امریکی صدر نے 60 کھرب ڈالر کا مہنگا ترین بجٹ پیش کردیا

امریکی صدر جو بائیڈن نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے سالانہ بجٹ کی تجاویز پیش کردی ہیں جس میں اخراجات کا تخمینہ 6 ٹریلین ڈالر لگایا گیا ہے۔ 

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے 60 کھرب ڈالر کے بجٹ کی تجاویز پیش کردی ہیں۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آخری بجٹ 4 کھرب اور 8 ارب ڈالر کا تھا جب کہ ان کے دور کے تمام بجٹ خسارے کے ساتھ امریکی صدر جوبائیڈن نے بجٹ میں سب سے زیادہ رقم سماجی شعبوں اور ماحولیاتی تبدیلی کے لیے رکھی ہیں جب کہ پینٹاگون کے لیے 1.5 ٹریلین رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ان تجاویز میں 800 بلین ڈالر موسم تبدیلی، 200 ارب 4 سال تک کے بچوں کی مفت پرائمری تعلیم، 109 بلین کالج کے طلبا، 225 بلین خاندانی بہبود اور میڈیکل لیوز، 115 بلین سڑکوں اور پلوں، 160 بلین ریلوے جب کہ 100 بلین ڈالر ہر امریکی کے گھر تک براڈ بینڈ انٹرنیٹ کی سہولت کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

جوبائیڈن کے ان منصوبوں سے 2031 تک قرضہ جی ڈی پی کے 117 فیصد تک پہنچ جائے گا جو جنگ عظیم کے دوران کی سطح سے بھی زیادہ ہے اور جوبائیڈن کے بجٹ کے ان منصوبوں کے باعث ملکی کارپوریشنز اور کاروباری اداروں پر 3 کھرب ڈالر کے ٹیکس کا بوجھ پڑے گا۔

ری پبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے اس بجٹ کو انتہائی مہنگا قرار دیا ہے تاہم ابھی ان بجٹ تجاویز کی کانگریس سے منظوری لینا باقی ہے۔

دوسری جانب جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ بجٹ امریکی عوام میں براہ راست سرمایہ کاری ہے اور اس سے ہماری قوم کی معیشت مستحکم ہوگی اور طویل مدتی مالی صحت میں بہتری آئے گی۔تھے۔