جدید کمیونیکیشن اور سیاحت


صوبائی وزیر سیاحت و ثقافت راجہ ناصر علی خان نے کہا ہے کہ ایس سی او گلگت بلتستان میں کمیونیکشن کے حوالے سے قابل تعریف خدمات سر انجام دے رہا ہے۔گلگت بلتستان کا زیادہ تر حصہ جدید کمیونیکیشن کی سہولت سے مستفید ہو چکا ہے امید ہے پسماندہ علاقوں میں بھی ایس سی او جلد اپنی سروسز مہیا کر دے گا۔ تنگوس میں فور جی ٹاور کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا گلگت سکردو روڈ پر فور جی ٹاورز کی تنصیب ایس سی او کا احسن اقدام ہے۔اس سے جہاں حادثات کی صورت میں بروقت اطلاع مل پائے گی وہیں مسافروں کو دوران سفر اپنے پیاروں سے رابطے کی سہولت میسر آئے گی۔انہوں نے کہا سیاحت کی ترقی جدید کمیونیکیشن کے بغیر ممکن نہیں، گلگت بلتستان میں سیاحتی مقامات پر ایس سی او نے فور جی اور ایس کام کی سہولت دے رکھی ہے جو کہ سیاحت کے فروغ میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کے ٹو بیس کیمپ پر بھی ایس سی او نے ایس کام فور جی سروس کا آغاز کیا ہے جس پر ایس سی او کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔کے ٹو پر فور جی کے آغاز سے کوہ پیمائوں کو فائدہ حاصل ہو گا اور سیاحت کو بھی ترقی ملے گی۔انہوں نے کہا حکومت ایس سی او کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گی۔کچھ عرصہ قبل وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ گلگت بلتستان میں تھری جی اور فور جی سروسز کی دستیابی نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور علاقے میں سیاحت کے فروغ کیلئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔وزیر اعظم نے کہا تھا موجودہ حکومت گلگت بلتستان کی ترقی کیلئے پر عزم ہے اور اس مقصد کیلئے پہلے ہی ایک تاریخی پیکج کی منظوری دی جا چکی ہے۔وزیراعظم نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت ،سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو ہدایت کی کہ وہ گلگت میں مواصلاتی سہولتوں کی بہتری کیلئے کوششیں جاری رکھیں۔ملک میں جب چند سال قبل موبائل کمپنیوں نے تھری جی اور فور جی نیٹ ورکس لانچ کیے تو صارفین کے لیے سب سے خوش آئند بات یہ تھی کہ اب وہ کہیں بھی اپنے موبائل فون کے ذریعے پہلے سے کہیں تیز انٹرنیٹ حاصل کر سکتے تھے۔کمیونیکیشن  کی ٹیکنالوجی میں آنے والی بڑی اور بنیادی تبدیلیوں کو سائنسدان جنریشن یا جی سے بیان کرتے ہیں۔1980 کی دہائی میں جب موبائل فون اولین طور پر متعارف کروائے گئے تو وہ ریڈیائی لہروں کا استعمال کرتے تھے نہ کہ ڈیجیٹل۔ اس کی وجہ سے آواز میں شور آنا اور غیر متعلقہ افراد کے لیے فون پر ہونے والی گفتگو سن پانا آسان ہوتا تھا۔ اس سسٹم کو فرسٹ جنریشن یا ون جی نیٹ ورکس کہا جاتا تھا۔1990 کے اوائل میں سیکنڈ جنریشن یا ٹو جی موبائل سسٹمز نے ان کی جگہ لینی شروع کی اور ان کی بنیاد گلوبل سسٹم فار موبائلز کے تکنیکی معیارات پر رکھی گئی۔ٹو جی نیٹ ورکس ڈیجیٹل تھے اور ان پر منتقل ہونے والے نیٹ ورکس نے خود کو جی ایس ایم کہلوانا شروع کیا۔اسی لیے کسی زمانے میں موبائل کمپنیوں کے اشتہارات میں لفظ جی ایس ایم پر زور دیا جاتا تھا؟ان کے بعد جی پی آر ایس ٹیکنالوجی کے ذریعے موبائل فون سے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہونی شروع ہوئی، پھر جی نیٹ ورکس میں انٹرنیٹ کی سپیڈ بڑھائی گئی اور اسے ایج کا نام دیا گیا۔کبھی کبھی سگنلز کی کمی کی وجہ سے موبائل انٹرنیٹ پر  ای لکھا آتا ہے۔ ایک وقت تھا جب ہماری لائف لائن یہی  ای انٹرنیٹ ہوتا تھا اور آج ہم اسے کچھ خاص اہمیت نہیں دیتے۔تھری جی ٹیکنالوجی کے آنے سے موبائل انٹرنیٹ کی رفتار بھی بہتر ہوئی اور سیکیورٹی بھی بہتر بنائی گئی۔ پاکستان میں اس کے لائسنس 2014 میں نیلام کیے گئے اور پاکستانی موبائل صارفین کے لیے انٹرنیٹ تک دور دراز علاقوں میں بھی رسائی ممکن ہوئی۔اس کے ساتھ ہی ایک فور جی لائسنس بھی نیلام کیا گیا جسے پاکستان میں زونگ نے خریدا۔ فور جی تکنیکی طور پر بھی تھری جی سے کافی مختلف ہے اور اس کا نتیجہ صارفین کے لیے زیادہ تر صرف انٹرنیٹ کی تیز تر سپیڈ کی صورت میں ہی نظر آتا ہے۔ فائیو جی نیٹ ورکس کے آنے سے اور بھی تیز رفتار انٹرنیٹ تک رسائی ممکن ہونے والی ہے اور ایسا ہونے سے چیزوں میں بہتری آئے گی،ہائی ڈیفینیشن یعنی بہترین کوالٹی کی وائس اور ویڈیو کالز ہو سکیں گی 'آن لائن ویڈیوز کو بھی بفرنگ کے وقفوں کے بغیر اعلی کوالٹی میں دیکھا جا سکے گا۔آن لائن گیمز کھیلتے وقت سست انٹرنیٹ کی وجہ سے دوسروں سے پیچھے نہیں رہیں گے۔یہ پانچویں جنریشن تین بڑی تبدیلیاں لائے گی۔ایک تو اس سے انٹرنیٹ کی سپیڈ بہت تیز ہوجائے گی جس سے آن لائن ویڈیو ایڈیٹنگ اور مشترکہ طور پر کام کرنا آسان ہوجائے گا۔دوسرا لیٹینسی یعنی انٹرنیٹ ڈیوائس سے منزل تک پیغام پہنچنے میں لگنے والا وقت فائیو جی نیٹ ورکس کی بدولت بہت کم رہ جائے گا، جس کی وجہ سے سرجنز دور دراز علاقوں میں بیٹھ کر ایسے ہی سرجری کر سکیں گے جیسے وہ وہاں خود موجود ہوں، ورچوئل ریئلٹی کے ذریعے سپورٹس کھیلی جا سکیں گی جبکہ اسی طرح دیگر کئی کام کیے جا سکیں گے۔ مشینوں کے مشینوں سے کنکشن میں بہتری آئے گی جس سے انٹرنیٹ آف تھنگز کے میدان میں بہت زیادہ ترقی متوقع ہے۔یہ ٹیکنالوجی انٹرنیٹ آف تھنگز یعنی ہمارے آس پاس کی چیزوں کے ایک دوسرے سے رابطے بہتر کر سکے گی جس سے ہماری گاڑیاں اپنے اندر موجود مسائل خود رپورٹ کر سکیں گی، ڈاکٹر اپنے پاس موجود سینسرز سے مریضوں کی زیادہ بہتر تشخیص کر سکیں گے۔ فائیو جی کے آنے سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ روبوٹکس، انٹرنیٹ آف تھنگز، ٹرانسپورٹ، طب اور انسان کے لیے خطرناک شعبوں میں مشینوں کا استعمال کیا جا سکے گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ فائیو جی نیٹ ورکس سے روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں ترقی ہوگی اور ان کا روز مرہ کی زندگی میں استعمال زیادہ ہونا شروع ہوگا'فائیو جی کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ صارفین کے استعمال کے لیے بالکل تیار ہے، درست نہیں ہے کیونکہ پوری دنیا میں اس حوالے سے ابھی بھی آزمائشیں جاری ہیں۔ایک عام صارف کے لیے سب سے بنیادی تبدیلی یہی ہوگی کہ ان کے لیے انٹرنیٹ کی سپیڈ پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہوگی۔ کسی بھی نئی ٹیکنالوجی کے آنے سے یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس سے دنیا، معاشرے اور اقتصادیات پر کیا فرق پڑ رہا ہے۔ اگر مجموعی اثر کو دیکھیں تو بالآخر معاشرے پر اس کا اچھا اثر پڑے گا، اس نسل کو ابھی نہیں تو دس سال یا بیس سال بعد ضرور فائدہ ہوگا۔ حکومت کو ایسی پالیسیاں بنانی ہوں گی جن کے ذریعے کاروباری برادری فائیو جی کو استعمال کرنے پر قائل ہو سکے۔ اسی وجہ سے اس کا سب سے زیادہ استعمال چین، جاپان اور امریکہ میں ملے گا اور یہ تینوں ممالک تیزی سے فائیو جی لانچ کرتے جا رہے ہیں۔پاکستان میں یہ سب اتنا قریب تب تک نہیں ہوگا جب تک کہ حکومت ایسی پالیسیاں نہیں لاتی جن سے ٹیکسٹائل، آٹوموبائل، الیکٹرسٹی کمپنیاں اپنے کام کے لیے فائیو جی کا استعمال کریں۔فائیو جی کے ذریعے آپ اپنے آبی وسائل کو بغیر کسی انسانی مداخلت کے مانیٹر کر سکتے ہیں لیکن یہ کسی شخص یا کسی موبائل آپریٹر کے کرنے کا کام نہیں بلکہ اس میں حکومت کو آگے آنا ہوگا۔ فائیو جی بہت کچھ کرنے کے قابل بنا سکتا ہے لیکن یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس سے کیسا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ پاکستان میں ایک مرتبہ حکومت لائسنس نیلام کرے، تو نیٹ ورک کی حد تک تو اسے نافذ کرنا زیادہ مشکل نہیں۔ تکنیکی بنیادوں پر تو اسے آسانی سے نافذ کیا جا سکتا ہے اور اگر پی ٹی اے اجازت دے تو یہ عملی طور پر ممکن ہے کہ پاکستان میں ایک سال کے اندر اندر لانچ کیا جا سکے۔مگر جو ممالک ایسے ہیں جہاں سرمایہ کاری پر منافع زیادہ ہو، وہ اس ارتقا پذیر ٹیکنالوجی کو نافذ کرنے کا رسک تو لیں گے، لیکن پاکستان میں اس میں ابھی وقت لگے گا۔ فائیو جی کی آمد کے ساتھ خودکار گاڑیوں کی صنعت میں انقلاب برپا ہوسکتا ہے مگر اس کے لیے حکومت کو ایسی پالیسیاں بنانی ہوں گی جن سے آٹوموبیل شعبہ ایسی گاڑیاں بنانے کی جانب راغب ہو جو فائیو جی استعمال کریں۔حکومتِ پاکستان نے تھری جی اور فور جی لائسنس کی بھی نیلامی کی تھی جس کے ذریعے حکومت کو کئی ملین ڈالر کا ریوینیو حاصل ہوا تھا۔فائیو جی سے ہم آہنگ ڈیوائسز بھی ابھی پاکستان میں اتنی عام نہیں جس کی وجہ سے اسے مکمل طور پر عمل میں آنے کے لیے کئی سال درکار ہوں گے۔چونکہ فائیو جی نیٹ ورکس میں سگنلز کی فریکویئنسی موجودہ نیٹ ورکس سے مختلف ہوگی اس لیے انہیں استعمال کرنے کے لیے ہینڈ سیٹس بھی مختلف چاہیے ہوں گے'بہرحال جو ٹیکنالوجی دستیاب ہے اسے فوری طور پر گلگت بلتستان کو فراہم کیا جانا چاہیے تاکہ اس سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔