154

ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ یا یوسف رضا گیلانی

ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی


سینٹ انتخابات 2021  کے لیے میدان سج چکا ہے، تمام تیاریاں مکمل کی جاچکی ہیں۔ مقابلہ دو فریقین کے درمیان ہے یعنی حکومتی اتحاد اور پی ڈی ایم حکومت مخالف سیاسی اتحاد۔ پی ڈی ایم بنیادی طور پر حکومت گرانے اور عمران خان کو گھر بھیجنے کے لیے بنایا گیا تھا، حکومت گرانے کی ابتدائی تدابیر جلسے جلوس، ریلیاں،احتجاج ایک ایک کر کے ناکام ہوتی گئیں یہاں تک کہ ضمنی انتخابات اور پھر سینٹ کے انتخابات سر پر آگئے۔ پی ڈی ایم نے اتحاد کو انتخابی اتحاد تک وسیع کردیا۔ اتحاد میں دو قسم کی واضح سوچ پائی جاتی ہے ایک شدت پسنداور دوسری معتدل۔ شدت پسندی میں آریا پار والی سوچ ہے جس میں حکومت کے ساتھ ساتھ اداروں کو تنقید کا نشانہ بنانا، منتخب ایوانوں سے مستعفی ہوجاناشامل ہے اس سوچ کی حامل جماعتوں میں مسلم لیگ نون اور مولانا صاحب کی جماعتیں ہیں۔وہ انتہائی قدم کے طور پر لانگ مارچ، دھرنے اور اجتماعی استعفوں کو بھی استعمال کرنے کی بات کررہی تھیں اس کے برعکس پاکستان پیپلز پارٹی اداروں سے نہ ٹکرانے، ایوانوں سے باہر نہ نکلنے کی سوچ کی حامل ہے۔پی پی کی سوچ تھی کہ حکومت کو جمہوری، دستوری طریقے سے گھر بھیجنے کے لیے آئین میں درج طریقہ کاراپنایا جائے، منتخب ایوانوں میں وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا آپشن شامل ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی وجہ سے ہی پی ڈی ایم اس مقام تک پہنچا کہ وہ ضمنی انتخابات میں حکومت سے ٹکرانے کے قابل ہوئی اور کامیابی بھی ملی، ایوانوں سے باہر نہ جانے پر پی پی نے اسٹینڈ لیا۔ اگر پی پی بھی نون لیگ اور مولانا کی سوچ سے اتفاق کرتی تو آج ملک کی سیاست کا نقشہ مختلف ہوتا۔پاکستان پیپلز پارٹی یا آصف علی زرداری کی سیاست نے ملک میں جمہوری عمل کو قائم رکھنے، اسے آگے بڑھانے، جمہوری طریقے سے حکومت کا مقابلہ کرنے کی پالیسی پر دیگر اتحادیوں کو مجبور بھی کیا۔ نون لیگ میں شدت ہے، مولانا صاحب بھی ایسی ہی سوچ رکھتے ہیں۔ بھٹو صاحب کے خلاف نو ستاروں کے اتحاد کی تحریک کا انجام ہمیں یاد ہے۔ حکومت نو ستاروں کو نہیں مل گئی تھی۔ضمنی انتخابات کے نتائج آچکے ڈسکہ کا ضمنی انتخاب خونی انتخاب ثابت ہوا اس لیے کہ اس میں دو انسانی جانیں چلی گئیں۔ الیکشن کمیشن نے اس حلقے کا انتخاب کالعدم قرار دے دیا، یہاں دوبارہ پولنگ 18 مارچ کو ہوگی۔قطع نظر اس کے کہ ان کا تعلق کس سیاسی جماعت سے تھا یہ عمل کسی بھی طور مناسب نہیں کہا جاسکتا۔ سیاسی رہنمائوں کو اپنے کارکنوں کو اس حد تک جانے سے ہر صورت میں روکناچاہیے۔ اس قسم کے عمل کے نتائج اچھے نہیں نکلتے، حاصل کچھ نہیں ہوتا۔ مرنے والے مرجاتے ہیں، لواحقین زندگی بھر ان کا غم مناتے رہتے ہیں۔ ماضی کے کراچی میں ہونے والی پر تشدد سیاست کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ مرنے والوں کا ذکر خیر بھی نہیں ہوتا۔ گندی سیاست کرنے والے اپنے انجام کو پہنچ جاتے ہیں۔ ایسی سیاست کس کام کی جس سے دنیا بھی خراب اور آخرت بھی۔یاد رکھنا چاہیے کہ ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے۔سینٹ انتخابات کے لیے سیاسی اتحادوں کی جانب سے اپنے اپنے امیدوار میدان میں اتاردئے گئے ہیں۔ ان پر بحث و مباحثہ، تکرار اور دشنام طرازی کا عمل جاری ہے۔ امیدواروں پر الزامات در الزامات لگائے جارہے ہیں۔ کچھ اہم لوگ الیکشن کمیشن سے باہر کردئے گئے، ان کا آپے سے باہر ہونا بنتا ہے۔ جیسے نون لیگ کے پرویز رشید کو الیکشن کمیشن نے نا اہل قرار دے دیا۔سینٹ کی تمام سیٹوں میں اسلام آباد کی نشست پر مقابلے کو چوٹی کا مقابلہ کہا جارہا ہے اور یہ اپنی جگہ درست ہے۔اسے آصف علی زرداری صاحب کی سیاسی حکمت عملی قرار دیا جارہا ہے کہ انہوں نے ایسی چال چلی ہے کہ پورے پاکستان کی نظریں اس مقابلہ پر مرکوز ہوکر رہ گئی ہیں۔ پی ڈی ایم انتخابی اتحاد نہیں تھا لیکن ضمنی الیکشن اور سینٹ انتخاب نے پی ڈی ایم کو انتخابی اتحاد بھی بنا دیا ہے اور یوسف رضا گیلانی اسلام آباد کی سیٹ پر پی ڈی ایم کے امیدوارٹھہرے۔وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں، سابق وزیر اعظم، وزیر اور اسپیکر قومی اسمبلی بھی رہ چکے ہیں۔ سیاست دانوں میں معتدل، نرم مزاج، سلجھی ہوئی طبیعت کے مالک قرار دیے جاتے ہیں یہ دوسری بات ہے کہ انہیں عدالت نے وزارتِ عظمی سے برطرف کردیا تھا۔ ایک ہار بھی ان کے گلے پڑا ہوا ہے۔انہوں نے ضیا ء الحق کے دور سے سیاست کا آغاز کیا، جونیجو صاحب کے دور میں پاکستان مسلم لیگ میں رہے، پھر اختلافات ہوگئے تو پاکستان پیپلز پارٹی میں آگئے اور پھر مڑ کر نہیں دیکھا یہ اچھی بات ہے ان کی۔ تعلیم تو بہت اعلی نہیں ماسٹر کیا پنجاب یونیورسٹی سے البتہ سیاسی تجربہ اور سیاسی جوڑ توڑ، سیاسی اثر رسوخ میں یکتا ہیں۔سینئر صحافی عارف نظامی نے یوسف رضا گیلانی کو مرنجاں مرنج آدمی کہا، ان کا کہنا تھا کہ وہ وزیر اعظم کی حیثیت سے اسمبلی میں جایا کرتے تھے اور مخالفین سے بھی میل ملاقات رکھا کرتے تھے۔ نظامی صاحب کی یہ رائے اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ وہ مخالفین جو پاکستان پیپلز پارٹی میں تھے اب کافی تعداد میں تحریک انصاف میں شامل ہوچکے ہیں اس وقت تحریک انصاف کے رکن بھی ہیں۔ یوسف رضا گیلانی کو حکومتی اراکین کو اپنے حق میں رام کرنے پر بھروسہ ہے تب ہی تو وہ مقابلہ جیت سکیں گے ورنہ تو عددی تعداد تو حکومتی اراکین کی زیادہ ہے۔ حکومتی اتحاد کے امیدوار فیصل ووڈا کو الیکشن لڑنے کا اہل قرار دیا گیا۔سندھ سے لیاقت جتوئی سیخ پا ہیں۔ بلوچستان میں ٹکٹ دے کر واپس لینا پڑا۔ تحریک انصاف اپنی جماعت کے اندر ہونے والے اختلافات کا شکار بھی ہے۔ اس پر حکومت مخالف اتحاد خوب لے دے کر رہا ہے۔ اسلام آباد کی سیٹ پر ووٹرز قومی اسمبلی کے اراکین ہیں۔ اس وقت تعداد کے اعتبار سے حکومتی اتحاد کو برتری حاصل ہے۔ اگر انتخاب اوپن بیلٹ پر ہوتا ہے جیسا کہ حکومت اس کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔ یہاں تک کہ اعلی عدالت میں بھی رائے لینے چلی گئی۔ جس کا فیصلہ جلد متوقع ہے۔کچھ ذکر حکومتی امیدوار ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا۔ان کا تعلق سندھ کے علاقے خیر پور سے ہے، اعلی تعلیم یافتہ ہیں۔ بوسٹن یونیورسٹی سے معاشیات میں ماسٹر اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھتے ہیں۔ خالص پاکستانی ہیں، ملک سے باہر خدمات انجام دیں لیکن دوہری شہریت کے حامل نہیں۔ ہاورڈ یونیورسٹی کی فیکلٹی میں شامل رہے۔ تعلیم کے اعتبار سے وہ سید یوسف رضا گیلانی سے کہیں آگے ہیں۔انہوں نے سیاست پاکستان پیپلز پارٹی سے شروع کی، پاکستان پیپلز پارٹی پارٹی کی حکومتوں میں ماہرکی حیثیت سے خدمات انجام دیں، سینیٹر بھی رہے۔ گفتگو سے وہ بھی نرم مزاج، دھیمے لہجہ لیے ہوئے ہیں۔ ان کی پیشہ وارانہ مہارت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں جب معاشی مشکلات حد سے بڑھ گئیں تو عمران خان صاحب نے ڈاکٹر شیخ کی خدمات حاصل کیں اور اب انہیں اسلام آباد کی سیٹ پر سینٹ کا امیدوار نامزد کیاگیا ہے۔ اس طرح یہ مقابلہ سینٹ انتخابات میں سب سے اہم، دلچسپ اور کانٹے کا مقابلہ ہوگا۔سینٹ کے انتخابات میں ووٹ خریدنے کی روایت بہت پرانی ہے۔ حالانکہ سینٹ ایوان بالا ہے اس کے اراکین کو تو اعلی تعلیم یافتہ، تجربے کار، ایماندار، محب وطن، اعلی اخلاق کا حامل ہونا چاہیے۔ ایسا کہ جب اس کا نام لیا جائے تو سوچوں میں نیک اور پارسا شخصیت کی خوشبو آئے۔ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین کو بھی اسی قسم کی خوبیوں کا حامل ہونا چاہیے۔ اب اگر ہمارے چند نمائندے چند ٹکوں کے عوض ضمیرفروش ہوجائیں، بک جائیں، خود کو بیچ دیں تو ایسے منتخب اراکین دنیا میں تو خوشیاں سمیٹ لیں گے، قانون سے بچ جائیں گے، لوگوں میں اپنے آپ کو پارسا محسوس کرالیں گے لیکن اللہ کی پکڑ سے کیسے بچیں گے۔ خریدار بھی برابر کے مجرم ہیں، وہ اپنی ناجائز دولت کے بل بوتے پر اراکین کو خرید کر سینٹ کے رکن بن جاتے ہیں۔اس وقت کیا رقم گردش کر رہی ہے وزیر اعظم عمران خان صاحب از خود بتا چکے۔ حکومت نے سینٹ میں اراکین کی خریدو فروخت کو روکنے کے لیے اوپن بیلٹ سے انتخابات کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ مخالفین جو ماضی میں سینٹ اراکین کی خرید و فروخت کو روکنے کے لیے اسی قسم کی بات کر چکے ہے لیکن اس وقت اس کی مخالفت کر رہے ہیں،وجہ یہ ہے کہ حکومت کو چند نششتوں کی برتری حاصل ہے اور مخالف اتحاد کو قومی اسمبلی، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور پنجاب اسمبلی میں اکثریت حاصل نہیں، سندھ میں حکومتی اتحاد کو برتری حاصل نہیں۔ حکومت مخالف اتحاد صرف اس وجہ سے حکومت کی اس کوشش کی مخالفت کررہا ہے کہ اس وقت یہ ترمیم کیوں؟ اس سے قبل حکومت کو یہ خیال کیوں نہیں آیا، بات میں وزن ہے لیکن اچھا کام جب اور جس وقت ہوجائے اچھا ہوتا ہے۔ حزب اختلاف کوعلم ہے بلکہ یقین ہے کہ تحریک عدم اعتماد، سینٹ الیکشن کا وہی نتیجہ ہوگا جو سینٹ کے چیئرمین کے انتخابات میں ہوا، آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع میں ہوا، بجٹ کی منظوری میں ہوااور دیگر بلوں کی منظوری میں ہوا۔ آگے آگے دیکھتے ہیں ہوتا ہے کیا۔