Image

نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی

 ڈپٹی اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی نذیر احمد ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ انقلابی منصوبوں پر عملی کام شروع کررہے ہیں، نوجوانوں کو روزگار کے بہترین مواقع فراہم کریں گے۔ہمارے نوجوان زندگی کے ہر شعبے میں آگے جارہے ہیں،گلگت بلتستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔ہمارے نوجوان بدلتے حالات کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔پاکستان کے بڑے اداروں اور انٹرنیشنل مقابلوں میں پیش پیش ہیں اور کھیلوں سمیت ہر شعبے میں اپنا لوہا منوایا ہے۔روزگار کی فراہمی حکومت کی اہم ترین ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔ معاشی ترقی کا عمل جاری رہے تو روزگار کے مواقع خود بخود ہی پیدا ہوتے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام ترقی یافتہ ملکوں میں نہ صرف مقامی آبادی مکمل طور پر بر سر روزگار ہوتی ہے بلکہ انہیں دوسرے ملکوں سے بھی افرادی قوت درآمد کرنا پڑتی ہے۔ نوجوانوں کو ہنر مند بنانا کسی ملازمت کے بغیر اپنی روزی آپ کمانے کے قابل بنانا بھی بے روزگاری کے چیلنج سے نمٹنے کا ایک موثر ترین ذریعہ ہے۔ آج کل فری لانسنگ اور آن لائن کا دور دورہ ہے۔ چنانچہ حکومت کو چاہئے کہ آن لائن روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے جس کا دائرہ کار پوری دنیا تک وسیع ہونا چاہئے۔اگر سماج کی دنیا کی بات کی جائے تو مشرق و مغرب کے وہ تمام بڑے لوگ جنہوں نے قوموں، امتوں اور تہذیبوں کا سمتِ سفر تبدیل کیا، معاشرتی انقلاب برپا کئے یعنی افلاطون، ارسطو، سقراط اور بقراط سے لے کر سارتر ،سپنسر، نطشے، فرائیڈ ہیگل اور روسو تک ان سب کا راستہ امیری نہیں فقیری تھا، ہے اور رہے گا۔ اسی طرح اگر معیشت کی دنیا کی بات کی جائے تو بنگلہ دیش میں غریبوں کے لئے 30 ڈالر سے قائم ہونے والے ڈاکٹر یونس کے گرامین بینک نے دنیا کو نیا معاشی فارمولہ دیا ہے۔ اس بینک کی 1041شاخیں ہیں، لیکن اس کے بورڈ آف گورنرز میں آج بھی تےرہ میں سے نو ممبران عام ان پڑھ دیہاتی جفاکش مزدور ہیں۔ اسی طرح ریڑھی پر برگر کی فروخت سے کام شروع کرنے والے ہارلینڈ ڈیوڈ سینڈرزپوری دنیا میں معروف فوڈ چین کے کھر ب پتی مالک بن گئے۔ ان معاشروں اور ممالک میں کوئی بھی شخص اپنی انتھک محنت، توجہ اور صلاحیت کے بل بوتے پر آگے بڑھنے کا خواب پورا کرسکتا ہے، ہمارا معاشرہ تو بانجھ پن کا شکار ہے۔ یہاں پر جائز اور سسٹم کے طریقے پر چل کر اعلی منصب، دولت، ترقی اور شہرت حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ایسا ہر گز نہیں ہے۔غریب کیلئے بھی مواقع اتنے ہی ہیں جتنے امیر کے لئے ہیں۔ غریب کی اولاد بھی کامیابی کی معراج اور ترقی کے زینے پر چڑھ سکتی ہے۔ کئی لوگ ایسے ہیں جو ہمہ وقت روتے رہتے ہیں۔ آخرکار یہی رونا ان کا مقدر بنادیا جاتا ہے۔ کبھی ناکامیوںپہ، کبھی زمانے پہ، کبھی حسرتوںپہ، کبھی وسائل کی کمیابی پر۔ہمارے ہاں کی جانے والی سب سے اہم سرمایہ کاری وہی ہے، جو نوجوانوں کے لیے بہتر ہو۔ اگر نوجوانوں پر سرمایہ کاری کرنی ہی ہے تو یہ تین قسم کی ہو سکتی ہے۔ نوجوانوں کو تعلیم، ملازمت اور مثبت سرگرمیوں کی ضرورت ہے اور اسی سرمایہ کاری کی بدولت ہم نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے جرائم کی بیخ کنی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ معاشرے میں موجود افراد ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں اور معاشرے کی کردار سازی کی ذمہ داری بھی ان ہی پر عائد ہوتی ہے۔اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی کل آبادی کا قریبا 64 فیصد 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ان میں سے 27 ملین بے روزگار ہیں۔ یہ بے روزگار نوجوان پاکستانی معاشرے کے لیے ٹائم بم جیسی حیثیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ معاشرے میں بہت سے ایسے عناصر موجود ہیں، جو نوجوان نسل کو منفیت کی طرف دھکیلتے ہیں۔ان عناصر میں غیر موثر تعلیمی نظام، ناقص مصروفیت، سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں میں شمولیت کا نہ ہونا، سرکاری اور نجی طور پر روزگار کے بہترین مواقع میسر نہ ہونا، معاشی عدم استحکام کی وجہ سے بے چینی اور عدم برداشت کا بڑھ جانا شامل ہیں۔اگر بین الاقوامی کرائم انڈیکس 2021 کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان اپنے سے آبادی میں کئی گنا بڑے بھارت کے 77 نمبر کے مقابلے میں 79 نمبر پر کھڑا ہے۔ پاکستانی نوجوان نسل میں موجود جرائم میں سب سے زیادہ منشیات کی خرید وفروخت اور استعمال شامل ہیں۔ایک اندازے کے مطابق قریبا چالےس فیصد نوجوان، جن میں پندرہ سے تےس سال تک کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں شامل ہیں، نشے کی لت میں مبتلا ہیں اور اس کی بڑی وجہ ایڈوینچر اور تھرل ہے۔ قریبا بےس فیصد نوجوان پڑھائی کے پریشر کو کم کرنے کے لیے سکون آور نشے کا استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے معروف تعلیمی اداروں میں بھی منشیات کی خریدو فروخت عام بات بن چکی ہے اور بہت سے خطرناک جرم صرف اس نشے کی خرید کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔سب سے زیادہ ذہنی دباﺅ کا شکار نوجوان آبادی ہے، جو کہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کہیں نہ کہیں تو معاملات ہاتھ سے نکل رہے ہیں اور ان مسائل سے معاشرہ جس طور نمٹ رہا ہے وہ اقدامات ناکافی ہیں۔ حکومتی سطح پر نوجوان نسل کو وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت اعلی تعلیمی پالیسی کے ذریعے مثبت جانب لانے کی کوشش کی گئی۔ جبکہ لیبر سروے رپورٹ نے ان اقدامات کو ناکافی اور ناقص قرار دیتے ہوئے چند مزید عوامل کی نشاندہی کی، جو نوجوان نسل میں جرائم کے اضافے کا سبب ہیں۔ان میں سر فہرست معاشی دباﺅ اور اچھے طرز زندگی کی خواہش ہے، جس کو پورا کرنے کے لیے پڑھے لکھے یا ہنر مند نوجوانوں کے لیے مناسب مواقع موجود نہیں ہیں۔ اس صورت میں واحد راستہ جرم ہی باقی بچتا ہے۔ موجودہ حکومت بھی اپنے تئیں کامیاب جوان کے تحت قرضہ جات کی فراہمی کا دعوی کرتی ہے مگر بینکنگ ذرائع کے مطابق اس کا طریقہ کار کافی مشکل ہے، جس کی وجہ سے قرض کے لیے درخواست دینے والوں کو اس کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ملک بے روزگار تعلیم یافتہ لوگوں کے رجحان کا سامنا کر رہا ہے، خاص طور پر بے روزگار گریجویٹس کا۔ ڈگری ہولڈرز میں بے روزگاری کی شرح دیگر مجموعی بے روزگار لوگوں کے مقابلے میں تقریبا تین گنا زیادہ ہے۔ اس کی وجہ دی جانے والی تعلیم اور گریجویٹس کو جذب کرنے کے لیے معیشت کے ساتھ مطابقت نہ ہونا ہے۔اگر دیکھا جائے تو کوورنا وبا کے اثرات کی وجہ سے بے روزگاری بڑھی ہے۔ تمام تر ضروریات تو وہی ہیں اور ان کو پورا بھی کرنا ہے۔ علاوہ ازیں وبا نے مہنگائی کی صورت بھی اثرات چھوڑے ہیں۔ مگر معاشی طور سے بدحال ہونا اور روزگار کے مواقع کا مزید سکڑ جانا، قابل فکر وجوہات ہیں چونکہ ہم ٹیکنالوجی کے دور میں جی رہے ہیں اور پڑھے لکھے لوگ بے روزگار ہیں، اس لیے، جن جرائم میں نوجوان نسل زیادہ شامل نظر آ رہی ہے، وہ منشیات کے علاوہ سائبر کرائمز اور سٹریٹ کرائمز ہیں۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے مطابق سائبر کرائم میں 83 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اس کو سر انجام دینے والے لوگ زیادہ تر طلبا یا بے روزگار ڈگری ہولڈر ہیں۔اس کے علاوہ جرائم کی کچھ پیچیدہ نفسیات بھی نوجوانوں میں جرائم بڑھنے کا سبب ہے۔ جس میں بچپن میں خواہشات کا پورا نہ ہونا، بچے کو جرم سے بھرا ماحول ملنا یا پر تشدد ماحول میں پرورش پانا، تعلیمی یا معاشی دباﺅ وغیرہ شامل ہیں۔ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ انسانی ذہن عام طور سے منفیت کا جلدی اثر لیتا ہے۔ ہم جو کچھ پڑھتے، دیکھتے یا سنتے ہیں، ہمارے لا شعور میں محفوظ ہو جاتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ میڈیا بھی کسی حد تک جرائم کے بڑھنے میں مددگار ہے۔ معاشرے کے کچے ذہن کے کم پڑھے لکھے نوجوان گلیمر اور چمکتی دنیا دیکھ کر یک لخت اس کو حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اسی وجہ سے کسی بڑے جرم کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں۔اس لےے ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کو روز گار کی فراہمی کےلئے تمام اقدامات بروئے کار لائے جائےں اور انہےں اس سلسلے میں معاونت فراہم کی جائے اگرچہ حکومتوں کے پاس سب کو سرکاری ملازمتےں دےنے کی گنجائش نہےں ہوتی لےکن ےہ حکومت ہی کا فرض ہے کہ وہ نجی شعبے میں ان کے لےے روزگار کا اہتمام کرے۔