56

گلگت بلتستان کیلئے ترقیاتی پیکج کی تیاری، پندرہ رکنی بین الوزارتی کمیٹی تشکیل

گلگت بلتستان کیلئے ترقیاتی پیکج کی تیاری کیلئے بین الوزارتی کمیٹی تشکیل دید ی گئی ہے ،وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسدعمر نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کی ترقیاتی ضروریات کو طویل عرصے سے نظرانداز کیا جارتا رہا ہے ، پسماندہ علاقوں کی ترقی تحریک انصاف کی حکومت کی اولین ترجیح ہے ، وفاقی حکومت اور جی بی انتظامیہ مشترکہ طور پر گلگت بلتستان کی عوام کے لئے مربوط ترقیاتی لائحہ عمل مرتب کرے گی،وفاقی وزیرمنصوبہ بندی وترقی اسدعمرکی زیرصدارت اجلاس ہوا اجلاس میں گلگت بلتستان کے لئے ترقیاتی پیکج کا معاملہ زیرغور آیا، ترقیاتی پیکج کو حتمی شکل دینے کیلئے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کی سربراہی میں ایک بین الوزارتی کمیٹی کی تشکیل دی گئی جو 15 دن کے اندر اندر گلگت بلتستان کے تمام شعبوں کی ترقی کیلئے منصوبوں کی نشاندہی کرے گی اور مئی سے پہلے پہلے ان منصوبوں پہ کام شروع کر دیا جائے گا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ گلگت بلتستان کو آج تک نظر انداز رکھا گیا ہے مگر اب وقت آگیا ہے کہ گلگت بلتستان کو وزیر اعظم کی ہدایت کے مطابق ترقی کی راہ پہ گامزن کیا جائے۔ قبل ازیں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے اجلاس کو بتایا کہ گلگت بلتستان کے اندر بے پناہ صلاحیت موجود ہے جی بی پاکستان کی معاشی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے بشرطیکہ اس صلاحیت کو اجاگر کر کے اسے استعمال میں لایا جائے انھوں نے کہا کہ عوام اور عوام کی منتخب حکومت کا وفاقی حکومت پہ بے انتہا اعتماد ہے کہ وہ علاقے کی پسماندگی دور کرے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان منصوبوں کے اجراء اور تکمیل کیلئے باقاعدہ وقت مقرر کرتے ہوئے وہاں کے ہر شعبے کو ملک کے دیگر حصوں کے برابر لایا جائے تاکہ محرومیوں کا ازالہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں 40 ہزار میگا واٹ پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور پورے ملک کی ضروریات پوری کر سکتا ہے بشرطیکہ اسے استعمال میں لایا جائے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ تمام سیکٹرز میں کام کرنے کی ضرورت ہے اور امید ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی خصوصی توجہ کے باعث گلگت بلتستان میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا۔ گلگت بلتستان ترقیاتی پیکیج میں ٹرانسپورٹ، کمیونیکیشن، کلین انرجی آف گرڈ سولوشن، جیمز، منرل، ٹریڈ، کامرس،ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ، ہیلتھ، ایجوکیشن، فنی مہارت، سیاحت اور الائیڈ سہولیات، ماحولیات اور موسمی تغیرات، اور زرعی ترقیاتی تجارت کے منصوبوں سمیت، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بہت سارے منصوبے شامل ہونگے۔