94

کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے


سینیٹ الیکشن کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی وفاقی دارالحکومت کی جنرل سیٹ پر کامیاب ہو گئے ہیں۔ حکمراں جماعت کے لیے یہ بڑا اپ سیٹ ہے کیونکہ ان کے امیدوار اور موجودہ وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو شکست ہوئی ہے۔حفیظ شیخ کے مقابلے میں یوسف رضا گیلانی کو متحدہ اپوزیشن پی ڈی ایم کی حمایت حاصل تھی۔ یوسف رضا گیلانی کو 169 ووٹ جبکہ حفیظ شیخ کو 164ووٹ ملے۔ قومی اسمبلی میں 340ووٹ کاسٹ کیے گئے اور اس دوران سات ووٹ مسترد ہوئے۔سینیٹ کے انتخابات پر سپریم کورٹ کی رائے کی روشنی میں گذشتہ روز الیکشن کمیشن نے خفیہ رائے شماری برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔یوسف رضا گیلانی کی فتح پر پاکستان کے وزیر اطلاعات شبلی فراز کا ایک پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ اسلام آباد کے نتائج عمران خان کے خدشات کی تائید ہیں۔اپوزیشن نے ضمیروں کا سودا کیا۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور شہباز گِل نے کہا ہے غیر حتمی طور پر سات ووٹ ریجیکٹ ہوئے ہیں۔ پانچ ووٹ کا فرق ہے۔ ابھی اس نتیجہ کو چیلنج کریں گے۔گیلانی کی جیت پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہنا تھا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ جعلی مینڈیٹ عوام کے نمائندوں نے واپس چھین لیا۔اب عمران خان کے پاس وزیر اعظم ہائوس پر قابض رہنے کا کوئی جواز نہیں۔غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں خواتین کی سیٹ پر تحریک انصاف کی رہنما فوزیہ ارشد 174کے ساتھ کامیاب رہی ہیں۔ان کے مدمقابل اپوزیشن کی امیدوار فرزانہ کوثر کو 161ووٹ حاصل ہوئے۔ اس دوران پانچ ووٹ ریجیکٹ بھی ہوئے اور کل ووٹ 340 کاسٹ کیے گئے تھے۔ بلوچستان میں سینیٹ کے انتخابات میں کوئی اپ سیٹ نہیں ہوا بلکہ حکومتی اتحاد اور اپوزیشن میں شامل اتحاد نے اپنے اپنے اراکین کی تعداد کے لحاظ سے نشستیں حاصل کی ہیں۔نتائج کے مطابق حکومتی اتحاد کو بارہ میں سے آٹھ جبکہ حزب اختلاف کی جماعتوں کو چار نشستیں مل گئی ہیں۔بلوچستان سے سینیٹ کی بارہ نشستوں کے لیے تمام صوبائی اسمبلی کے پینسٹھ اراکین نے اپنے ووٹ کاسٹ کیے۔ حکومتی اتحاد کو سات جنرل نشستوں میں سے پانچ جبکہ حزب اختلاف کی جماعتوں کو دو نشستیں ملیں۔حزب اختلاف کی جماعتوں میں سے جے یو آئی کے مولانا عبد الغفور حیدری اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے محمد قاسم رونجھو کامیاب ہوئے۔ٹیکنوکریٹس کی دو نشستوں پر جے یو آئی کے کامران مرتضی اور بلوچستان عوامی پارٹی کے سعید احمد ہاشمی کامیاب ہوئے۔ خواتین کی نشستوں پر بلوچستان نیشنل پارٹی کی ثمینہ احسان اور بلوچستان عوامی پارٹی کے ثمینہ ممتاز کامیاب ہوئیں جبکہ ایک اقلیتی نشست پر دنیش کمہار نے کامیابی حاصل کی۔سندھ اسمبلی میں سینیٹ کے انتخابات میں غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق ٹیکنوکریٹ نشست پر فاروق ایچ نائیک اور سیف اللہ ابڑو جیتے ہیں جبکہ خواتین کی نشست پر خالدہ اطیب اور پلوشہ خان جیتیں ۔ پنجاب سے گیارہ سینیٹرز پہلے ہی بلا مقابلہ منتخب ہو چکے ہیں ۔گزشتہ روز یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی کی ایک ویڈیو نجی ٹی وی چینل پر نشر ہوئی، جس میں انہیں حکمراں جماعت کے ارکان سے ووٹ ڈالنے کے طریقے پر بات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔علی حیدر گیلانی نے یہ تسلیم کیا کہ یہ ویڈیو ان کی ہی ہے تاہم ان کے مطابق ان سے تحریک انصاف کے پارلیمنٹیرینز نے خود رابطہ کیا تھا اور یہ بتایا تھا کہ ان پر پارٹی مرضی کے خلاف ووٹ ڈالنے کے لیے دبائو ڈالا گیا تو پھر ایسی صو رت میں وہ کیا کریں گے؟ ان کے مطابق انہوں نے ان حکومتی ارکان کو ایسی صورت میں ووٹ ضائع کرنے کا طریقہ بتایا۔علی حیدر گیلانی کا کہنا تھا کہ میں ویڈیو میں وہ ووٹ مانگ رہے تھے۔ ان کے مطابق وہ ایک امیدوار کے بیٹے ہیں اور ووٹ مانگنا ان کا حق ہے۔حکومت نے الیکشن کمیشن سے اس ویڈیو پر کارروائی کا مطالبہ کیا اور یوسف رضا گیلانی کو نااہل کرنے سے متعلق کمیشن کو درخواست بھی دے دی۔تیسری بڑی جماعت ہونے کے باوجود بلوچستان سے تحریک انصاف کا کوئی امیدوارکیوں نہیں تحریک انصاف کی بلوچستان اسمبلی میں اراکین کی تعداد سات ہے۔انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلال بھٹو زرداری  نے کہا سینیٹ انتخابات کے نتائج کے بعد وزیر اعظم عمران خان کو اب شکست تسلیم کرکے استعفی دے دینا چاہیے۔یوسف رضا گیلانی کی جیت پی ڈی ایم کی تاریخی کامیابی ہے، ہم نے حکومت کو ہر میدان میں شکست دی ہے، یہ اس وزیر خزانہ کی ناکامی ہے جو حکومت چلا رہا ہے۔یوسف رضا گیلانی پہلے وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے اور اب چیئرمین سینیٹ بھی منتخب ہوں گے۔ یہ پاکستان کی تمام جمہوری قوتوں اور سیاسی جماعتوں کی جیت ہے اور پاکستان کے جمہوری سفر میں ایک نیا دور شروع ہونے والا ہے۔ اب انہیں شکست تسلیم کر لینی چاہیے اور استعفی دے دینا چاہیے، یہ صرف اب اپوزیشن کا نہیں بلکہ حکومتی اراکین کا بھی مطالبہ ہے۔پی ڈی ایم نے سینیٹ انتخابات سے پہلے طے کر لیا تھا کہ عدم اعتماد بھی ہوگا۔ سینیٹ انتخابات کے بعد اپوزیشن کا اگلا قدم لانگ مارچ یا عدم اعتماد ہوگا یہ فیصلہ پی ڈی ایم کرے گی۔ ہم جمہوریت کی بحالی اور اداروں کی مداخلت کو روکنا چاہتے ہیں، عمران خان کی حکومت کی تین سالہ کارکردگی سب کے سامنے ہے، عوام سمجھ چکے ہیں کہ وہ بجلی کے بلوں اور مہنگائی کا بوجھ ان کی نالائقی کی وجہ سے اٹھا رہے ہیں۔دریں اثناء تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی فرخ حبیب اور کنول شوذیب کی جانب سے ویڈیو معاملے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان میں سابق وزیراعظم اور سینیٹ امیدوار یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کے لیے درخواست دائر کی ہے۔الیکشن کمیشن میں دائر درخواست میں مقف اختیار کیا گیا کہ ایک وائرل ویڈیو میں ملتان سے رکن پنجاب اسمبلی علی حیدر گیلانی، سینیٹ انتخاب میں اپنے والد کو فائدہ پہنچانے کے لیے کچھ پارلیمینٹیرینز کو ووٹ ضائع کرنے کا طریقہ بتارہے ہیں اور انہیں نمبرز دے کر بیلٹ پر لکھنے کا بھی کہہ رہے ہیں۔بعدازاں انہوں نے سینیٹ الیکشن متاثر کرنے کے اس مجرمانہ فعل میں ملوث ہونے کا اعتراف بھی کیا۔الیکشن کمیشن کرپٹ پریکٹس سے محفوظ بناتے ہوئے منصفانہ اور آزادانہ انتخابات کروانے کا پابند ہے۔یوسف رضا گیلانی اور ان کے بیٹے کرپٹ پریکٹسز کے مرتکب ہوئے اور الیکشن ایکٹ کی دفعہ 174 کے تحت سزاوار ہیں۔لہذا یوسف رضا گیلانی کو قانون و آئین کی خلاف ورزی کرنے اور بیٹے کے ساتھ مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہونے پر نااہل قرار دیا جائے۔ پی ٹی آئی نے اس ویڈیو کو شرمناک قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن سے اس کا نوٹس لینے اور یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ویڈیو کے معاملے پر الیکشن کمیشن کی ویجیلنس کمیٹی نے نوٹس لے کر تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔ویجیلنس کمیٹی میں قومی احتساب بیورو ، وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے، فیڈرل بورڈ آف ریونیو ، نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی اور اسٹیٹ بینک حکام شامل ہیں۔ ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن ویڈیو کے حوالے سے میرٹ پر فیصلہ کرے گا۔حیرت انگیز امر یہ ہے کہسینیٹ انتخابات میں ووٹ ڈالنے سے پہلے ووٹرز کو اس کی تربیت دی جاتی ہے لیکن سابق وزیر داخلہ شہر یار آفریدی نے بیلٹ پیپر پر دستخط کرکے ووٹ ضائع کردیا۔شہریار آفریدی کا کہنا تھا میں گزشتہ کئی روز سے بیمار ہوں اور اسی وجہ سے الیکشن کی تیاریوں کے سلسلے میں پارٹی اجلاسوں میں بھی شریک نہیں ہوسکا۔الیکشن کمیشن کو درخواست میں انہوں نے کہا میں نے بیلٹ پیپر پر نمبر ڈالنے کے بجائے دستخط کردیے، لہذا مجھے دوبارہ ووٹ کاسٹ کرنے کی اجازت دی جائے۔حیرت ہے کہ شہریار آفریدی رکن قومی اسمبلی ہونے کے ساتھ ساتھ پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر کے چیئرپرسن ہیں، اس کے علاوہ وہ وزیر مملکت برائے داخلہ بھی رہ چکے ہیں۔بہرحال سینٹ کے حالیہ انتخابات پر سوالیہ نشان ہمیشہ ثبت رہے گا۔اکثریت کے باوجود حکومت کی شکست ظاہر کرتی ہے کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔