66

گلگت بلتستان ترقیاتی منصوبے اورترقیاتی پیکج


وزیر اعلی گلگت  بلتستان خالد خورشید نے کہا ہے کہ نگر کے محرومیوں کا خاتمہ کرکے نگر کو مثالی ضلع بنائیں گے۔ ضلع نگر سیاحت کے حوالے سے منفرد مقام رکھتا ہے۔ سیاحت کے فروغ کیلئے بھرپور اقدامات کئے جائیں گے۔گلگت  بلتستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کا آغاز ضلع نگر سے ہوگا۔ نگر پسن میں سٹیڈیم کے قیام کے حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ سے بات کی ہے جلد پاکستان کرکٹ بورڈ کا وفد پسن نگر کا دورہ کرے گا۔ پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون سے نگر میں فائیو سٹار ہوٹل تعمیر کیا جائے گا۔  ماضی میں ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے ترقیاتی منصوبے التوا کا شکار ہوئے۔ اداروں کی استعدادکار بڑھانے کیلئے اصلاحات کررہے ہیں۔ تعمیر و ترقی کے عمل کو تیز کرنے کیلئے کسی بھی فورم سے منظور نہیں ہوئے صرف ان منصوبوں کو ختم کیا گیا ہے تاکہ تھرو فارورڈ کو کم کیا جاسکے۔ ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت میں مکمل کرائے جائیں گے۔دو سو میگاواٹ کے منصوبے گلگت  بلتستان ڈویلپمنٹ پیکیج میں شامل کئے گئے ہیں۔ گلگت  بلتستان کے تمام دیہاتوں کا ماسٹر پلان تیار کیا جائے گا اور اس ماسٹر پلان کے تحت تمام دیہاتوں میں سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان گلگت  بلتستان میں سیاحت کے فروغ اور تعمیر و ترقی پر خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں۔ سیاحت کے فروغ کیلئے ویلج ڈویلپمنٹ پلان پر کام کیاجارہاہے جس سے گلگت  بلتستان میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور عوام کی معیار زندگی میں بہتری آئے گی۔ پہلے مرحلے میں گلگت  بلتستان کے تین دیہاتوں میں ویلج ڈویلپمنٹ پلان کے تحت ان دیہاتوں میں سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا۔ ضلع نگر کو بھی پائلٹ پروجیکٹ میں شامل کیا جائے گا۔ صحت اور تعلیم ہماری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ہسپتالوں اور سکولوں کے پی سی فورز کی منظوری پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ پورے صوبے میں شجرکاری مہم چلایا جائے گا اس شجرکاری مہم کے تحت نیا ریکارڈ بنائیں گے۔ شجرکاری کے بین اضلاعی مقابلے ہوںگے۔ نئے سیاحتی مقامات متعارف کرائے جائیں گے جس سے سیاحت کو فروغ ملے گا۔ گلگت  بلتستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تحریک انصاف کی وفاقی حکومت سے گلگت  بلتستان کیلئے ڈھائی سو ارب کا ترقیاتی پیکیج مل رہاہے۔ ترقیاتی منصوبے کسی بھی علاقے کی ترقی کے ضامن ہوتے ہیں ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر لاگت میں اضافہ اور عوام کی تکالیف و پریشانیوں کا باعث ہوتی ہے۔ اس لیے وقت پر منصوبے مکمل نہ کرنے والے ٹھیکیداروں کے خلاف سخت کارروائی اور متعلقہ افسران کے خلاف بھی ایکشن لیا جانا چاہیے۔موجودہ حکومت میں تو یہ تاخیر ہر جگہ نظر آتی ہے معیشت کے شعبے میں خاطر خواہ پیشرفت نہ کرنے اور غیر ضرورتی اخراجات کی کمی کے لیے کفایت شعاری کی مہم سے لے کر حزب اختلاف کے رہنمائوں کے خلاف مبینہ بدعنوانی کرنے پر کارروائی، اس حکومت کے ہر فیصلے اور ہر قدم پر ناقدین کی جانب سے نکتہ چینی دیکھنے میں آئی ہے۔ حکومت معاشی صورتحال کے پیش نظر  کسی طبقے کے لیے کوئی سہولت نہیں دے سکی۔جب ہماری حکومت آئی تو اقتصادی حالات ایسے تھے کہ اس کی ساری توجہ ان پر مرکوز تھی اور اس کی وجہ سے وہ اصلاحات پر کام نہ کر سکی کہا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کی سب سے بڑی ناکامی اقتدار میں بغیر تیاری آ جانا تھا۔ایک ایسی پارٹی جو اقتدار میں آنے کے لیے پانچ سال سے تیاری کر رہی تھی، اس کو نہ صرف اقتدار کی خواہش تھی بلکہ انہیں انتخابات میں اپنی کامیابی پر یقین تھا، انہوں نے کوئی تیاری ہی نہیں کی تھی۔ مہنگائی میں کافی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور کھانے پینے کی اشیا کی قیمت میں اضافے کا براہ راست اثر سب سے غریب طبقے پر ہورہا ہے اور اس کے لیے جینا مشکل ہو چکا ہے۔ حکومت نے ٹیکس کی مد میں آمدنی کی بات تو بہت کی  لیکن سٹیٹ بینک رپورٹ کچھ اور ہی بتاتی ہے اس سے نپٹنے کے لیے حکومت کے پاس کوئی حکمت عملی بھی نہیں ہے۔حکومت کو متعدد شعبوں میں چیلنجز کا سامنا ہے سول سروس یعنی بیورو کریسی میں اصلاحات لانا، تعلیم و تحقیق کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنا اور کاروبار کرنے والوں کے لیے سودمند ماحول فراہم کرنا اہم ترین ترجیحات ہونی چاہیں تھی لیکن موجودہ حالات دیکھتے ہوئے  کچھ بہتری نہیں آئی۔حکومت کی سب سے بڑی ناکامی سیاسی استحکام کے لیے کوشش نہ کرنا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ یہ ایک مٹھی بھر اکثریت کے ساتھ بنائی گئی حکومت ہے اور ان کے ساتھ دیگر مختلف قوتوں کی حمایت ہے، اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حکومتی امور، بالخصوص سلامتی، خارجہ، داخلہ اور ٹیکس پالیسی جیسے معاملات کے لیے اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔حکومت کی یہ ایک بڑی خامی رہی ہے کہ وہ اقتدار میں آ کر بھی گزشتہ انتخاب سے پہلے کا بیانیہ چلا رہی ہے اور پی ٹی آئی والے حکومت میں ہوتے ہوئے بھی اپوزیشن جیسی باتیں کرتے ہیں۔ اس سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ حکومتی امور پر سنجیدہ نہیں ہیں۔حکومت کی سب سے بڑی ناکامی عوام کے حقوق، بالخصوص آزادی اظہار رائے کو سلب کرنا ہے۔ گھٹن کا یہ ماحول اتنا زیادہ ہے کہ پی ٹی آئی کے سخت ترین ناقدین نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد یہ حالات ہوں گے۔حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں وہ علاقے جو ماضی میں بھی نظر انداز کیے جاتے رہے اب بھی نظر انداز ہو رہے ہیں ان میں گلگت بلتستان سرفہرست ہے'حالانکہ حکومت نے اس علاقے کی تقدیر بدلنے کے بلند بانگ اعلانات کیے تھے۔عوام بار بار ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں کہ موجودہ حکومت نے ریکارڈ قرضے تو لیے ہیں مگر ان کے اثرات عوام تک کیوں منتقل نہیں کیے؟کیونکہ پاکستان نے بین الاقوامی اداروں اور ممالک سے لیے گئے قرضہ جات میں سے نوے فیصد قرضے بالکل استعمال ہی نہیں کیے۔ غیر ملکی قرضوں کے درست استعمال نہ ہونے کے باعث جہاں پاکستان پر عالمی اداروں کا دبائوو بڑھ رہا ہے، گزشتہ دہائیوں کے دوران پاکستان کو بین الاقوامی اداروں کی جانب سے قرض ٹیکس نظام کو فعال بنانے اور توانائی کے شعبے میں بہتری کیلئے فراہم کیے گئے۔ پاکستان نے بین الاقوامی اداروں کے ذریعے بجلی کے منصوبے شروع کیے۔ پاکستان نے ایشین ڈیولپمنٹ بینک، ورلڈ بینک، اسلامک ڈیولپمنٹ بینک، جاپان، فرانس، جرمنی اور امریکا کے مالی تعاون سے بجلی کے شعبے کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے قرض لیا۔ رابطہ کمیٹی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ غیر ملکی معاونت سے چلنے والے بجلی کے زیادہ تر منصوبے سست رفتاری سے آگے بڑھ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں غیر ملکی فنڈز کی ادائیگی روک دی گئی ہے۔حکومت نے توانائی کے شعبے میں چودہ منصوبوں کیلیے عالمی اداروں سے قرض لیا، لیکن ان میں سے آٹھ منصوبے ملکی معیشت کیلئے مسئلہ بن گئے ہیں، بلکہ اکثر منصوبے سفید ہاتھی بن چکے ہیں۔ پاکستان منصوبے میں تاخیر پر تقریبا دو فیصد ادا کررہا ہے۔فنڈز کے درست استعمال نہ ہونے کے باعث عالمی برادری کے درمیان ہماری ساکھ متاثر ہورہی ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کس منصوبے کیلئے کس نے کتنا پیسہ دیا؟ یہ پیسہ کہاں استعمال ہونا تھا؟ اس پیسے کو استعمال کیوں نہیں کیا جاسکا؟ایسے میں ضرورت اس بات کی تھی کہ گلگت بلتستان کو جاری اور نئی منصوبوں کے لیے فنڈز جاری کیے جاتے تاکہ وہاں ترقیاتی کاموں کی رفتارتیز ہوتی سیاحت' صنعت 'زراعت 'معدنیات'تعلیم 'صحت اور توانائی کے منصوبوں میں تیزی آتی اور ملک کا فائدہ ہوتا' لوگوں کو روز گار میسر آتا گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں کی محرومیاں ختم ہوتیں لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔