188

پاکستان دہشتگردی کے خلاف مزید اقدامات کرے، دفاعی تعاون بڑھائیں گے، بائیڈن حکومت

ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی طرف سے مظاہروں کے بعد سخت سکیورٹی حصار میں جوزف بائیڈن نے امریکا کے 46 ویں صدر کا حلف اٹھالیا،اپنے پہلے خطاب میں بائیڈن کاکہنا تھا کہ سب کا صدر ہوں، کوئی تفریق نہیں کروں گا۔ متحد ہو کر دہشتگردی،سفید فام نسل پرستی  اور وبا کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اختلافات کو جنگ میں نہیں بدلنا چاہیے۔دوسری جانب بائیڈن اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے اور نئی امریکی حکومت کے نامزد وزیردفاع نے پاکستان سے دفاعی تعلقات بڑھانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے ڈومور کی فرمائش کردی ہے جبکہ بھارت کو نکیل ڈالنے کا اشارہ دے دیا ہے،تفصیلات کے مطابق امریکا میں الیکشن جیتنے والے جوزف بائیڈن کی تقریب حلف برداری ہوئی، سب سے پہلے نائب امریکی صدر کملا ہیرس سے جسٹس سونیا سٹومئیر نے حلف لیا اور وہ پہلی خاتون اور سیا ہ فام نائب صدر بن گئیں۔ جو بائیڈن سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جون رابرٹس نے حلف لیا جبکہ لیڈی گاگا اور جنیر لوپز نے پرفارم کیا۔ تقریب میں سابق صدر جارج بش، باراک اوباما، بل کلنٹن، سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن، مائیک پینس، پاکستانی سفیر اسد مجید نے شرکت کی۔ اس موقع پر سخت سکیورٹی کے اقدامات کیے گئے تھے۔حلف اٹھانے کے بعد پہلے خطاب میں نو منتخب امریکی صدر کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس رابرٹس اور نائب صدر کملا ہیرس، سپکر نینسی پلوسی ، مائیک پینس سمیت دیگر کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ آج کا دن جمہوریت کی کامیابی کا دن ہے۔ کچھ روز کیپٹیل ہل پر حملے نے جمہوری بنیادیں ہلا دی تھیں۔ آج اشخاص کی نہیں جمہوری عمل کی فتح ہوئی، جمہوریت بہت قیمتی ہونے کے ساتھ نازک بھی ہے۔جوزف بائیڈن کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو بہت چیلنجز کا سامنا ہے۔ ہم نے جنگوں اور مشکل حالات میں مل کر مقابلہ کیا۔ کرونا کے باعث امریکا میں بیروزگاری بڑھی، معیشت متاثر ہوئی۔ ہمارا ملک عظیم لوگوں کا ملک ہے، اپنی پارٹی کے پہلے دو صدور کی گرانقدر خدمات کو سراہتا ہوں۔نو منتخب امریکی صدر کا کہنا تھا کہ آج پورے امریکا کو پھرسے متحد کرنے کا دن ہے، امریکا عظیم لوگوں کا ملک ہے، ہمارے درمیان بہترین روابط ہیں، میں امریکی آئین کی طاقت پر یقین رکھتا ہوں۔ ہمیں نفرت، تعصب،سفید فام نسل پرستی، انتہا پسندی دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ تاریخ، عقیدے اور دلیل کے ساتھ ہم امریکیوں کو متحد کریں گے، آج کا دن وہ ہے جب ہمیں ریاست ہائے متحدہ امریکا بننا ہو گا، ہمیں اختلافات کو جنگ میں نہیں بدلنا چاہیے،ادھر امریکا کے نامزد   وزیر دفاع  سابق جنرل  لوئیڈ آسٹن نے امریکی میڈیا سے مستقبل کی دفاعی پالیسی پر گفتگو میں  پاکستان کو افغان عمل کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا   کہ  خطے کا امن خراب کرنے  والے کرداروں کو قابو میں رکھا جائے گا،افغان عمل میں بگاڑ کی کوششیں کرنے والے کرداروں کو روکنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے، افغانستان میں مستقبل کے کسی بھی سیاسی بندوبست میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہوگا، پاکستان نے افغان عمل میں تعمیر ی کردار کے ساتھ ساتھ   لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی تنظیموں کے خلاف اقدامات کیے ہیں، اگرچہ اس سلسلے میں مزید پیش رفت ہونا ضروری ہے، پاکستان کی دفاعی امداد معطل کرنے سے باہمی تعاون متاثر ہوسکتا ہے جس میں افغان مذاکرات سے لے کر پلوامہ حملوں کے بعد پیدا ہونے والی خطرناک صورت حال بھی شامل ہے ، جنرل لوئیڈ آسٹن نے  دونوں ممالک کے مابین دفاعی تعلقات میں اضافے کا عندیہ بھی دیا ۔ا ان کا کہنا تھا کہ اگر بطور  وزیر دفاع میری توثیق ہوجاتی ہے تو میں پاکستان کا تعاون حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔ انہوں نے خطے میں بھارت کے کردار کی جانب اشارةً تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ افغان عمل میں بگاڑ کی کوششیں کرنے والے کرداروں کو روکنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔جنرل آسٹن کا کہنا تھا کہ افغانستان میں مستقبل کے کسی بھی سیاسی بندوبست میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہوگا۔نامزد سیکرٹری دفاع اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے سابق کمانڈر جنرل لوئیڈ آسٹن نے  دونوں ممالک کے مابین دفاعی تعلقات میں اضافے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو طرفہ تعاون میں اضافے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے جن میں انٹرنیشنل ملٹری ایجوکیشن فنڈ(آئی ایم ای ٹی) کے تحت پاکستان کے اعلیٰ عسکری افسران کی تربیت کے پروگرام بھی شامل ہوں گے۔واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے اگست 2018 میں آئی ایم ای ٹی کے پروگرامز میں پاکستان کی شرکت پر پابندی عائد کردی تھی۔ بعدازاں 2019 میں یہ سہولت دوبارہ بحال کردی گئی تھی۔ آئی ایم ای ٹی کے تحت غیر ملکی افواج کے افسران کو امریکا کے عسکری تعلیمی و تربیتی اداروں میں مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی نامزد سیکریٹری دفاع نے کہا کہ وہ مسلح گروہوں یا دیگر شدت پسندوں کو اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کے لیے پاکستان پر زور دیں گے۔ اس کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے افواج کے مابین کلیدی امور پر تعاون کے لیے نئی ابتدا کی جائے گی۔دوسری جانب  وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ویبینار سے خطاب میں  انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اورنئے  امریکی صدر جوبائیڈن کے مابین پہلے ہی پیغامات کا تبادلہ ہو چکا ہے ، جوبائیڈن نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں پاکستان کیساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے ، پاکستان نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ باہمی عزت واحترام کی بنیاد پر طویل المدتی، وسیع البنیاد اور کثیر الجہتی تعلقات کو فروغ دینے اور شراکت کے لئے تیار ہے۔  انہوں نے کہا کہ نومنتخب امریکی صدر پاکستان کیلئے اجنبی نہیں، جوبائیڈن پاکستان کے پرانے دوست ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے تاریخی تعلقات دوبارہ بحال ہو سکتے ہیں کیونکہ بہتر مستقبل کے لئے پاکستان اور امریکا کو موجودہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے افہام وتفہیم کا تبادلہ کرنا ہوگا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دونوں ممالک کو وبائی امراض، عالمی معاشی سست روی، ماحولیاتی تبدیلی کے تناظر میں چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کو افغانستان میں قیام امن کے لئے ایک شراکت دار کی حیثیت پاکستان پر اعتماد کرنا چاہیے جہاں دوسرے ایکٹرز سپائلرز کا کردار ادا کر رہے ہیں۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ افغانستان میں جامع سیاسی تصفیہ کا حصول صرف امن سے ہی ممکن ہے۔ پاکستان اور امریکہ کو افغانستان میں جنگی معیشت کو امن کی معیشت کی منتقلی کیلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کی امن و ترقی کے لئے بین الاقوامی برادری کی مکمل حمایت اور شمولیت ناگزیر ہے۔ پاکستان ماضی میں اپنی جیو پولیٹیکس حکمت عملی کو جیو اکنامکس میں تبدیل کر چکا ہے۔ پاکستان نے بے گناہوں کی جانوں اور معیشت کو 126 ارب ڈالر کے نقصان سے دہشت گردی کو شکست دی ہے۔ پاکستان اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کیخلاف کارروائی جاری رکھے گا۔