160

سی پیک اور گلگت بلتستان

وزیراعلی گلگت  بلتستان خالد خورشید سے کیمپ آفس اسلام آباد میں چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل رعاصم سلیم باجوہ نے ملاقات کی۔ وزیراعلی گلگت  بلتستان خالد خورشید نے چیئرمین سی پیک اتھارٹی  سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلگت  بلتستان کیلئے سی پیک میں خصوصی منصوبے شامل کئے جائیں تاکہ گلگت  بلتستان کے عوام کو سی پیک کا فائدہ پہنچے۔ گلگت  بلتستان کیلئے کے آئی یو 100میگاواٹ، 80 میگاواٹ پھنڈر، گلگت چترال ایکسپریس وے اور گلگت  بلتستان میں اکنامک زون کی سی پیک منصوبوں میں منظوری کو یقینی بنایا جائے۔ گلگت  بلتستان میں انٹرنیٹ کا مسئلہ ہے ۔ فائبر آپٹک سے گلگت  بلتستان کو لنک کیا جائے تاکہ گلگت  بلتستان میں انٹرنیٹ کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل ہو۔ گلگت  بلتستان میں سیاحت کے فروغ کیلئے سیاحوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور نئے سیاحتی مقامات کیلئے خصوصی منصوبے سی پیک میں شامل کئے جائیں۔اکنامک زون کیلئے صوبائی حکومت نے زمین مختص کی ہے۔ گلگت  بلتستان میں ٹیکنیکل تعلیم پر توجہ دینے اور جدید روڈ انفراسٹرکچر کے منصوبوں کو سی پیک میں شامل کیا جائے تاکہ سی پیک منصوبے کے ثمرات سے گلگت  بلتستان کے عوام بھی مستفید ہوں۔ اس موقع پر چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال سی پیک کے ثمرات گلگت  بلتستان کے عوام کو ملنے شروع ہوں گے۔ گلگت  بلتستان کی اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ سی پیک اور گلگت  بلتستان لازم و ملزوم ہے۔ سیاحت کے فروغ اور مواصلات کے نظام کو بہتر بنانے اور گلگت  بلتستان میں انٹرنیٹ کی سہولت کو بہتر بنانے کیلئے منصوبے شروع کئے جائیں گے۔ گلگت  بلتستان میں موجود توانائی کے مواقعوں سے استعفادہ حاصل کرتے ہوئے پاور سیکٹر میں نئے منصوبے سی پیک میں شامل کئے جائیں گے۔ چیئرمین سی پیک اتھارٹی جنرل عاصم سلیم باجوہ نے گلگت  بلتستان کی تعمیر و ترقی کیلئے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔سی پیک بلاشبہ ملکی ترقی کا اہم ترین منصوبہ ہے جس میں تمام صوبوں کو ان کا شیئر دینے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن اس کے باوجود اس سلسلے میں تحفظات پائے جاتے ہیں بالخصوص گلگت بلتستان سے یہ آوازیں سنائی دیتی رہی ہیں کہ گلگت بلتستان کو اس اہم منصوبے سے جو حصہ ملا ہے وہ نہ ہونے کے برابر ہے' وزیراعلی گلگت بلتستان نے جن منصوبوں کو سی پیک میں شامل کرنے کا کہا ہے حکام بالا کو انہیں سی پیک میں شامل کرنا چاہیے۔پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ پاکستان اور چین کے درمیان دنیا کا سب سے بڑا سرمایہ کاری کا منصوبہ ہے یہ منصوبہ خنجراب سے شروع ہوکر گوادر میں اختتام پذیر ہوگا ،سی پیک کے حوالے سے گلگت بلتستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس منصوبے کی پانچ سو کلومیٹر سڑک جی بی سے گزرے گی اس میگا پروجیکٹ کو تمام صوبوں کے عوام ملکی ترقی کا اہم ذریعہ سمجھتے ہیں اور اس منصوبے سے ملک میں نئے دور کا خواب دیکھ رہے ہیں ،اسی طرح گلگت بلتستان کے لوگ بھی اس اہم پروجیکٹ کو خطے کے لیے ترقی کا ذریعہ سمجھتے ہیں  لیکن ماضصی میں جو اعداد وشمار سامنے آتے رہے ان سے ظاہر ہوتا تھا کہ سی پیک کے کل انچاس جاری ترقیاتی منصوبوں کی فہرست  میں بلوچستان سولہ ،سندھ تیرہ ،پنجاب بارہ خیبر پختونخوا آٹھ جبکہ گلگت بلتستان میں کوئی ایک بھی منصوبہ شامل نہیں کیا گیا ،جسکی وجہ سے جی بی کے عوام میں احساس کمتری اور غم وغصہ پایا جاتا تھا لہذا وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ دیگر صوبوں کی طرح جی بی کے ساتھ بھی مساوی سلوک کرے اور یہاں بھی اکنامک زونز قائم کرکے جی بی کو رائیلٹی میں حصہ دیاجائے ،حکومت کو اس گیم چینجر منصوبے کو کامیاب کرنے کے لیے تمام صوبوں کو ساتھ لیکر چلنا ہوگا کہا جاتا ہے کہ اس منصوبے سے مال بردار گاڑیوں کی وجہ سے جی بی کا قدرتی حسن اور صاف ماحول بھی تباہ وبرباد ہوجائے گا اس کوبرقرار رکھنے کے لیے موثر حکمت عملی بنائی جائے سی پیک کے بدلے گلگت بلتستان کو گردوغبار اور دھواں دینے کے بجائے بہتر نمائندگی دی جائے ۔ پاکستان میں چین کے سفیر یو جنگ کہہ چکے ہیں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبوں میں گلگت بلتستان کا کردار کلیدی ہے اور اس خطے کے رہائشیوں کو بہترین سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا تھا کہ چین کی حکومت گلگت بلتستان اور سنکیانگ کے مابین تجارتی تعلقات کی بنیاد پر ترقی کی خواہاں ہے۔یو جنگ کا کہنا تھا کہ دونوں حکومتوں کے مابین گرین چینل کے ذریعے تازہ اور خشک میوہ جات کی درآمدی منصوبہ تشکیل طے پاچکا ہے لیکن پاکستانی کسٹمز حکام منصوبے پر عملدرآمد کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں۔پھر اس منصوے کو لاحق خطرات کی بات بھی کی جا چکی ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ  وفاقی وزیر داخلہ نے گلگت بلتستان کی وزارت داخلہ کو خبر دار کیا تھا کہ بھارت، پاک چین اقتصادی راہداری کی تنصیبات پر حملے کرواسکتا ہے۔ آگاہ کیا گیا تھا کہ بھارت نے چار سو نوجوان مسلمانوں کو افغانستان میں ٹریننگ کے لیے بھیجا جنہیں سی پیک کے ذیلی منصوبے مثلا قراقرم ہائی وے اور دیگر اہم تنصیبات پر حملے کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔ گلگت،دیا میر اور بلتستان کے ڈی آئی جیز کو ممکنہ بھارتی شر پسند ی کے حوالے سے خصوصی ہدایات جاری کی گئی تھیں اور کے کے ایچ پر خصوصی طور پر سیکیورٹی اہلکاروں کی تعینیاتی کو یقینی بنایا گیا تھا۔گلگت پولیس نے دعوی کیا تھا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی راء کے تعاون سے سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے اور پاکستان مخالف جذبات کو ہوا دینے کے لیے تیار منصوبے کو ناکام بنایا تھا۔بہت سے لوگ گرفتار کیے گئے تھے جنہیں راء نے فنڈنگ کی تھی تاکہ گلگت بلتستان میں بدامنی پھیلائی جائے اور سی پیک منصوبوں کو سبوتاژکیا جا سکے۔سی پیک ٹریلین ڈالر منصوبہ ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ حقیقت میں گیم چینجر ہے لیکن بروقت ادراک کرتے ہوئے منصوبہ بندی کریں تب۔یہ اتنا بڑا منصوبہ ہے کہ تکمیل کے بعد پاکستان کا معاشی منظر نامہ بدل سکتا ہے، چونکہ گلگت بلتستان سی پیک کے دامن میں واقع ہونے کی وجہ سے اس کی اہمیت مسلمہ ہے، اس بات کا اعتراف خود چین بھی کرتا ہے۔ چین کی حکومت گلگت بلتستان اور سنکیانگ کے مابین تجارتی تعلقات کی بنیاد پر ترقی کی خواہاں ہے۔ازاں بعد محکمہ اطلاعات گلگت بلتستان کی طرف سے کہا گیا تھا کہ چینی کمپنیاں سومیگاواٹ کے آئی یو اور اسّی میگاواٹ پھنڈر پروجیکٹس تعمیر کریں گی، ان منصوبوں کی تکمیل سے گلگت بلتستان کو قلیل عرصے میں بجلی میسر آئے گی جس سے سیاحت کے فروغ، تعمیر وترقی کی رفتار کو بڑھانے سمیت اسپیشل اکنامک اور انڈسٹریل زونز، کینسر اسپتال، میڈیکل کالج و کارڈیک اسپتال، وومن یونیورسٹی اور سی پیک کے انفرااسٹرکچر کے لیے توانائی کی ضروریات پوری ہوں گی۔اس کے علاوہ اسپیشل اکنامک زونز کے لیے تیار کی جانے والی فزیبلٹی رپورٹس میں مقپون داس گلگت بھی شامل تھا۔ سوشیو اکنامک سیکٹر کے منصوبوں کے لیے چھ مدوں کی نشاندہی کی گئی تھی اور ان کو سی پیک میں شامل کرلیا گیا' گلگت شندور روڈ کو سی پیک میں شامل کردیا گیا تھا۔کہا گیا تھا کہ گلگت میں سپیشل اکنامک زون کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جس میں سیاحت سے متعلق منصوبوں پر زور دیا گیا ہے کیونکہ سیاحت اس علاقہ میں ترقی پانے والا بہترین سیکٹر ہے ۔ قراقرم ہائی وے پر بابو سر پاس کے ٹاپ پر سرنگ کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جو اسے ہر موسم کا روڈ بنا دے گی، دیامر بھاشا ڈیم کی جانب جانے والے روڈ کو رکاوٹیں ہٹا کر دوبارہ نئی شکل دی جارہی ہے ، گلگت بلتستان کو چترال اور دیر سے ملانے والے متبادل روڈ کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ، اس روڈ سے شمالی علاقوں کے لوگوں کو سارا سال کی رسائی مل جائے گی اور یہ چین اور پاکستان کو ملانے والی متبادل روڈ بھی بن جائے گا، چین سے ہنزہ ، گلگت اور دیگر علاقوں میں مقامی آبشاروں کی بنیاد پر مائیکرو ہائیڈل پاور پلانٹس کی فراہمی کا تقاضا کیا گیا تھا تاکہ بجلی کی فراہمی کیلئے بڑی ٹرانسمیشن لائنز اور گرڈز کی ضرورت نہ رہے ، کئی سیاحتی زونز بھی بنائے جائینگے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سی پیک  میں گلگت بلتستان کے منصوبوںکے حوالے سے یہاں کے عوام جن تحفظات و خدشات کا اظہار کر رہے ہیں انہیں دور کیاجائے' وزیراعلی نے حالیہ مذکورہ ملاقات میں جن منصوبوں  کو سی پیک میں شامل کرنے کا کہا ہے انہیں بلاتاخیر سی پیک میں شامل کیا جائے تاکہ یہاں کے لوگوں کا احساس محرومی ختم ہو سکے۔