39

کوروناوبا کے دوران چین کا تعاون قابل ستائش ہے، ڈاکٹر فیصل سلطان

 وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ کوڈ 19 کے خلاف کیخلاف پاکستان کی جنگ میں چین کی حمایت انتہائی قابل تعریف ہے، چینی محکمہ صحت کے حکام نے کویڈ۔19 کے بارے میں اپنے تجربات کو دل کھول کر پاکستانی ماہرین صحت کے ساتھ شیئر کیا ہے جبکہ پاکستان میں ویکسین فراہمی کا آغاز چینی ویکسین کے عطیات سے ہوا تھا۔ گوادر پرو کے مطابق ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ پاکستان اپنی آبادی کو ویکسین لگا رہا ہے اور اس مہم کا آغاز ان ویکسین سے کیا گیا تھا جو چین نے انہیں تحفے میں د ی ۔ تاہم ہمیں لاکھوں افراد کو لگانی ہے ، لہذا ہم اپنی ویکسین بھی خرید رہے ہیں۔ ہمیں چین سے خریدی گئی ویکسین کی پہلی کھیپ موصول ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے فرنٹ لائن کارکنوں اور بزرگوں کو ویکسین لگائی گئی ہے جبکہ پاکستان کو اب اور مستقبل میں مزید ویکسین کی ضرورت ہے۔ہم نے خریدی ہوئی ویکسین کی پہلی کھیپ اس اہم موقع پر منگوائی ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کین سینو ویکسین کی 60000 خوراکیں موصول ہوچکی ہیں جبکہ آنے والے مہینوں میں لاکھوں خوراکیں آئیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ کین سینو ہمارے لئے بہت اہم ہے کیونکہ پاکستان اس کے کلینیکل ٹرائلز کا حصہ تھا۔ ٹرائلز کامیاب رہے ، جس کی بنیاد پر ہم نے ملک میں ہنگامی استعمال کے لئے کین سینو کو رجسٹر کیا۔ ہمیں سائنو فارم کی نصف ملین خوراکیں بھی ملی ہیں۔ ہ نصف ملین خوراک کی آمد کے بھی منتظر ہیں۔ ہم نے یہ خوراکیں چین سے خریدی ہیں۔ڈاکٹر فیصل نے مزید کہا کہ پاکستان مئی اور جون کے مہینوں میں کین سینو کی مزید ویکسین خریدے گا۔ انہوں نے کہا ہم پہلے ہی ویکسین کی 0.8 ملین خوراکیں لے چکے ہیں ، اور انہوں نے عوام سے کوویڈ 19 کے ایس او پیز پر عمل کرنے کی اپیل کی اور بزرگوں سے کہا کہ وہ ویکسین لگوائیں ۔ ڈاکٹر سلطان نے کہا کہ پاکستان کو ابھی تک کینسو بائیو کی 60000 خوراکوں کے ساتھ سائنوفارم ویکسین کی 1.7 ملین خوراکیں موصول ہوچکی ہیں جبکہ جلد سائنو فارم کی نصف ملین خوراکیں پہنچیں گی۔ انہوں نے کہا لاکھوں خوراکیں آئیں گی اور ویکسین کی خریداری جاری رہے گی۔ ایک سو ملین پاکستانی آبادی 18 سال سے زیادہ عمر کی ہے اور اصولی طور پر ان سب کو ویکسین لگوانی چاہیے ۔