لاک ڈائون بھی: اجازت بھی

نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرکے فیصلوں کے تحت ملک بھر میں 16مئی تک لاک ڈائون نافذ کیا جارہا ہے جس کے تحت بازار،شاپنگ مالز اور دیگر تجارتی مراکز بند رہیں گے جبکہ  تاجرپہلے ہی لاک ڈائون کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے چاند رات تک کاروبار جاری رکھنے کا اعلان کرچکے ہیں تاجر رہنمائوں نے کہا ہے کہ اگر حکومت کوئی ریلیف نہیں دے سکتی تو ہمیں کاروبار کرنے دے ،اس سلسلے میں صدر آل پاکستان انجمن تاجران اجمل بلوچ کا کہنا تھا کہ تاجر برادری چاند رات تک کاروبار جاری رکھے گی۔انہوں نے ساتھ ہی مطالبہ کیا کہ سعودی عرب کی طرح ہماری حکومت بھی چوبیس گھنٹے کاروبار کی اجازت دے۔انہوں نے استفسار کیا کہ فیصلہ ساز بتائیں یومیہ بنیاد پر رزق کمانے والے نودن کہاں سے کھائیں گے؟وزیر اعظم عمران خان کے دفتر کی طرف سے ٹویٹ میں بتایا گیا کہ ملک میں کرونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر حکومتِ پاکستان نے اس عید پر مکمل لاک ڈائون کا مشکل فیصلہ کیا ہے۔ٹویٹ میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ کرونا وائرس کے پھیلا ئوکو روکنے کے لیے وضع کردہ ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔بازار وں کی بندش کے پیش نظر جمعہ کو ملک بھر کی چھوٹی بڑی مارکیٹوں میں ریکارڈ توڑ رش رہا اور لوگ ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مارکیٹوں میں امڈ آئے،خریداروں کے رش کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا تھا کہ شہری چاند رات سے قبل ہی چاند رات منانے کے لئے بازاروں میں امڈ آئے ہیں شہریوں جن میں خواتین کی تعداد زیادہ تھی نے اپنے اور اپنے بچوں کے لیئے کپڑے ،جوتیاں اور چوڑیاں خریدیں اور یہ سلسلہ جمعہ کی شام چھ بجے تک جاری رہا ۔لاک ڈائون کے باوجود عید منانے کے لئے گھروں کو جانے والے افراد کی سہولت کے لئے ہفتہ اور اتوار کو پنجاب اور خیبرپختونخوا نے پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت دیدی ہے ،گاڑیاں نصف مسافروں کے ساتھ چلائی جاسکیں گی، پیر سے  بین اضلاعی اورصوبائی روٹس بند ہوں گے،تاہم نجی گاڑیاں،رکشہ،ٹیکسی ایس اوپیز کے تحت چل سکیں گی۔ہم عجیب قوم ہیں صورتحال کی نزاکت کو بھی نہیں سمجھتے اور ہمسایہ ملک بھارت کے حالات سے بھی سبق سیکھنے پر آمادہ نہیں۔حیرت اس امر پہ ہے جب سب کچھ بند ہو گا بازار'مارکیٹیں'تفریحی مقامات پھر عید شاپنگ کیا ضرورت ہے؟ کسے یہ کپڑے'جوتے اور جیولری دکھائی جائے گی۔ وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کا خطرہ پہلے کی نسبت زیادہ بڑھ گیا۔ اندازہ ہے سولہ مئی تک ٹرانسپورٹ بند کرنے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہوگاخطے میں کورونا کے خطرناک پھیلائو کے باعث یہ فیصلہ ناگریز تھا، عوام کو کورونا کی پہلی لہر کی طرح احتیاطی تدابیر پرعمل کرنا ہوگا۔پاکستان کے پڑوسی ممالک میں کورونا کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ ہورہا ہے، نیپال میں یومیہ کورونا کیسزکی تعداد سات ہزار سے زائد ہوچکی ہے اور ہلاکتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا، پاکستان سے آدھی آبادی رکھنے والے ایران میں یومیہ اموات چار سو تک پہنچ گئی ہیں، بھارت کی صورتحال سے پوری دنیا واقف ہے، وہاں وبا سے پیدا شدہ صورتحال عالمی میڈیا پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، بھارتی اسپتال بھر گئے اور کئی جگہوں پر آکسیجن کی کمی ہے، موجودہ صورتحال میں ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک بھر میں کورونا کے فعال مریضوں کی تعداد82 ہزار 731 ہے۔ جب کہ چارہزار سے زائد مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا سے مزید 120 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جس کے بعد اب اس وبا سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد مجموعی طور پر 18 ہزار 797 ہوگئی ہے۔این سی او سی کے مطابق کورونا سے ایک دن میں  چارہزار 957مریض صحت یاب ہوئے جس کے بعد صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 752712 ہوگئی ہے۔پڑوسی ملک بھارت اس وقت کورونا کی دوسری لہر کے دوران بدترین حالات کا شکار ہے اور وہاں گزشتہ دو ہفتوں سے یومیہ دوسے ساڑھے تین ہزار افراد وبا کے باعث ہلاک ہو رہے ہیں۔بھارت میں کورونا کے آغاز سے چھ مئی تک سب سے زیادہ ہلاکتیں چھ مئی کو ریکارڈ کی گئیں اور وہاں پہلی مرتبہ 3 ہزار 980 افراد کورونا کے باعث ہلاک ہوگئے۔ریکارڈ ہلاکتوں کے بعد بھارت میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 2 لاکھ 30 ہزار 168 تک جا پہنچی جب کہ 6 مئی کو مزید 4 لاکھ 12 ہزار 262 افراد کے کورونا سے متاثر ہونے کے بعد وہاں متاثرین کی تعداد 2 کروڑ 10 لاکھ 77 ہزار 410 تک جا پہنچی۔کورونا کی دوسری لہر کے دوران بھارت میں جہاں عام افراد وبا سے غیر محفوظ ہیں، وہیں سیاسی، سماجی و شوبز شخصیات بھی بڑی تیزی سے اس کا شکار ہو رہی ہیں اور وہاں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران سولہ اداکار کورونا کے باعث چل بسے۔کووڈ سے خواتین کو نوکریاں گنوانے سے کم از کم 800ارب ڈالر کی آمدن کا نقصان پہنچا ہے اور یہ رقم 98 ممالک کی مشترکہ جی ڈی پی سے بھی زیادہ ہے۔ فلاحی تنظیموں کی کنفیڈریشن آکسفام کے مطابق عالمی سطح پر مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین نے پچھلے سال چھ کروڑ چالیس لاکھ سے زائد ملازمتیں گنوا دیں جو مجموعی طور پر پانچ فیصد نقصان بنتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں مردوں نے 3.9 فیصد نوکریاں گنوائیں۔ وبائی مرض کی وجہ سے مرتب ہونے والے معاشی نقصانات کے سبب خواتین بھی بری طرح متاثر ہوئیں جنہیں نوکریوں میں غیرمتناسب نمائندگی، کم اجرت، معمولی فوائد اور نوکریاں محفوظ نہ ہونے جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے اور اس غلطی کو سدھارنے کے بجائے حکومتوں نے خواتین کی نوکریاں ختم کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اس محتاط اندازے میں وہ لاکھوں خواتین شامل نہیں جو کسی نہ کسی غیررسمی کام سے جڑی ہوئی تھیں اور اس دوران اپنے روزگار سے محروم ہو گئیں اور اس طرح دنیا بھر میں کووڈنے کام کرنے والی خواتین پر بہت برے اثرات مرتب کیے ہیں۔عالمی سطح پر کم تنخواہ دار طبقوں جیسے خوردہ، سیاحت اور کھانے کی سروسز جیسے غیریقینی شعبوں میں خواتین کی زیادہ نمائندگی تھی لیکن یہ شعبے وائرس کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں، جنوبی ایشیا، صحارا افریقہ اور لاطینی امریکا میں خواتین کی اکثریت غیر رسمی ملازمت کا حصہ ہیں۔ خواتین دنیا کی صحت اور معاشرتی نگہداشت کی نفری کا ستر فیصد ہیں اور وہ ان شعبوں کا انتہائی اہم حصہ ہیں لیکن ان کو انتہائی کم تنخواہ دی جاتی ہے جس کی وجہ سے ان کے کووڈ سے متاثر ہونے کا زیادہ خطرہ ہے۔امریکا میں ہر چھ میں سے ایک غیرسفید فام عورت کو کورونا کی وجہ سے غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے۔ دنیا بھر میں حکومتوں کو خواتین کو روزگار کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے کوششیں کرنے چاہئیں اور اس سلسلے میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔گریٹ ڈپریشن کے بعد سے امریکا میں اس حد تک بیروزگاری نہیں بڑھی اور کورونا وائرس کے باعث بڑھتی ہوئی اموات اور معاشی بحران کے باعث بند ہوتے ہوئے کاروباری حالات میں حکومت تیزی سے اقدامات اٹھانے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔ایک اندازے کے مطابق امریکا میں دوکروڑ بیس لاکھ لوگوں کو نوکریاں ملی تھیں لیکن اس وبا کے دوران محض چند ہفتوں میں اتنے ہی افراد نوکریاں گنوا چکے ہیں اور امریکی شہری ایک دہائی میں حاصل کی گئیں نوکریاں گنوا بیٹھے ہیں۔ماہرین معاشیات نے خبردار کیا کہ اس کے اثرات سے نکلنے میں طویل وقت لگ سکتا ہے اور سال کے اختتام تک لاکھوں امریکی نوکریوں سے محروم رہ سکتے ہیں، اگر کچھ معاشی سرگرمیاں بحال ہو بھی گئیں تو بھی بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ اور ویکسین کے بغیر لوگ ریسٹورنٹ اور دفاتر جانے میں خوف محسوس کریں گے۔معاشی پیچیدگیوں کے ساتھ ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی درپیش ہے کہ اپنے اہلخانہ اور دوستوں کو نوکریوں سے محروم ہوتے اور ان کی تنخواہوں میں کٹوتی کو دیکھتے ہوئے امریکی عوام نے اپنے اخراجات میں بڑے پیمانے پر کمی کر لی ہے۔اس حوالے سے اعدادوشمار پر گہری نظر رکھنے والے نیشنل ایسوسی ایشن فار بزنس اکنامکس کے امریکی ماہرین نے بتایا کہ امریکا میں اس وقت بیروزگاری کی شرح بیس فیصد ہے اور سال کے اختتام تک بھی یہ دس فیصد رہنے کا اندیشہ ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر دس میں سے ایک فرد کے پاس نوکری نہیں ہو گی۔