھر ہمیں بھی یہ نمک روک لینا چاہیے۔ بھارت پاکستان سے نمک کا پتھر منگوا کر اسے وہاں پراسیس کر کے دیگر ممالک میں  برآمد کر رہا ہے جس پر میڈ ان انڈیا لکھا ہوتا ہے اور اس چیز پر ہمیں بالکل بھارت کے ساتھ کوئی سمجھوتا نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں نہ انہیں نمک بھیجنا چاہیے نہ جپسم۔پاکستان بھارت سمیت مختلف ممالک کوخام نمک برآمد کرتا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ حل ہونا پوری دنیا کے لیے بہت ضروری ہے۔ پاکستان اور بھارت میں کشیدگی پوری دنیا کی تجارت پر منفی اثر ڈالے گی۔ پاک بھارت تجارت پر کوئی دوسری رائے نہیں ہمیں کشمیر کا مسئلہ حل کرنا چاہیے پوری دنیا کا فائدہ اسی میں ہے۔ اگر پاک بھارت سرحدیں تجارت کے لیے بند ہیں تو دوسرے راستوں سے تجارت قابل عمل نہیں ہوگی ۔ جیسے ایک ٹرک اگر امرتسر سے واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان داخل ہوتا ہے تو سرحد بند ہونے کی صورت میں وہ پہلے پورے بھارت سے ہوتا ہوا ممبئی سی پورٹ پر جائے، پھر وہاں سے بحری جہاز کے ذریعے کراچی اور پھر وہاں سے لاہورکہیں اور۔ یہ طریقہ قابل عمل نہیں رہے گا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت کا کوئی مستقبل نظر نہیں آرہا خاص طور پر اب جب بھارت کشمیر پر قبضہ کی کوشش کر رہا ہے۔ تجارت دونوں ممالک کے درمیاں سازگار حالات کی بنیاد پر ہی کی جاسکتی ہے۔ وہ ملک جو ہر میدان میں پاکستان کو ناکام بنانے کی سعی کرتا ہے اس سے تجارت مناسب نہیں ہم جانتے ہیں کہ اس نے پاکستان میں کرکٹ کو ختم کرنے کے لیے کیانہیں کیا کیونکہ وہ ہمیں معاشی طور پر کمزور کرنا چاہتا ہے اس لیے ہمیں بھی اسے کوئی فائدہ پہنچانے سے گریز کی راہ اختیار کرنا ہو گی۔