95

پھر بھی ہم ہی سے گِلہ


گلگت  بلتستان اسمبلی کے جاری اجلاس میں اب تک کئی قرادادوں کی متفقہ منظوری دی جا چکی ہے جن میں نامور کوہ پیماہ محمد علی سدپارہ کو خراج عقیدت پیش کرنیکی قرارداد،وفاقی ملازمتوں میں گلگت  بلتستان کے کوٹے میں اضافے ،بجلی کے محکمے کے ملازمین کے لئے رسک الائونس کی فراہمی اور سکردو کرگل روڈ کھولنے سے متعلق قراردادیں شامل ہیں۔ یہ ساری قراردادیں اپنی جگہ اہم ہیں لیکن ان سب سے اہم گلگت  بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے سے متعلق قرارداد ہے جس کا گلگت  بلتستان کے عوام کو شدت سے انتظار ہے مگر یہ قراداد اسمبلی  میں آنے کا نام نہیں لے رہی۔جوں جوں اس قرارداد کے اسمبلی میں پیش ہونے میں تاخیر ہوتی جائے گی لوگوں میں موجود محرومی کے احساس میں اضافہ توہو گا ہی لیکن حکومت پر عوامی اعتماد میں تیزی سے کمی آئے گی۔گلگت  بلتستان اسمبلی انتخابات میں وفاقی وزراء نے عبوری صوبہ کے نام پر ووٹ مانگے اور لوگوں نے صوبے  کے نام پر ووٹ دے دیے۔ اب اقتدار حاصل ہوتے ہی گلگت  بلتستان کے اس اہم ترین  مسئلے سے آنکھیں چرانے کی کوشش تحریک انصاف کو مہنگا پڑ سکتا ہے ۔ یہ مسائل فوری حل نہ ہونے کی صورت میںآگے جاکے مزید پیچیدگیاں اس لئے آسکتی ہیں کیونکہ آزاد جموں کشمیر اسمبلی کے انتخابات سر پر ہیں اور تحریک انصاف کبھی بھی نہیں چاہے گی کہ آزاد کشمیر کی قیادت اور لوگوں کی خواہشات کے برعکس گلگت  بلتستان کوآئینی حقوق دے کر کشمیر کے ووٹر ز کو ناراض اور اپنے ووٹ بنک میں کمی لائے۔لہذا گلگت  بلتستان کے آئینی مسئلے سے متعلق ابھی فیصلہ نہ کیا جاسکا تو یہ جولائی میں آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات مکمل ہونے اور انتقال اقتدار تک ممکن نہیں رہے گا۔ آزاد جموں و کشمیر انتخابات میں کس جماعت کو کامیابی ملتی ہے اس عنصر کابھی گلگت  بلتستان کے آئینی مسئلے کے حل کی جاری کوششوں کو منطقی انجام تک پہچانے میں اس کے اثرات مختلف مرتب ہوسکتے ہیںکیونکہ گلگت بلتستان کے آئینی مسئلے پر تمام سیاسی جماعتوں کے موقف میں یکسانیت نہیں۔ ماضی میں پاکستان مسلم لیگ نون کے دور ِ حکومت میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ گلگت  بلتستان اسمبلی کے سال2015 ء کے انتخابات میںمسلم لیگ نون کی مرکزی قیادت اور وفاقی وزراء انتخابی جلسوں میں دعوی کرتے رہے کہ گلگت  بلتستان ملک کا لازمی حصہ ہیں اور گلگت  بلتستان میں مسلم لیگ نون کی حکومت بنتے ہی گلگت  بلتستان کو ملک کا پانچواں صوبہ بنایا جائے گالیکن گلگت  بلتستان اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے چند ماہ بعد یہی وزراء جب آزاد کشمیر میں انتخابی جلسوں سے خطاب کرنے لگے تو ا ِن کے بیانیے میں نمایاں تبدیلی آئی اوریہ موقف اپنانے لگے کہ گلگت  بلتستان میںایسے آئینی اصلاحات متعارف نہیں کرائی جائیں گی جس سے مسئلہ کشمیر متاثر ہوتا ہو۔ بعدمیں واقعتاً ایسا ہی کیاخودمیاں محمد نوز شریف کی تشکیل کردہ اصلاحاتی سرتاج عزیز کمیٹی کی گلگت  بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کی سفارشات کے برعکس گلگت  بلتستان کو گلگت  بلتستان گورنمنٹ آرڈر 2018ء  دینے پر ہی اکتفا کیا گیا۔اب اس مرحلے پر تاریخ اپنے آپ کو دُھراتی ہوئی نظر آتی ہے۔ایسے میں گلگت  بلتستان بھر سے منتخب قیادت کی ذمہ داریوں میں اور زیادہ اضافہ ہوتا ہے کہ وہ گزرتے ہوئے لمحات کی نزاکت کو سمجھے اور وفاقی حکومت اپنے اعلانات کی روشنی میں گلگت  بلتستان میں آئینی اصلاحات کے لئے عملی اقدامات کریں ۔ اب بھی وقت ہے کہ وفاقی حکومت سے اس حساس مسئلے کے حل کے لئے فیصلہ کروائے وگرنہ ملک  کے مختلف حلقوں میں ہونے والے حالیہ ضمنی انتخابات کے نتایج پاکستان تحریک انصاف کے لئے مایوس اور پریشان کُن رہے ہیں۔وفاق میں حکومت کی گرفت ڈھیلی پڑجانے کے بعد گلگت  بلتستان جیسے حساس ایشو پر کوئی بھی فیصلہ کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوگا۔یہ مرحلہ گلگت  بلتستان کی نئی حکومت کے لئے ایک بڑے چلینج سے کم نہیں ہے۔ اس حکومت کے بارے میں شروع دن سے ایک تاثر یہ قائم ہوا ہے کہ وزیر اعلیٰ سمیت کابینہ کے ارکان میں سے بیشتر پہلی بار کسی اسمبلی اور حکومت میں آئے ہیں اور تجربے کی کمی کے باعث وہ ابھی تک بطور ایک مضبوط حکومت کے اُبھر نہیں سکی ہے۔حکومت کی گرفت اداروں پر ڈھیلی رہی تو اس کے اثر ات نچلی سطح تک محسوس کئے جاسکتے ہیں بطور مجموعی پھر اداروں کی کارکردگی متاثر ہو کر رہ جاتی ہے ۔نتیجتاً حکومت اور میں فاصلہ بڑھنے لگتا ہے ۔ایک طرف گلگت  بلتستان میں قومی تقریبات میں بھی اب عوام کی شرکت میں کمی آتی جارہی ہے۔ اگر چہ ماضی میں دیکھا جائے قومی تہواروں بالخصوص یوم آزادی اور یوم پاکستان پر سکردو اور گلگت میں ہونے والے اجتماعات کو ملک بھر میں سب سے بڑے اجتماعات قراردے جاتے رہے ہیں۔اب اگر اجتماعات میں ماضی کی طرح کی عوامی شراکت نہیں تو اس کے پس پردہ عوامل کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ ان میں لوگوں کی عدم شرکت کا سارا نزلہ عوام پر نہیں گرایا جاسکتا کیونکہ ان کے دیگر عوامل بھی ہیں ۔بدقسمتی سے اب ایسے اجتماعات عوامی حلقوں کو شراکت اور شمولیت کا خاطر خواہ موقع ہی فراہم نہیں کیا جاتا۔حوالہ کے طور پر سکردو میں ہونے والے حالیہ دو اہم ترین قومی ایونٹس کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ صورت حال واضح ہوجائے۔ ایسے اجلاس میں ان قومی پروگراموں کی تفصیلات طے کی جاتی ہیں جن میں صرف چند محکموں کے نمائندوں کو شرکت کا موقع دیا جاتا ہے۔ تقریبات کے انتظامات اور مختلف محکموںکے وسائل کو مجتمع کرکے پروگرام کوکامیاب کرنے کی حد تک یہ سلسلہ صحیح ہے لیکن ان پروگراموں میں عوامی شرکت کی ضمانت یہ اہلکارنہیں دے سکتے ہیں۔ ان اہم پرگراموں کے انتظامات کے حوالے سے ہونے والے کسی اجلاس میں سول سوسائٹی کے ذمہ دار حلقوں کو موقع دیا جانا چاہییے۔ جن کی عوام میں جڑیں ہیں وہی لوگ ان تقریبات میں لوگوں کی شمولیت کی ضمانت دے سکتے ہیں۔بالخصوص یوم آزادی، یوم پاکستان اور یکجہتی کشمیر جیسے پروگراموں کے انتظامات سے متعلق ہونے والے اجلاسوں میں عوامی حلقوں میں سے انجمن تاجران ، بار ایسوسی ایشن، انجمن شہریان، پریس کلب ، منتخب عوامی نمائندوںاور پانچوںمسالک کی انجمنوں کے نمائندوں کوبلا کر اُن کی وساطت سے عوام سے  ان پروگرواموں میں شرکت کی اپیل کی جاسکتی ہے۔لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا بلکہ اس بار سکردو میں پانچ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے موقع اورعوامی حلقوں کی کیا بات کی جائے تقریب میں شرکت اور کوریج کے لئے پریس کلب اور ریاستی نشریاتی اداروں پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان تک کو اطلاع نہیںدی گئی تھی۔ جس کی صدائے بازگشت یکجہتی کشمیر کے مرکزی جلسے میں یادگار شہدا پر مہمان خصوصی سینیئر وزیر راجہ زکریا خان مقپون اور ایون اقبال میں منعقدہ تقریب میں گلگت  بلتستان کونسل کے رکن وزیر اخلاق حسین کی تقریروں میں شدت سے سنی گئی۔ صرف یہی نہیں بلکہ موجودہ حکومت شجر کاری اور ملک کو سرسبز بنانے کے پروگراموں کو خصوصی طور پر اولیت دے رہی ہے ۔ اس مقصد کے لئے حکومت بلین ٹری سونامی منصوبہ، گرین اینڈ کلین پاکستان اور سر سبز پاکستان جیسے اہم ترین منصوبوں پر عمل درآمد کرارہی ہے ۔ملک بھر میں شجر کا ری سے متعلق پروگراموں میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو شرکت کا موقع دیا جاتا ہے تاکہ لوگوں میں ان اہم ترین منصوبوں سے متعلق آگہی پیدا ہو اور عوام شجر کاری میں عملی طور پر حصہ لیتے رہیں ۔غیر پھل دار درختوں کی شجر کاری محکمہ جنگلات اور پھل دار درختوں کے لئے محکمہ زراعت کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔اس بارسکردو کو یہ اعزاز حاصل ہے  اِن دونوں اہم وزارتوں کے قلمدان اسی شہر کے منتخب نمائندوں کے پاس ہیں۔ سکردو حلقہ نمبر ایک سینیئر وزیر جنگلات اوروزیر زراعت سکردو حلقہ نمبر دو سے ہیں۔ اس حوالے سے کوئی بھی بجا طور پر یہ توقع کرسکتا ہے سکردو میں ماضی کی نسبت زیادہ جوش و خروش سے شجرکاری مہم کے آغاز کی  مہم چلائی جائے گی اور زیادہ پُر وقار اندازمیں شجر کاری مہم کا آغاز کیا جائے گا لیکن حیرت کی بات ہے کہ 17 فروری کی شام میڈیا کو ایک تصویر اس کیپشن کے ساتھ جاری کی جاتی ہے کہ سکردو میں موسم بہار کی شجر کاری مہم کا آغاز کردیا گیا ۔متعلقہ وزراء نہ منتخب نمائندے اور نہ ہی علماء وعمائدین کو شرکت کا موقع دیتے ہیں حتیٰ کہ اس اہم ایونٹ کی کوریج کے لئے پریس کلب ارکان،پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان جسے قومی اداروں کو خبر ہونے دیتے ہیں ۔ کسی کی نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن یہ اُمور بدانتظامی کو ظاہر کرتا ہے جو باعث تشویش ہے۔ ایسے میں ان جیسے قومی پروگراموں کی کامیابی کی کوئی کیا ضمانت دے سکے گا۔ اور پھر بھی گِلہ عوام سے کہ وہ قومی تقریبات میں حصہ نہیں لیتے۔