32

پاکستان کی دفاعی کامیابیاں

پاکستان نے مقامی طور پر تیار کردہ فتح ون گائیڈڈ ملٹی لانچ راکٹ سسٹم کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔یہ سسٹم 140کلومیٹر کے فاصلے تک روایتی جنگی ہتھیار(وار ہیڈ)لیجانے کی صلاحیت رکھتا ہے،راکٹ سسٹم مکمل طور پر پاکستان میں تیار کیا گیا ہے۔ساتھ ہی ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ہتھیار کا نظام پاک فوج کی دشمن کے علاقے میں ہدف کے تعاقب کی استعداد کو بڑھائے گا۔ پاکستان کی عسکری دفاعی صلاحیت میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ کیا جاتا رہا ہے اور حالیہ عرصے میں نہ صرف پاک فوج بلکہ پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کی استعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔30دسمبر کو پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس نے مقامی طور پر تیار کردہ اسٹیٹ آف دی آرٹ چودہ جدید فورتھ جنریشن جے ایف سترہتھنڈر بلاک تھری ڈوول کیریئر لڑاکا طیارے باضابطہ طور پر پاک فضائیہ کے حوالے کردیے تھے جو طویل رینج، اعلی ترین ریڈار سسٹم اور ایڈوانس فائرنگ کی صلاحیت سے لیس ہیں۔اسی روز پاک بحریہ کی ایئر ڈیفنس یونٹس نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کی فائرنگ کا کامیاب مظاہرہ کیا تھا۔پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہے جن کا عالمی سیاست میں بہت اہم کردار رہتا ہے۔ اسی وجہ سے مغربی ممالک اور امریکہ کبھی پاکستان کے بہت قریب آ جاتے ہیں اور کبھی اس پر پابندیاں لگا دیتے ہیں۔ پاکستان کی عالمی سیاست میں کیا اہمیت ہے اور اکیس کروڑ آبادی سے زائد آبادی کا یہ وطن کتنا طاقتورہے؟ سب جانتے ہیں کہ سب سے بڑی طاقت پاکستان کا زبردست جغرافیہ ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ پاکستان ایشیاء میں واقع ہے جو تیزی سے عالمی معیشت کا محور و مرکز بنتا جا رہا ہے'پاکستان کے مشرق اور شمال میں دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ممالک بھارت اور چین ہیں۔ چین کو افریقہ اور عرب ریاستوں سے تجارتی کیلئے اور بھارت کو مغرب میں وسط ایشیا تک تجارت کیلئے پاکستان سے بہتر راستہ میسر نہیں ہے۔ جبکہ شمال مغرب میں واقع افغانستان کو سمندر تک رسائی کیلئے بھی پاکستان کا ساتھ چاہیے۔ مستقبل کے منظرنامے میں ایشیاء کا یہ خطہ اتنا اہم ہے کہ امریکہ بھی نائن الیون کے بعد سے افغانستان میں ڈیرے ڈال چکا تھا۔دفاعی اعتبار سے دیکھیں تو پاکستان کے پاس دنیا کی پانچویں سب سے بڑی فوج ہے ' عالمی رینکنگ میں پاکستان کی فوج کو دنیا کی گیارہویں سب سے طاقتورفوج مانا جاتا ہے۔ حالانکہ دفاع پر خرچ کرنے کے اعتبار سے پاکستان دنیا میں 23ویں نمبر پر ہے۔ پاک فوج کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے دہشتگردی کے اندرونی نیٹ ورک کو دس سال سے بھی کم عرصے میں کچل کر رکھ دیا۔ یہی چیلنج شام، لیبیا، یمن اور عراق کو بھی درپیش تھا لیکن یہ تمام ممالک ان خطرات کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے اور خانہ جنگی کا شکار ہو گئے۔ اسی طرح افغانستان میں امریکہ اور ستر ملکوں کا فوجی اتحاد سترہ سال میں بھی مسلح گروہوں کو شکست نہیں دے سکا۔ پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت ہے۔ پاکستان دنیا کے ان طاقتور ممالک میں شامل ہے جو تھرڈ اور فورتھ جنریشن کے لڑاکا طیارے، آبدوزیں، جنگی بحری جہاز اور سیٹیلائٹس بھی تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا، نوجوان آبادی کے لحاظ سے پانچواں اور رقبے کے لحاظ سے پینتیسواں بڑا ملک ہے۔معاشی میدان میں دیکھا جائے تو پاکستان پرچیزنگ پاور کے لحاظ سے دنیا کی چوبیسویں اور جی ڈی پی کے لحاظ سے اکتالیسویں بڑی اکانومی ہے۔ عالمی معاشی اداروں کے مطابق پاکستان دوہزار تیس تک دنیا کی بیسویں بڑی معاشی طاقت بننے کی طرف جا رہا ہے۔ جبکہ دوہزارپچاس تک اٹلی اور کینیڈا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پاکستان دنیا کی سولہویں بڑی معیشت بن سکتا ہے ۔ پاکستانی معیشت کی کمزروی یہ ہے کہ اس کا زیادہ انحصار زراعت کے شعبے پر ہے۔ زیادہ پانی اور زرخیز زمین ہونے کے باوجود پاکستان کی زرعی پیداوار عالمی معیار سے انتہائی کم ہے۔ جس کی بڑی بنیادی وجہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال نہ کرنا ہے۔ پاکستان اپنی زراعت اور صنعت میں جدت لائے تو اسے آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔سیاسی لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان تین عالمی طاقتوں چین، روس اور ترکی کے قریب ہے۔ جبکہ امریکہ، یورپی یونین اور برطانیہ سے پاکستان کے تعلقات اتارچڑھائو کا رہتے ہیں۔ سی پیک کے باعث پاکستان کی اہمیت مزید بڑھ رہی ہے اور زیادہ سے زیادہ ممالک تجارتی مقاصد کیلئے پاکستان کا رخ کرتے نظر آ رہے ہیں۔پاکستان کی ایک اور بڑی کمزوری اس کے ہمسائیہ ممالک بھارت اور افغانستان سے مسلسل خراب تعلقات ہیں۔ اس کے علاوہ غیر مستحکم جمہوریت بھی پاکستان کی ترقی کے راستے میں پریشان کن رکاوٹ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار یہاں بڑی سرمایہ کاری کرتے ہوئے ذرا محتاط ہوتے ہیں۔پاکستان بہت بڑے جغرافیے اور آبادی والے ممالک کے درمیان قائم ایک مضبوط اور طاقتور ملک ہے۔ جس کی قوت کا کثیر حصہ اس کی بڑی آبادی، اہم جغرافیے، طاقتور فوج اور چین کے ساتھ تعلقات سے جڑا ہوا ہے۔پاکستان نے بھارت کو اپنے کئی ہتھیاروں کے تجربے کے ذریعے پیغام دیا ہے کہ پاکستان روایتی ہتھیاروں کے معاملے میں بھی بھارت سے کہیں آگے ہے۔ فضائی طور سے وہ اس سے کہیں مضبوط اور دفاعی صلاحیت سے آراستہ ہے۔ اس نے اپنے آپ کو جدید طیاروں سے لیس کرلیا ہے جبکہ بھارت کی فضائی صلاحیت کمزور نظر آرہی ہے پاکستان ریڈار پر نظر نہ آنے والا اور روایتی و ایٹمی ہتھیار سے لیس کروز میزائل رعد کا تجربہ کر چکا ہے کیا۔ یہ رعد کروز میزائل جس کی رفتار کی حد 350 کلومیٹر ہے اور وہ زمین پر یا سمندر میں اپنے ہدف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنا سکتا ہے،یہ کروز میزائل ہے جو رکاوٹوں کے باوجود سیدھا اپنے ہدف کی طرف لپکتا ہے۔پاکستان  شاہین سوئم بلیسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ بھی کر چکا ہے ۔ یہ میزائل زمین سے زمین 2750 کلومیٹر تک جوہری و روایتی ہتھیار لے کر ہدف کو نشانہ بناتا ہے۔ پاکستان اپنی بلیسٹک میزائل کی دور تک ہدف کو مارنے کی صلاحیت میں اضافہ کررہا ہے۔غیرملکی دفاعی تجزیہ کار اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان اپنے زیادہ فاصلے کے میزائل بنانے کی صلاحیت کا اظہار نہیں کرتا اگرچہ اس کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے۔ شاہین دوئم ڈیڑھ ہزار کلومیٹر تک جوہری ہتھیار لے جاسکتا ہے۔پاکستان نے مقامی طور پر تیار کردہ ڈرون براق اور لیزر گائیڈڈ برق بھی ہیں ۔ پاکستان نے دفاعی شعبہ میں اہم سنگ میل عبور کیے ہیں' ڈرون طیاروں کی مدد سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدد مل رہی ہے اور پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک ایٹمی سائنسدان نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ پاکستان کے پاس جدید ڈرون طیارے ہیں مگر وہ صرف جاسوسی کا کام کرسکتے ہیں پھر انہوں نے کہا کہ ان میں ہتھیار لگانا کون سا مشکل کام ہے سو پاکستان نے لگا لئے ۔بھارت اہم پیغامات دیئے گئے  کہ وہ اپنی بچگانہ حرکتوں سے باز آئے اور ایک ذمہ دار ملک کا رویہ اپنائے۔ اگرچہ پاکستان میں کرپشن ہے، پاکستان میں دہشت گردی پروان چڑھائی جارہی ہے جس میں بھارت اور غیرملکی طاقتیں ملوث ہیں تاہم پاکستان جس شعبہ کا بھی رخ کرتا ہے وہاں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑتا چلاجاتا ہے۔ پاکستان کا اسٹرٹیجک پلان ڈویژن ملک کی دفاعی صلاحیت کو فروغ دے رہا ہے اور سول ایٹمی ٹیکنالوجی میں اسکی پیش رفت شاندار ہے۔ وہ پاکستانی صنعت کیلئے انرجی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ہمہ وقت سرگرم ہے۔اسٹرٹیجک پلان ڈویژن اور اس کے ساتھ کام کرنے والے پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن اور دیگر بھرپور کاوشوں میں لگے ہوئے ہیں کہ کسی طرح پاکستان کی انرجی کی ضرورت پوری ہو، شہریوں کو بھی سہولت ملے اور صنعتوں کا پہیہ تیزی سے چلے، معدنیات کے معاملے میں پاکستان بہت زرخیز ہے اور اس کی جغرافیائی اہمیت اپنی جگہ ہے مگر ستم یہ ہے کہ ہم مسلمان ملک ہیں تو چہارسو پاکستان کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں۔ پاکستان دفاعی طور پرمضبوط اندرونی خلفشار و بیرونی جارحیت سے نمٹنے کی صلاحیت سے آراستہ اور اپنے مسائل کو حل کرنے کی خوبی اور دشمنوں کے عزائم کو خاک میں ملانے کی صلاحیت، ہمت و جرات رکھتا ہے۔