67

عظیم کوہ پیما محمد علی سدپارہ


 اسکردو میں صوبائی وزیر سیاحت راجہ ناصر علی خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک کے مشہور اور عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما محمد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے اپنے والد کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ علی سدپارہ اپنے دو غیر ملکی ساتھیوں کے ہمراہ کے ٹو کی مہم جوئی کے دوران لاپتہ ہوئے، مجھے اور کئی انٹرنیشنل کوہ پیمائوں کو یقین ہے کہ انہیں کے ٹو سر کرنے کے بعد واپسی پر حادثہ پیش آیاجس بلندی پر حادثہ ہوا تھا وہاں چند گھنٹوں سے زیادہ زندہ رہنا ممکن نہیں تھا۔ساجد سدپارہ کا کہنا تھا کہ میرا خاندان انتہائی شفیق باپ سے، پاکستانی قوم سبز ہلالی پرچم سے جنون کی حد تک محبت کرنے والے محب وطن قومی ہیرو سے اور دنیا ایک بہادر اور با صلاحیت مہم جو سے محروم ہوئی ہے، دکھ اور غم کی اس گھڑی میں ہم سب ایک دوسرے کے لیے سہارا بنیں گے اورمیں اپنے والد کے مشن کو جاری رکھوں گا اور ان کے ادھورے خواب پورے کروں گا۔علی سدپارہ کے بیٹے نے کہا کہ پاکستانی قوم کی محبت میرے خاندان کے لیے انتہائی حوصلے اور ہمت کا باعث بنی، وزیر اعظم عمران خان اور پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ، عسکری ایوی ایشن اسکردو کے بہادر پائلٹس، وزیر اعلی خالد خورشید اور فورس کمانڈر میجر جنرل جواد قاضی، سابق فورس کمانڈر جنرل احسان محمود کا مشکور ہوں کہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں تمام دستیاب وسائل استعمال کئے گئے، اس طویل ریسکیو آپریشن میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی، ورچوئل اینڈ فزیکل بیس کیمپ ٹیم کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ساجد سدپارہ نے بتایا کہ علی سدپارہ نے انتھک محنت، بہادری اور ہنرمندی سے آٹھ ہزار سے بلند آٹھ چوٹیاں سر کیں، نانگا پربت کو پہلی بار سردیوں میں سر کر کے ورلڈ ریکارڈ بنایا، جبکہ اسی چوٹی کو چاروں موسموں میں سر کرنے کا بھی ریکارڈ میرے والد کے پاس ہے، دنیا بھر کے کوہ پیمائوں نے شاندار الفاظ میں انہیں خراج عقیدت پیش کیا، علی سدپارہ گلگت بلتستان کے نوجوانوں کے لیے عالمی معیار کا ایک کلائمنگ اسکول تعمیر کرنا چاہتے تھے،وزیر اعظم اور آرمی چیف ،علی سدپارہ کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے میری مدد کریں۔صوبائی وزیر راجا ناصر کا کہنا تھا محمد علی سدپارہ اور ساجد سدپارہ کو سول اعزازت سے نوازا جائے گا، وفاقی حکومت کو سکردو ائیر پورٹ کو محمد علی سدپارہ سے منسوب کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔قومی ہیرو کے بچوں کو تعلیمی سکالرز شپ دیے جائیں گے اور ان کے خاندان کی مالی معاونت بھی کی جائے گی، جب کہ حادثات کا شکار ہونے والے کوہ پیمائوں کے خاندانوں کی کفالت کیلئے باقاعدہ قانون بنایا جائے گا۔عظیم کوہ پیما محمد علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوں کا موسم سرما میں ریکارڈ مہم سے واپسی کے دوران لاپتہ ہونا اور تلاش بسیار کے باوجود ان کا سراغ نہ لگایا جانا پوری قوم کے لیے شدید دکھ اور صدمے کا باعث ہے کیونکہ قوم اپنے ہیرو کو جلد اپنے درمیان دیکھنے کی خواہاں تھی لیکن مشیت ایزدی کے سامنے کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں۔ پنتالیس سالہ علی سدپارہ کو موسم سرما میں دنیا کی بلند ترین چوٹی نانگا پربت سر کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ کوہ پیمائی میں اپنی مہارت کی وجہ سے انہیں قومی اور بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل ہوئی۔علی سدپارہ  نے پورٹر کی حیثیت سے کوہ پیائی میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔محمد علی سدپارہ کے معاشی حالات ابتدا میں کچھ اتنے اچھے نہیں تھے۔ اس مقام تک پہچنے کے لیے انھوں نے انتھک محنت اور جدوجہد کی تھی۔انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ہائی ایلٹیٹیوڈ پورٹر کی حیثیت سے کیا۔ وہ ایسے پورٹر بنے جو کوہ پیمائوں کے ساتھ بلندی پر جاتے اور پہاڑ سر کرنے میں ان کی مدد کرتے اور ان کا سامان اٹھاتے۔ بحثیت پورٹر سدپارہ اپنا کام انتہائی محنت اور ایمانداری سے کرتے اور پورٹر ہونے کے ساتھ انہوں نے کوہ پیمائی سیکھنا شروع کی۔تھوڑے عرصے میں کوہ پیمائی میں مہارت حاصل کرنے کے بعد انہوں نے خود نہ صرف نجی حیثیت میں کوہ پیمائی شروع کر دی تھی بلکہ وہ کوہ پیمائوں کے لیے فکسر کی خدمات بھی انجام دیتے تھے۔ دنیا کے کئی بڑے کوہ پیمائوں کی تاریخ ساز کامیاب مہموں میں علی سدپارہ کی محنت کارفرما تھی۔ علی سدپارہ ان کوہ پیمائوں کے لیے دشوار گزار پہاڑی راستوں پر رسیاں باندھتے جن کی مدد سے کوہ پیما چوٹیاں سر کرنے میں کامیاب ہوتے۔ علی نے اپنی دنیا خود پیدا کی تھی۔جب انہوں نے جب پورٹر کا کام شروع کیا تو اس وقت غیر ملکی کوہ پیمائوں کا پچیس کلو سامان اٹھانے کے یومیہ تین ڈالر ملا کرتے تھے۔کوہ پیمائوں کے ساتھ مزدوری کرنا بھی ایک فن ہے۔یہ فن تقریبا کوہ پیمائی جیسا ہی ہے۔ محمد علی سدپارہ نے یہ کام بہت جلد ہی سیکھ لیا تھا۔محمد علی سد پارہ کی زندگی میں پہلی بڑی تبدیلی پاکستان فوج کے لیے سیاچن تک سازوسامان پہنچانے کے لیے بحیثیت پورٹر خدمات فراہم کرنا تھا۔کوہ پیمائی کے وسائل نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے کئی سال تک پورٹر کی حیثیت سے کام کیا تھا۔ محمد علی سد پارہ پہاڑوں کا بیٹا تھا۔ پہاڑ اور کوہ پیمائی ان کے خون میں شامل تھے۔ اس لیے کوئی خاص مدد حاصل نہ ہونے کے باوجود بھی وہ جلد کامیابیاں حاصل کرتے چلے گئے۔ علی گذشتہ صدی کے بہترین کوہ پیما تھے۔ شاید پاکستان میں دوبارہ کوئی اور محمد علی سد پارہ پیدا نہیں ہو سکے گا۔ اگر محمد علی سد پارہ کے پاس وسائل ہوتے تو اس کے کارناموں اور ریکارڈز کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہوتی جو اب ہے۔ وہ کوہ پیمائی کے ساتھ کوہ پیمائوں کے لیے فکسر کا کام شوق میں نہیں کرتے تھے بلکہ مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے کرتے تھے۔دنیا کی کئی خطرناک چوٹیوں میں وہ بہت سے کوہ پیمائوں کے لیے فکسر رہے۔ اگر ان کے پاس وسائل ہوتے تو وہ یہ چوٹیاں خود سر کرتے۔ ان کے ریکارڈ پر شاید اتنی فتوحات ہوتیں جن کے قریب بھی پہنچنا کسی کے بس میں نہ ہوتا۔ محمد علی سدپارہ تاریخ کے شاید وہ واحد کوہ پیما تھے جنہوں نے اپنی ہر مہم کو بغیر آکسیجن کے سر کیا۔ ایسا کرنا کسی دوسرے کوہ پیما کے بس کی بات نہیں۔ یہ صرف علی ہی کر سکتے تھے۔علی سدپارہ سادہ مزاج اور مخلص شخصیت کے مالک تھے۔ وہ دوسروں کے لیے راستے بناتے، رسیاں باندھتے اور دیگر طریقوں سے مدد کرتے۔علی سدپارہ خطرناک رکاوٹیں دور کرنے میں مدد فراہم کرتے تھے۔ کئی ایسے کوہ پیما ہیں جن کو خطرناک حادثے کا شکار ہونے سے انہوں نے ہی بچایا۔سدپارہ بہادر مگر انتہائی محتاط کوہ پیما تھے۔ جب سردیوں کی مہم کے دوران نانگا پربت پر انتہائی نامناسب حالات میں غیرملکی کوہ پیما ساتھیوں کے ہمراہ چوٹی سر کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو وہ انتہائی مایوس تھے مگر اس کے ساتھ وہ عزم کیے ہوئے تھے کہ اس کام کو اب دوبارہ اور جلد کرنا ہے۔اگلے سال انہوں نے اپنی ناکامی سے سیکھا اور نانگا پربت کو سردیوں میں فتح کر کے تاریخ رقم کر دی۔وہ پہاڑوں کے بیٹے تھے جو کوہ پیمائی کے دوران رک کر اپنی زندگی پر دوسروں کی مدد کو ترجیح دیتے تھے کوہ پیمائی میں ایسا نہیں کیا جاتا کیونکہ چلتے چلتے رکنا اپنی موت کو دعوت دینے کے مترادف ہوتا ہے۔ سخت سردی ہوتی ہے، جسم ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور اس کے انتہائی خطرناک نتائج ہوتے ہیں۔ علی سدپارہ کے لیے مہم جوئی صرف شوق ہی نہیں بلکہ جنون اور عشق تھا۔ موسم سرما میں کے ٹو سر کرنا ان کا خواب تھا۔ شاید یہی جنون اور عشق ان کی جان لے گیا۔دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کو سردیوں میں سر کرنے کی کوشش کے دوران پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ہوان پابلو موہر کے لاپتہ پونے کی خبر پانچ فروری کو سامنے آئی تھی۔اس آپریشن میں جہاں پاکستانی فوج کے ہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا وہیں ایک ورچوئل بیس کیمپ بھی قائم کیا گیا اور خود علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ بھی تلاش کے عمل میں شامل رہے لیکن کسی کو بھی ان کی تلاش میں کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ محمد علی سدپارہ اور ان کے ساتھی کے ٹو پر آٹھ ہزار میٹر سے زیادہ بلندی پر جہاں لاپتہ ہوئے تھے ماہرین کے مطابق وہاں کسی انسان کا دس سے بارہ گھنٹے سے زیادہ زندہ رہنا ناممکنات میں سے ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔