66

پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم رائج ہو رہا ہے، وزیر تعلیم

گلگت، شگر (نمائندہ خصوصیسٹی رپورٹر) صوبائی وزیر تعلیم گلگت بلتستان راجہ محمد اعظم خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم رائج ہو رہا ہے جس سے ملک میں تعلیمی انقلاب آئیگا اور ہماری نئی نسل کا مستقبل روشن ہوگا۔ گلگت میں قومی تعلیمی نصاب کی تیاری کے حوالے سے منعقدہ چار روزہ ورکشاپ کی افتتاحی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیرتعلیم نے کہا کہ گلگت بلتستان سمیت ملک بھر کے ماہرین تعلیم کی انتھک کوششوں سے پرائمری کا نصاب مکمل ہونے کے بعد رواں ماہ سکولوں میں رائج کیا جارہا ہے جوکہ نہایت خوش آئند ہے۔ امید ہے اسی تسلسل میں بہت جلد مڈل اور میٹرک کا نصاب بھی جلد تیار ہوگا اور سکولوں میں رائج ہوگا جس سے ملک میں طبقاتی نظام کا خاتمہ ہوگا اور امیر و غریب ایک ہی نصاب پڑھیں گے۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے جدید ویژن اور وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور اس کی ٹیم کی کاوشوں سے ملک کا تعلیمی مستقبل روشن ہو رہا ہے۔ تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے میر محفل فیڈرل جوئنٹ ایجوکیشن ایڈوائزر رفیق طاہر نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان ملک کے پہلے قومی لیڈر ہیں جنہوں نے اقتدار میں آنے کے بعد پہلے کابینہ اجلاس میں تعلیمی پالیسی مرتب کی اور آج ملک میں تمام مکاتب فکر کیلئے قابل قبول یکساں نصاب تعلیم رائج ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی قیادت  کے مثبت فیصلے قوموں کو ترقی کی راہ پر استوار کرتی ہیں۔ اس سے قبل تقریب سے ڈائریکٹر جنرل سکولز گلگت بلتستان مجید خان نے خطاب کرتے ہوئے ملک میں یکساں نصاب تعلیم کو خوش آئند قرار دیا اور ملک میں پرائری تعلیم کے نصاب کی تکمیل پر قومی قیادت اور ملک بھر کے ماہرین تعلیم کو خراج تحسین پیش کیا۔ تقریب سے ڈائریکٹر تعلیمی نصاب جی بی عبدالحکیم نیولی نے بھی خطاب کیا اور شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ ادھر شگر میں مختلف وفود سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے راجہ اعظم نے کہا تحریک انصاف کی صوبائی حکومت صوبے میں تعلیمی ترقی کے لئے کوشاں ہے۔ وزیر اعلی کی قیادت میں پوری کابینہ گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی کے لئے کام کر رہی ہے۔ ہم عوام کے مسائل سے پوری طرح آگاہ ہیں،انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم کی محکمانہ اے ڈی پی کے علاوہ سی ایم پیکیج کے تحت خصوصی  اے ڈی پی کے ذریعے ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائینگے۔ غیر منظور اے ڈی پی کو ختم کیا گیا ہے جبکہ بجٹ میں تمام علاقوں کے مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے ترقیاتی منصوبے رکھے جائینگے۔