84

ماحولیاتی آلودگی اور شجر کاری کی اہمیت


وزیر اعلی گلگت بلتستان محمد خالد خورشید خان نے چنار باغ گلگت میں پودا لگا کر موسم بہار کی شجرکاری مہم اور پلانٹ فار پاکستان کا افتتاح کیا۔اس مہم کے تحت گلگت بلتستان میں پینسٹھ لاکھ پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ گلگت بلتستان ماحولیاتی آلودگی سے متاثر ہو رہا ہے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کیلئے زیادہ سے زیادہ پودے لگانے کی ضرورت ہے۔وزیر اعظم ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام کے تحت گلگت بلتستان میں ملک کے دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ پودے لگائے جا سکتے ہیں گلگت بلتستان کادوفیصد علاقہ زراعت یا رہائش کے قابل ہے  خطے میں لوگوں کا انحصار جنگلات ،معدنیات، گلیشیئرز اور دیگر وسائل پر ہے ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام کے تحت گلگت بلتستان میں آئندہ چار سال میں سترہ کروڑپودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جسے ایک ارب تک لے جایا جائے گا۔ ماحولیاتی آلودگی گو کہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے مگر ترقی یافتہ ممالک نے اپنے وسائل، عمل اور شعور کو بروئے کار لا کر اس پر اپنے اپنے ممالک کی حدود میں کافی حد تک قابو پایا ہوا ہے۔ مگر ترقی پذیر ممالک مثلا پاکستان، بھارت وغیرہ ابھی تک اس سنجیدہ مسئلے پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں۔ اور دن بدن اس آلودگی میں کمی ہونے کے بجائے اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔اس کرہ ارض پر بیسویں صدی میں درجہ حرارت میں مجموعی طور پر اضافہ ہوا ہے۔ ماحول میں درجہ حرارت میں اضافہ عالمی سطح پر تباہی کا باعث بن رہا ہے۔ درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے برفانی تودوں کے پگھلنے میں اضافہ ہوا ہے، جس سے عالمی سطح پر سیلاب کی تباہ کاریوں میں اضافہ ہوا ہے۔پچھلے کچھ برسوں سے ہر سال سردیوں میں کچھ دنوں کے لیے پاکستان اور بھارت میں ماحولیاتی آلودگی کی ایک نئی قسم سے لوگوں کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جسے سموگ کہتے ہیں۔ سموگ سے ماحولیاتی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا ہے، جس سے ہوا کی کوالٹی بہت خراب ہو جاتی ہے اور سموگ سے متاثرہ آلودہ علاقوں میں بسنے والے لوگ گلے اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم بحیثیت متاثرہ ممالک کے شہری ہونے کے اس مسئلہ کو سنجیدہ لینے کو تیار نہیں، ہم کوڑے کرکٹ کو گلی محلوں میں سرِراہ پھینک کر اور کوڑے کے ڈھیر کو آگ لگا کر ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کا باعث بن کر فخر محسوس کرتے ہیں۔ ہم درخت لگانے کی بجائے ان کو کاٹ کر سکون محسوس کرتے ہیں۔ ماحول میں بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے جہاں شہریوں کے بیمار ہونے کی شرح میں مجموعی طور پر اضافہ ہو رہا ہے، وہاں ہر شہری اوسطا اپنی مجموعی عمر کے تین سال اس آلودگی کی وجہ سے کم کر رہا ہے۔ مجھے بحیثیت ایک پاکستانی اور ایک انسان ہونے کے اس المیے کے بارے میں سوچ کر بہت دکھ ہو رہا ہے کہ بغیر کسی بیماری کے صرف آلودگی کی وجہ سے ہی زندگی کے تین سال کم ہو رہے ہیں۔ اب اگر ماحولیاتی آلودگی کا باعث بننے والے اسباب کا ذکر کیا جائے تو اس کی کئی ایک وجوہات ہیں، جیسے کہ درختوں کا کٹائو، بڑھتی ہوئی ٹریفک کی وجہ سے زہریلی گیسوں کے اخراج میں اضافہ، کوڑے کے ڈھیر کو آگ لگانا، کارخانوں کی زہریلی گیسوں کے اخراج میں اضافہ وغیرہ۔ یہ صرف بیشمار وجوہات میں سے چند وجوہات بیان کی ہیں اور بدقسمتی سے ان تمام کا تعلق ہم انسانوں سے ہے۔ ہم اگر اپنا مثبت کردار ادا کریں اور انفرادی طور پر اپنی ذمہ داری کا احساس کریں تو یقینا آلودگی پر قابو پا کر اس سے ہونے والی تباہی سے نہ صرف خود بچ سکتے ہیں بلکہ اپنی نسلوں کو بھی بچا سکتے ہیں۔ہم اگر فضلے کے ڈھیر اور فصلوں کو کاٹنے کے بعد ان کو آگ نہ لگائیں تو یقینا آلودگی پر قابو پا سکتے ہیں۔ ہم اگر درختوں کو کاٹنے کی بجائے لگانے والے بنیں یا اگر مجبوری میں کاٹنا پڑ جائے تو کاٹ کر لگا بھی دیا جائے تو یقینا آلودگی پر قابو پا سکتے ہیں۔ ہم اگر کم آلودگی والی یا ہائبرڈ گاڑیاں استعمال کریں تو اس آلودگی پر یقینا قابو پا سکتے ہیں۔ ہمیں سائیکل کلچر کو معاشرتی اور سرکاری سطح پر فروغ دینا چاہیے بجائے اس کے کہ سائیکل چلانے والے کو غریب تصور کیا جائے اور حقارت کی نظر سے دیکھا جائے۔ سائیکل کلچر کو فروغ دے کر جہاں ہم معاشرے میں پائے جانے والے تکبر سے باہر نکل سکتے ہیں وہاں صحت کے معیار کو بہتر کرتے ہوئے آلودگی پر بھی قابو پا سکتے ہیں۔حکومت کو بھی اس سنگین مسئلہ سے نمٹنے کے لیے صرف عوام کے ٹیکس سے وزارت بنا کر اس کو کھلانے کی بجائے عملی طور پر اقدامات کرنے چاہیں۔ گاڑیوں کا معائنہ کر کے ان کو سڑک پر چلنے کی اجازت دینی چاہیے اور ہر سال یہ معائنہ ہونا چاہیے۔یہ انفرادی ہر شخص کی اور مجموعی طور پر حکومت وقت کی ذمہ داری ہے، ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ اگر ابھی ہم نے اپنا کردار ادا کر کے ماحولیاتی آلودگی پر قابو نہ پایا تو جہاں ہم اپنی زندگیوں میں اپنا نقصان کر رہے ہیں، وہاں ہم اپنی نسلوں کے رستے میں بھی کانٹے بونے والے ہوں گے۔آلودگی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔زمینی آلودگی کی وجوہ میں سے بڑی وجہ اردگرد کے ماحول کا صاف نہ رکھنا ہے۔ بالفاظِ دیگر جگہ جگہ گندگی پھیلانا اور کوڑا کرکٹ ڈالنا زمینی آلودگی کو جنم دیتا ہے۔ہماری صنعتیں ایک طرف فضا میں مضرِ صحت دھواں چھوڑ کر ہوا کو آلودہ کر رہی ہیں، تو دوسری جانب زہریلا صنعتی فضلہ کسی روک ٹوک اور حفاظتی تدبیر کے بغیر تالابوں، ندیوں، دریائوں وغیرہ میں ڈال رہی ہیں۔ اس سے نہ صرف آبی حیات متاثر ہو رہی ہے، بلکہ یہ آلودہ پانی انسانی جان کے لیے بھی انتہائی خطرناک ہے۔ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال چونتیس لاکھ  افراد گندے پانی کے باعث پیدا ہونے والی بیماریوں سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ان بیماریوں میں ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس، ڈائریا اور ہیضہ شامل ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ انسانی فضلے کی پینے کے پانی میں ملاوٹ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان بیماریوں سے بچائو کے لیے سیوریج نظام کی بہتری کے ساتھ عوام تک پینے کا صاف پانی پہنچانا بھی ضروری ہے۔بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کی سب سے بڑی وجہ فضائی آلودگی ہے جو ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دینے میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔کیمیائی طور پر تیار کی گئیں اشیا اور دیگر مختلف قسم کے کچرے کو جب ملایا جاتا ہے تو اس سے نکلنے والا دھواں فضائی آلودگی کا باعث بنتا ہے اور اس سے نکلنے والی زہریلی گیس اور ذرات فضا میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ان سے انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور کینسر، پھیپھڑوں کے علاوہ گلے کی پیچیدہ بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔ترقی پذیر ممالک کی بڑی آبادی کوڑے کرکٹ کے ڈھیر کے پاس رہتی ہے اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ان ممالک میں مختلف اقسام کی جسمانی اور ذہنی بیماریاں جنم لیں گی  جو کسی بھی صحت مند معاشرے کے لیے مسائل کا انبار ہے۔تحقیقات کے مطابق کچرے کے ڈھیروں سے بے شمار زہریلی گیسوں کا اخراج ہوتا ہے۔ بھارت، پاکستان اور انڈونیشیا کے ممالک جو دنیا کا تقریبا پانچواں حصہ بنتا ہے جو اس سے متاثر ہو رہا ہے۔ فضائی آلودگی سے شرح اموات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔سڑکوں پر رواں دواں دھواں اڑاتی ہوئی گاڑیاں فضائی آلودگی میں اضافہ کا باعث ہیں۔ ہمارے یہاں روش چل پڑی ہے کہ ہر معاملے میں گاڑی کا استعمال کیا جاتا ہے جب کہ ان سڑکوں کے ارد گرد اور درمیان میں سبزہ اور ماحول دوست پودوں کی کمی ہے۔ علاوہ ازیں گاڑیوں کی موزوں مینٹیننس کا نہ ہونا بھی ماحول کی خرابی کا سبب ہے بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال کیے جانے والے ذرائع بھی فضائی آلودگی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں جو لوگوں کو وقت سے پہلے ہی موت کی جانب دھکیل رہے ہیں۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ بجلی کی پیداوار کے لیے قدرتی ذرائع استعمال کیے جائیں تا کہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی واقع ہو۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی اس حوالے سے اقدامات کیے جا رہے ہیں مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر شہری شجر کاری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے تاکہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی ہو اور فضا خوشگوار ہو سکے۔