55

فارن فنڈنگ کیس، سماعت براہ راست دکھائی جائے، عمران خان

وزیراعظم نے کہا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کی اوپن سماعت ہونی چاہیئے، چیلنج کرتا ہوں فارن فنڈنگ کیس ٹی وی پر براہ راست دکھایا جائے، فارن فنڈنگ کیس میں پارٹی سربراہوں کو بٹھا کر کیس سننا چاہیئے۔کئی ممالک اپوزیشن کی جماعتوں کی فنڈنگ کرتے رہے ہیں لیکن تعلقات کی وجہ سے ان ممالک کے نام نہیں لے سکتا۔ مولانا فضل الرحمان مدارس کے بچوں کو استعمال کرکے حکومتوں کو بلیک میل کرتے ہیںہماری حکومت کا فلسفہ یہ ہے کی پیچھے رہ جانے والے لوگوں اور علاقوں کو اوپر لائیں۔جنوبی وزیرستان میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس اٹھانے پر اپوزیشن کا شکر گزار ہوں، یہ سب سامنے آنا چاہیے کہ تحریک انصاف اور اپوزیشن جماعتوں کی فنڈنگ کہاں سے ہوتی رہی، ساری دنیا میں سیاسی جماعتیں فنڈنگ کرتی ہیں، فارن فنڈنگ کیس کی کھلی سماعت ہونی چاہیے اور اسے ٹی وی پر براہ راست دکھایا جائے، پارٹی سربراہوں کو بھی بٹھا کر کیس سننا چاہیے، اس کیس سے ساری قوم کو پتا چلے گا کہ کس نے اس ملک میں ٹھیک طریقے سے پیسہ اکھٹا کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے بھیجے گئے ترسیلات زر سے ملک چلتا ہے، میں نے شوکت خانم اسپتال کی فنڈنگ سمندرپار پاکستانیوں سے کی، چیلنج کرتا ہوں کہ سیاسی فنڈ ریزنگ صرف تحریک انصاف نے کی۔ اپوزیشن کی جماعتوں کو معلوم ہے اور مجھے بھی پتا ہے کہ فارن فنڈنگ کونسی ہے، اوورسیز پاکستانی فارن فنڈنگ نہیں ہیں، کئی ملک اپوزیشن جماعتوں کو پیسے دیتے رہے، ان ممالک سے تعلقات کی وجہ سے میں بتا نہیں سکتا۔مولانا فضل الرحمان پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن مدارس کے بچوں کو استعمال کرکے حکومتوں کو بلیک میل کرتے ہیں، ان کی اربوں روپے کی جائیداد کہاں سے آئی، وہ این آر او کے لیے بلیک میل کررہے ہیں، عوام سمجھدار ہیں وہ کسی کی چوری بچانے کے لیے نہیں نکلیں گے، یہ ہمارے عوام کی سیاسی سوچ کو نہیں سمجھتے۔ملک کے معاشی حالات پر وزیراعظم نے کہا کہ معاشی مشکلات کے باعث ہمیں اخراجات کم اور آمدنی بڑھانی تھی، اخراجات کم کرنے سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ہمیں اصلاحات کرنی تھی جس میں دیر ہوئی کیونکہ پارلیمانی جمہوریت میں بھاری اکثریت کے بغیر اصلاحات نہیں ہو سکتیں، 18ویں ترمیم کے بعد ہم صوبوں کو ساتھ ملائے بغیر کچھ نہیں کر سکتے، معاشی بدحالی اور کرونا کے باوجود ہمارے معاشی اشاریے دیگر ممالک سے بہتر ہیں، کرونا کے باوجود ہماری ایکسپورٹ میں اضافہ ہوا ، فیصل آباد اور سیالکوٹ میں ورکرز نہیں مل رہے۔قبل ازیں  وزیراعظم نے وانا میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علاقے میں تھری اور فور جی سروسزفوری شروع کرنے کا اعلان کردیا۔عمران خان نے کہا کہ  میں 30 سال قبل پہلی مرتبہ وانا آیا تھا اور اس کے بعد انتخابی مہم اور وزیراعظم بن کر یہاں آیا، تاہم میں وزیرستان کے لوگوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہماری حکومت کا فلسفہ یہ ہے کی پیچھے رہ جانے والے لوگوں اور علاقوں کو اوپر لائیں۔انہوں نے کہا کہ میں ووٹ لینے یا الیکشن میں کیے جانے والے وعدے کرنے نہیں آیا بلکہ ہماری حکومت کی پوری کوشش ہے کہ پاکستان کے غریب طبقے کو اوپر اٹھایا جائے، جہاں انہیں تعلیم کی فراہمی دی جائے اور اسکول، کالجز، جامعات اور تکنیکی تعلیمی ادارے کھولے جائیں۔عمران خان نے کہا کہ ہماری سب سے بڑی طاقت نوجوان ہیں اور اگر ہم انہیں تعلیم، تکنیکی تعلیمی دے دیں تووہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ ملک کو اوپر لے جائے گا۔انہوں نے کہا کہ دوسرا سب سے بڑا چیلنج روزگار ہے، گزشتہ 15 سال میں سب سے زیادہ تباہی وزیرستان میں ہوئی، لہذا یہاں کے نوجوانوں کو روزگار دینے کی بہت ضرورت ہے۔بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کامیاب جوان پروگرام کے تحت جو چیک دیے ہیں وہ شروعات ہیں، ہماری پوری کوشش ہوگی کہ یہاں اور بلوچستان علاقوں میں زور لگائیں کیونکہ وہاں کے لوگ بھی پیچھے رہ گئے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہماری پوری کوشش ہوگی کہ وزیرستان کے لوگوں خاص طور پر نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ لوگوں کو اندازہ نہیں کہ یہاں کہ لوگوں نے انگریزکے خلاف سب سے زیادہ جنگ لڑی تھی، یہاں سب سے زیادہ لوگ بھی شہید ہوئے اور انگریز بھی سب سے زیادہ یہاں مرے، مزید یہ 1947 میں جو مسلمانوں پر ظلم ہوا پنجاب اور کشمیر میں تو یہاں کے لوگ کشمیر میں لڑنے کے لیے گئے تھے، یہ اس علاقے کی ایک تاریخ ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجھے پورا اندازہ ہے کہ آپ ہمیشہ پاکستان کے لیے کھڑے ہوئے ہیں، 1965 کی جنگ میں یہاں سے بہت لوگ گئے اور ملک کے لیے آپ کا جذبہ جانتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کا خیبرپختونخوا سے ضم ہونا بہت مشکل کام تھا، اس سلسلے میں اتنشار پھیلانے کی بہت کوشش کی اور مجھے معلوم ہے کہ کئی لوگوں نے کوشش کی کہ یہ ضم نہ ہوں تاہم مجھے بہت قبائلی علاقے اور وزیرستان کے لوگوں نے جس طرح اس انضمام کو کامیاب کیا میں ان کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں۔ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ وقت ثابت کرے گا کہ یہ قبائلی علاقوں کے لوگوں کے مستقبل کے لیے بہترین فیصلہ تھا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وزیراعلی اور گورنر خیبرپختونخوا یہاں آکر آپ کے تمام مطالبات سنے ہیں، جس میں سے بہت سے جائز مطالبات ہیں اور آپ نے ڈسٹرکٹ اور سب ڈویژن کا جو مطالبہ کیا ہے اس پر وزیراعلیٰ آپ سے اور مجھ سے مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جلد بازی کے فیصلے میں مشکلات کے بڑھنے کا خوف ہے، تاہم ہماری کوشش ہے کہ آپ کے لیے آسانیاں پیدا ہوں اور عنقریب ہم آپ کو ایک خوشخبری دیں گے۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آپ کا تھری اور فور جی کا مطالبہ بہت جائز ہے اور میں آپ کو یہ خوشخبری دیتا ہوں کہ آج سے یہاں تھری اور فور جی سروسز کھل جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ یہ نوجوانوں کا مطالبہ تھا جو جائز تھا کیونکہ موبائل فون، انٹریٹ اور 3 اور 4 جی کی سہولت سے تعلیم و ترقی کے لیے ضروری ہے۔تھری اور فور جی میں تاخیر سے متعلق انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کا مسائل تھے کیونکہ ہمارے دشمن بھارت میں ایک ایسی انتہا پسند حکومت ہے جو مسلمان اور پاکستانیوں کی دشمن ہے اور 73 سالہ تاریخ میں ایسا بھارتی وزیراعظم اور حکومت نہیں آئی۔انہوں نے کہا کہ بھارت، پاکستان میں انتشار پھیلانے اور دہشت گردی کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہے ، بلوچستان میں بھی انتشار پھیلانے والے گروپس کے پیچھے پیسہ چل رہا ہے جو ہمیں معلوم ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت کی کوشش ہے کہ وزیرستان میں بھی نوجوانوں کو پاکستان کے خلاف اکسائیں، اسی لیے تھری اور فور جی کا مسئلہ بنا ہوا تھا کیونکہ اسے دہشت گرد بھی استعمال کرسکتے ہیں، تاہم میں نے اپنی سیکیورٹی ایجنسیز، جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل فیض حمید سے بات کی۔انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے نوجوانوں کی ضرورت ہے اور ہم آج سے تھری اور فور جی بحال کردیں گے۔بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد ہے کہ احساس پروگرام کے ذریعے غربت سے نیچے لوگوں کو پیسے دیں، خواتین کے لیے مویشی دیں تاکہ وہ آمدنی بڑھاسکیں جبکہ تعلیم میں مدد کرتے ہوئے اسکالرشپس بھی فراہم کریں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائلی علاقوں کا بہت نقصان ہوا، آپ بے فکر ہوجائیں یہ سمجھیں کہ یہ آپ کی حکومت ہے، آپ نے چاہے جسے بھی ووٹ دیا اس سے فرق نہیں پڑتا کیونکہ ہم نے اس علاقوں کو اٹھانا ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم یہاں زیتون کا انقلاب لا رہے ہیں، اگلے مہینے یہاں پر پوری پلانٹیشن کرنے لگے ہیں، یہاں اگر زیتون کے درخت اگ گئے تو آپ کو باہر نوکریوں کے لیے جانا نہیں پڑے گا۔اپنے خطاب کے آخر میں انہوں نے کہا کہ اب علاقے کے ہر خاندان کو ہیلتھ کارڈ ملے گا جس سے آپ کسی بھی ہسپتال میں 7 لاکھ روپے تک مفت علاج کروا سکتے ہیں۔