178

نمک


 معزز قارئین کرام اس تحریر کا مقصد آپ کو ہمارے کھانوں کے سب سے اہم جزو نمک کی تاریخ،  اہمیت اور اس کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں آ گاہ کرنا ہے،دنیا کا شاید ہی کوئی پکوان بغیر نمک کے تیار کیا جاسکتا ہے۔نمک کو زمانہ قدیم میں سکہ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، نمک کی وجہ سے بہت سی بغاوتوں نے جنم لیااور جنگ و جدل بھی ہوئے، نمک کے استعمال پر ساتویں صدی میں چین، پندرہویں صدی میں فرانس اور انیسویں صدی میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں نمک پر ٹیکس لگایا جس کے باعث شورش و فساد ہوا۔ نمک کی اہمیت کا اس بات سے اندازہ لگائیں کہ، احسان فراموشوں غداروں اور وطن فروشوں کو نمک حرامی کے لقب سے نوازا جاتا ہے۔مملکتِ خداداد پاکستان نمک کے ذخائر سے مالامال ہے کھیوڑہ سالٹ مائن دنیا کا دوسرا سب سے بڑا  نمک کا ذخیرہ ہے'گلابی ہمالیہ سالٹ بہت بیش قیمت ہے اور پاکستان اس سالٹ کو عالمی منڈی میں فروخت کر کے کثیر زرمبادلہ حاصل کرسکتا ہے اس میں بھی کوئی شبہ نہیں ہے کہ پاکستان کی تہتر سالہ تاریخ نمک حرامی کے واقعات اور نمک حراموں کے قصوں سے بھری پڑی ہے۔نمک کا استعمال  ڈیکوریشن پیسس، مجسمہ سازی، پاکستان کے شمالی علاقہ جات بالخصوص گلگت بلتستان میں گوشت کو محفوظ کرنے (سکھانے)کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔اب آتے ہیں نمک کے روزمرہ استعمال کی طرف، نمک ایسی چیز ہے جس کے بغیر کھانا نامکمل اور بے ذائقہ محسوس ہوتا ہے اور طبی ماہرین کی ہدایات کے مطابق دن بھر میں 2300 ملی گرام (ایک کھانے کا چمچ) نمک ہی استعمال کرنا چاہئے۔تاہم بیشتر افراد زیادہ مقدار میں نمک استعمال کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں فشار خون سمیت سنگین طبی مسائل وقت کے ساتھ ابھرنے لگتے ہیں۔غذا میں زیادہ نمک کے استعمال کی چند عام علامات درج ذیل ہیں۔

ہائی بلڈ پریشر:یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ زیادہ نمک کھانا بلڈپریشر بڑھانے کا باعث بنتا ہے، زیادہ نمک بلڈپریشر کی شرح ان افراد میں بھی بڑھاتا ہے جو اس مرض کا شکار نہ ہو، جبکہ فشار خون کے شکار افراد کے لیے تو وہ انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے امراض کا خطرہ اچانک بہت زیادہ بلڈپریشر بڑھنے کے نتیجے میں بڑھ جاتا ہے۔

گردوں کے امراض:نمک کے 95 فیصد حصے کو گردے میٹابولز کرتے ہیں، تو اگر نمکین اشیاء کو زیادہ کھائیں گے تو گردوں کو اضافی نمکیات کے اخراج کے لیے سخت محنت کرنا پڑے گی، جس کے نتیجے میں گردوں کی کارکردگی میں کمی آئے گی، جس سے گردوں کے امراض اور پتھری کا خطرہ بڑھتا ہے۔

ذیابیطس:سوئیڈن کے کیرولینسکا انسٹیٹوٹ کی تحقیق میں بتایا گیا کہ زیادہ نمک کھانا ذیابیطس کے شکار ہونے کا خطرہ دوگنا بڑھا دیتا ہے اور ان افراد میں یہ امکان چار گنا زیادہ ہوتا ہے جو جینیاتی طور پر اس مرض کے لیے آسان شکار ثابت ہوتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ دن بھر میں صرف آدھا چائے کا چمچ اضافی نمک کھانا ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ 65 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ اسی طرح تحقیق کے مطابق زیادہ نمک کھانا ذیابیطس ٹائپ ون کا خطرہ 82 فیصد زیادہ بڑھا دیتا ہے۔

ہارٹ فیلئر کا خطرہ بڑھائے: گزشتہ سال کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ غذا میں نمک کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، ان میں ہارٹ فیلئر کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے، چاہے وہ ہائی بلڈ پریشر کا شکار نہ بھی ہوں تو بھی ان کے دل کی صحت کو یہ خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔

سوجن: اگر ہاتھ میں انگوٹھیاں تنگ ہوجائیں، آپ پیروں میں سوجن محسوس کریں یا صبح آنکھیں پھولی ہوئی ہوں، تو اس کی ممکنہ وجہ زیادہ نمک کا استعمال ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب جسم نمک کی زیادہ مقدار کی وجہ سے زیادہ پانی اکھٹا کرنے لگتا ہے اور اس کا علاج ڈاکٹر کے مشورے سے غذا میں تبدیلیوں سے ہی ممکن ہوتا ہے۔

زیادہ پیاس لگنا:نمک میں موجود سوڈیم جسم میں سیال کا توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے، جب زیادہ نمک کھایا جائے تو جسم کو سیال کی بھی زیادہ ضرورت ہوتی ہے تاکہ مسلز اور دیگر اعضاء اپنا کام معمول کے مطابق کرسکیں اور پانی پینا ہی صورتحال کو معمول پر لانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ یاد رکھیں مناسب مقدار میں پانی نہ پینا ڈی ہائیڈریشن کا شکار بناسکتا ہے۔

نیند متاثر ہونا:ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ زیادہ نمک کھانے کے نتیجے میں لوگوں کو پیشاب زیادہ آتا ہے اور وہ بھی رات کو، جس کی وجہ سے ان کی نیند متاثر ہوتی ہے، جو دیگر مسائل کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

پیشاب کی رنگت میں تبدیلیاں:جب جسم میں سوڈیم کا ذخیرہ ہونے لگتا ہے تو جسم میں آنے والی تبدیلیوں کا اظہار پیشاب کے ذریعے دو وجوہات کی وجہ سے ہوتا ہے۔ زیادہ نمک کھانے کے نتیجے میں گردوں کو اس کے اخراج کے لیے بہت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے جس کے نتیجے میں گردوں کے امراض کا خطرہ پیدا ہوتا ہے اور اس کا عندیہ اکثر پیشاب کی صورت میں نکلتا ہے جس کی رنگت بالکل شفاف ہوسکتی ہے۔ اسی طرح بہت زیادہ سوڈیم کی جسم میں موجودگی سے جسم سیال کی سطح سے محروم ہونے لگتا ہے جس سے ڈی ہائیڈریشن کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ جسم میں پانی کی کمی ہو تو پیشاب کی مقدار گھٹ جاتی ہے، جس سے وہ گاڑھا اور گہرے زرد رنگ کا ہوسکتا ہے۔

ہڈیوں میں درد:جب بہت زیادہ نمک کھایا جائے تو گردے اسے مکمل طور پر خارج نہیں کرپاتے، جس سے کیلشیم کی سطح میں نمایاں کمی آتی ہے، کیلشیم کی کمی ہڈیوں کی کمزوری کا باعث بنتی ہے۔ دانتوں کے مسائل اور ہڈیوں کے بھربھرے پن کا خطرہ بڑھتا ہے۔

مسلز اکڑنا:سوڈیم اور پوٹاشیم کا توازن برقرار رکھنا صحت کے لیے ضروری ہوتا ہے کیونکہ یہ عناصر مسلز کو کام کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اگر یہ توازن نمک کے زیادہ استعمال سے بگڑ جائے تو پٹھے اکڑنے یا کھچنے کا تجربہ زیادہ ہونے لگتا ہے جبکہ مسلز میں تکلیف بھی ہوتی ہے۔

مسلسل سردرد رہنا:زیادہ مقدار میں نمک کے استعمال سے خون کا والیوم بھی بڑھاتا ہے جس کے نتیجے میں شریانوں میں خلا بڑھتا ہے، ایسا ہونے پر ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھتا ہے جبکہ ہر وقت شدید سردرد کی شکایت بھی ہوسکتی ہے۔

ذہنی مسائل:فشار خون کے نتیجے میں دماغ کی جانب جانے والی شریانوں کو نقصان پہنچتا ہے، جس کے باعث دماغ کی سوچنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے اور روزمرہ کے کاموں کو کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ اسی طرح ڈی ہائیڈریشن ناقص یاداشت، تھکاوٹ اور ردعمل کو سست کرنے کا باعث بھی بنتی ہے۔تندرستی ہزار نعمت ہے، نمک کا استعمال کم سے کم کریں اور کردار کی تندرستی کے لئے اپنا رابطہ خدا سے جوڑے رکھیں ورنہ وجود تو ہوگا لیکن بغیر نمک کے کھانے کی طرح بے ذائقہ۔