Image

بجلی کا ضیاع



صوبائی وزیر برقیات مشتاق حسین نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں صارفین کی اکثریت بل ادانہیں کررہی ہے۔ حکومت کی جانب سے سولر نظام کے ذریعے بجلی فراہمی پر کام ہورہا ہے اگر سولر پر کام نہیں ہوا تو جنریٹرز سے عوام کو بجلی فراہم کی جائے گی اب عوام کو اندھیرے میں نہیں رکھا جاسکتا ہے۔ اس وقت صرف گلگت شہر میں بجلی کی ضرورت 85 میگاواٹ ہے جبکہ پیداور نہ ہونے کے برابر ہے بڑھتی ہوئی آبادی میں بجلی بھی زیادہ استعمال ہورہی ہے اور گلگت بلتستان میں بھاری برقی آلات استعمال کئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے سردیوں میں بجلی کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے۔ کے پی این کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گرمیوں میں بجلی کی پیداوار 123 میگاواٹ ہے جبکہ ڈیمانڈ 255 میگاواٹ ہے اسی طرح سردیوں میں 452 میگاواٹ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن پیداور 93 میگاواٹ ہوتی ہے جس کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ کرنا مجبوری ہوتی ہے ہم یہ نہیں کہتے ہیں کہ بجلی کے مسائل نہیں ہیں بجلی کے مسائل ہیں اب ان کے حل کے لئے کام کرنا ہے سولر نظام کے ذریعے 180 میگاواٹ تک بجلی پیدا ہوگی اور ہماری کوشش ہے کہ سولر کے ذریعے بجلی دے سکیں اگر سولر ممکن نہ ہوا تو ہم نے ڈیزل جنریٹرز سے ہی عوام کو بجلی فراہم کرنا ہے۔ سابقہ سال میں ڈیزل جنریٹرز سے فی یونٹ بجلی 61 روپے کی حکومت کو ملتی تھی ان تمام اخراجات کے باجود بھی عوام کو بجلی فراہم کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے۔ غیر قانونی کنکشنز کے خاتمے کے لئے چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں باقاعدہ جزا و سزا کا نظام بھی ہے جرمانے عائد کئے جائیں گے۔باالخصوص سپیشل لائنوں کو حکومت ختم کررہی ہے عوام کو برابری کی بنیاد پر بجلی فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہم اس بات کو مان رہے ہیں کہ بجلی کا بحران ہے اب اس بحران پر قابو پانے کے لئے ہی میگا پاور پراجیکٹس کا مکمل ہونا بہت ضروری ہے گلگت کے لئے ہینزل پاور پراجیکٹ اور بلتستان کے لئے غواڑی اور شعر تھنگ پاور پراجیکٹس مکمل ہونے سے بجلی کا بحران کا خاتمہ ہوگا۔ برقی آلات کے محتاج ہیں۔ گھر ہو یا دفتر، فیکٹری ہو یا سڑک نیز ہر جگہ بجلی ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ مگر پچھلی چند دہائیوں سے نہ صرف ہماری روزمرہ کی زندگی میں بجلی کا استعمال بڑھ گیا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس کا ضیاع بھی افسوس ناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ گلی اور سڑکوں کی سٹریٹ لائٹس صبح آٹھ بجے تک جلتی دکھائی دیتی ہیں جہاں ایک لائٹ اور پنکھے سے گزارا ممکن ہے وہاں تین تین پنکھے چلتے دکھائی دیتے ہیں غیر ضروری آلات کا استعمال تقریبات کے موقع پر برقی قمقموں کا استعمال یہ سب اس بات کی نشاندہی ہے کہ بجلی کے بحران میںہمارے رویوں کا بھی حصہ ہے اور پھر ہم اس بات کا رونا روتے دکھائی دیتے ہیں کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ نے ہمارا جینا محال کر رکھا ہے۔ ضرورت ہے کہ ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں بجلی کا ضیاع کم سے کم کریں تا ملک کو بحران سے نکالا جا سکے۔ گھر کی ائیر کنڈیشنگ اور سردیوں میں ہیٹرز کے ذریعے گھر کے اندر کا درجہ حرارت متوازن رکھنے کا انحصار بجلی پر ہے تو آپ کو گھر کی اچھی طرح انسولیشن کروانے کی ضرورت ہے۔ گھر کی کھڑکیوں پر اچھے موٹے پردے لگائیں جو باہر کے موسم کی سختی و گرمی سے بچاتے ہیں اور آپ کو اچھی انسولیشن فراہم کر کے توانائی کے استعمال کے اعتبار سے آپ کی بچت کرتے ہیں۔اگر کسی کھڑکی سے کوئی ہوا کا گزر ہے تو آپ اسے ٹیپ یا گلیو لگا پر بند کر سکتے ہیں تاکہ باہر سے آنے والی ہوا آپ کے گھر کے درجہ حرارت پر زیادہ اثر انداز نہ ہو اور آپ کے ایئر کنڈیشنر یا ہیٹر کو زیادہ چلنا نہ پڑے۔گھروں کی بہتر انسولیشن کرنے کے بعد دوسرا بنیادی کام گھر کے اندر ایک متوازن درجہ حرارت کو برقرار رکھنا ہے۔ موسم سرما کے وسط میں ٹی شرٹ پہننا یا موسم گرما کے دوران جرسی پہننا بیوقوفی ہے ویسے ہی گھر کا ایک متوازن درجہ حرارت برقرار نہ کرنا توانائی کا ضیاع ہے۔اس سے بچنے کی کنجی گھر میں ایئرکنڈیشن یا ہیٹر کا متوازن تھرمو سٹیٹ ترتیب دینا ہے۔ سردیوں میں گھر کا درجہ حرارت 23 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے، 21 سے 23 ڈگری سینٹی گریڈ ایک متوازن اور آرام دہ درجہ حرارت ہے۔ اگر ایک ڈگری بڑھاتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ توانائی کا زیادہ استعمال اور اس کھپت کا دارو مدار گھروں میں برقی آلات اور ان کی حالت میں منحصر ہے۔ عموما ایک ڈگری سینٹی گریڈ میں اضافہ سات سے دس فیصد تک توانائی کی کھپت میں اضافہ کر سکتا ہے۔اسی طرح گھروں کے دروازے بند رکھنے سے بھی آپ اپنا بجلی کا بل کم کر سکتے ہیں۔اسی طرح ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ موسم گرما میں باہر کے درجہ حرارت کے مقابلے میں گھر میں اے سی کے درجہ حرارت کو آٹھ ڈگری کم پر رکھیں۔ اگر باہر کا درجہ حرارت 33 ڈگری سینٹی گریڈ ہے تو آپ اپنے اے سی کا تھرموسٹیٹ 18 ڈگری پر رکھنے کی بجائے 25 ڈگری سینٹی گریڈ پر رکھیں یہ آپ کی بجلی کی کھپت کو کم کرے گا۔اے سی کے تھرموسٹیٹ کو 20 ڈگری سینٹی گریڈ سے 24 ڈگری سینٹی گریڈ پر لے جانے سے بجلی کی بہت بچت ہوتی ہے۔ موسم گرما یا سرما میں ایک ڈگری بڑھانے یا کم کرنے سے آپ دس فیصد قیمت میں اضافہ کرتے ہیں۔توانائی کی بچت کا دوسرا اہم حصہ، جو گھروں میں بجلی کی کھپت کا تقریبا 55 فیصد حصہ ہے، گھریلو برقی آلات اور ان کے استعمال کا طریقہ ہے۔ یہاں یہ بہت ضروری ہے کہ وہ گھریلو برقی آلات خریدے جائے جو کم توانائی استعمال کر کے زیادہ بچت دیں۔اگر ہم اپنے گھروں میں بجلی بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں اچھے معیار کے گھریلو برقی آلات خرید کر ان کا سمجھداری سے استعمال کرنا ہو گا۔توانائی کی کھپت کے لحاظ سے، گھروں میں سب سے زیادہ بجلی ریفریجریٹر استعمال کرتا ہے، کیونکہ یہ سب سے زیادہ وقت تک پلگ ان ہوتا ہے۔ یہ گھر کی وہ بجلی سے چلنے والی شے ہے جس میں ہمیں توانائی کی کارکردگی پر سب سے زیادہ توجہ مرکوز کرنی ہوتی ہے۔اسی طرح واشنگ مشین اور گیزر کا سمجھداری سے استعمال آپ کے بجلی کے بل کو بہت حد تک کم کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ 40 سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت کے پانی سے کپڑے دھو سکتے ہیں تو آپ کو 60 ڈگری تک پانی گرم نہیں کرنا چاہیے۔ گھریلو برقی آلات کو ان کے ایکو پروگرامز پر چلائیں۔ اسی طرح ڈرائر بھی وہ گھریلو اپلائنس ہے جو بہت زیادہ بجلی استعمال کرتا ہے اور بعض اوقات اس کے استعمال کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔جہاں تک ڈش واشر کا سوال ہے تو وہ بھی بہت زیادہ بجلی استعمال کرتا ہے اور اس کا گھروں میں استعمال بھی قدرے زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے مناسب استعمال کے لیے بنیادی بات یہ ہے کہ آپ اس میں برتنوں کو اچھے انداز میں ترتیب دے کر رکھیں تو اس کے برتن دھونے کے وقت اور بجلی کے استعمال میں آدھے کا فرق پڑ جائے گا۔اسی طرح مائیکرو ویو اوون یا الیکٹرک اوون کے استعمال میں یہ تجویز کیا جاتا ہے الیکٹرک ہیٹنگ پلیٹس یا اوون وغیرہ کو کھانے کے پکنے کے مقررہ وقت سے کچھ پہلے بند کر دیں۔اور ان میں موجود تپش و گرمائش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا کھانا مناسب طریقے سے پکنے یا گرم ہونے دیں۔ یہ بھی آپ کو بجلی بچانے میں مدد دے گا۔ اگر آپ کے اوون میں کوئی ایسا کھانا ہے جسے پکنے میں ایک گھنٹہ درکار ہے تو آپ اسے مقررہ وقت سے دس منٹ پہلے بند کر دیں اور اس میں موجود تپش اور گرمائش پر اسے پکنے دیں۔ اس سے آپ 15 فیصد بجلی بچا سکتے ہیں۔اسی طرح کھانا گرم کرنے یا پکانے کے لیے مناسب سائز کے برتن کا استعمال کریں تاکہ توانائی اور تپش کا ضیاع نہ ہو۔ اگر برتن بہت بڑے پیندے والا ہو گا تو اسے گرم ہونے میں زیادہ بجلی اور توانائی درکار ہو گی۔بجلی بچانے اور تپش برقرار رکھنے کا ایک دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ کھانے بنانے والے برتنوں کو ڈھانپ دیں اس سے وہاں بننے والی بھاپ اور تپش جلد کھانا پکانے میں مدد دے گی۔ اپنا ٹی وی ریموٹ کنٹرول سے بند کر کے اٹھ جاتے ہیں اور اس کا سوئچ بند نہیں کرتے تو ٹی وی پر چلنے والی وہ چھوٹی سی لال بتی بھی بجلی استعمال کرتی ہے، اور یہ تھوڑا تھوڑا کر کے روزانہ کی بنیاد پر آپ کی بجلی کے بل میں اضافہ کر رہی ہے۔اگر آپ اس کا سوئچ بند کر دیں یا اس کی تار بجلی کے سوئچ سے نکال دیں تو آپ خاطر خواہ بجلی بچا سکتے ہیں۔ایسا ہی کمپیوٹرز، پرنٹرز اور موبائل فون چارجرز، سٹیریو سسٹمز، وائی فائی رئٹرز اور مائیکرو ویوز کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ ہمارے گھروں میں مسلسل سوئچ میں آن رہتے ہیں اور ہمیں سمجھتے ہیں کہ یہ بند ہیں۔ جبکہ ایسا نہیں ہے۔جب آپ کوئی ڈوائس استعمال کرنا بند کر دیں تو اس کو مکمل طور پر تار نکال کر بند کریں۔ اس کو سٹینڈ بائی موڈ پر چلتا نہ چھوڑیں، کم ہی سہی لیکن یہ بجلی استعمال کرتی ہیں۔ٹی وی جتنے پرانے ہوتے ہیں وہ اتنی ہی زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں۔گھروں میں لگے روایتی بجلی کے بلب زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں ، لہذا انہیں نئے اور کم بجلی استعمال کرنے والے بلبوں سے تبدیل کرنا چاہیے۔ہیٹرز کو چلتا نہ رہنے دیں بلکہ کچھ دیر بعد بند کردیں۔اس طرح تیس فیصد تک بجلی بچائی جا سکتی ہے ۔
۔