نازک علاقائی صورتحال

طالبان نے وسطی افغانستان کے شہر غزنی کا گھیرائو کر لیا ہے اور افغان سیکیورٹی فورسز سے لڑائی کے لیے شہریوں کے گھروں میں گھس کر مورچے بنا لیے ہیں۔ یہ طالبان کا صوبائی دارالحکومت پر تازہ ترین حملہ ہے جہاں انہوں نے سیکیورٹی فورسز پر دبائو مزید بڑھاتے ہوئے شہر کا گھیرائو کر لیا۔غزنی کی صوبائی کونسل کے رکن حسن رضائی نے کہا کہ غزنی شہر کی صورتحال انتہائی نازک ہے، طالبان شہریوں کے مکانات کو اپنے ٹھکانے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے افغان سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کررہے ہیں جس سے سیکیورٹی فوسرز کے لیے طالبان کے خلاف کارروائی کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔افغانستان میں جنگ کی سربراہی کرنے والے امریکی جنرل آسٹن ملر پیر کے روز اپنی کمان سے دستبردار ہوگئے تھے جس کے ساتھ ہی امریکی کی طویل ترین جنگ کا علامتی طور پر اختتام ہو گیا ہے۔ جنوبی صوبہ قندھار میں بھی دونوں فریقین کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جہاں روایتی طور پر طالبان بڑی تعداد میں موجود ہیں، کابل اور قندھار شہر کے درمیان مرکزی گزرگاہ غزنی ہے۔قندھار میں طالبان کے خلاف مسلح افراد کے ہمراہ برسرپیکار ہونے والے سابق رکن پارلیمنٹ حمیدزئی لالے نے کہا کہ پچھلے چار دنوں سے مسلح طالبان مغربی سمت سے قندھار شہر پر حملہ کر رہے ہیں، افغان سیکیورٹی فورسز بشمول خصوصی دستے طالبان کا مقابلہ کر رہے ہیں اور انہیں پیچھے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔اب تک طالبان صوبائی دارالحکومتوں پر قابض نہیں ہوسکے لیکن انہوں نے افغان سیکیورٹی فورسز پر دبائو برقرار رکھا ہوا ہے کہ وہ ملک بھر میں ہونے والی کارروائیوں کا جواب دیں۔سیکیورٹی فورسز نے ہوائی حملوں کی مدد سے تاجکستان کی سرحد سے متصل ایک اہم شمالی صوبے کے صوبائی مرکز تالقان پر طالبان کے حملے کو پسپا کردیا ہے۔پچھلے ہفتے طالبان مغربی صوبہ بادغیس کے دارالحکومت میں داخل ہو گئے تھے اور پولیس و سیکیورٹی کی تنصیبات پر قبضہ کرنے کے بعد گورنر کے دفتر پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ افغانستان میں بدلتی صورتحال پر پاکستان کی گہری نظر ہے، پوری کوشش ہے کہ کابل میں ایک پرامن اور سب کی رائے پر مبنی نظام حکومت کے ذریعے آگے بڑھا جائے لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو بھی پاکستان کے اندر اس کے اثرات نہیں آنے دیں گے، ہماری افغان پالیسی پاکستان کے مفاد پر ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کہہ چکے ہیں کہ ہم امن میں حصہ دار ہوں گے لیکن جنگ میں نہیں، پاکستان کی زمین افغانستان کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی اور امید ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، سیاسی پارلیمانی قیادت عدم مداخلت کے اصول پر متفق ہے۔بھارت نے طالبان سے لڑائی کے لیے اسلحہ کی بڑی کھیپ افغان حکومت کو فراہم کردی، اسلحہ افغان حکومت کے حوالے کرنے کی تصاویر منظر عام پر آگئی ہیں۔جس کی مدد سے افغان حکومت طالبان کے خلاف کارروائیاں کرسکے گی۔اسلحہ کی اس کھیپ کو لے کر بھارتی سی سترہ طیارے اتر پردیش، جے پور اور چندی گڑھ سے روانہ ہوئے جنہوں نے کابل اور قندھار ایئرپورٹ پر لینڈنگ کے بعد اسلحہ افغان حکومت کے حوالے کیا۔ اسلحہ میں چالیس ٹن سے زائد گولیاں، بھاری گولہ بارود بھی شامل ہے۔ بھارتی جہاز کابل اور قندھار میں افغان حکومت کو اسلحہ دے کر واپسی پر اپنے اسٹاف کو لے کر جا رہے ہیں۔افغان میڈیا کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت افغانستان میں سیکیورٹی صورتحال کا قریب سے جائزہ لے رہا ہے جب کہ قندھار میں جاری شدید لڑائی کے باعث سفارتی عملہ کو واپس بلالیا گیا ہے تاہم سفارت خانہ بند نہیں کیا جارہا۔وزارت خارجہ کی ترجمان کے مطابق بھارتی حکومت افغانستان میں پر امن، خودمختار اور جمہوری حکومت کی حامی ہے، سفارتکاروں کو واپس بلانے کا فیصلہ عارضی اقدام ہے جو سیکیورٹی صورتحال میں استحکام آنے تک لیا گیا ہے تاہم سفارتخانہ میں مقامی عملہ موجود رہے گا۔بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ تقریبا پچاس کے قریب سفارتکاروں اور دیگر عملہ کو قندھار میں جاری طالبان اور مقامی فورسز کے درمیان شدید لڑائی کے باعث فوری طور پر بھارتی فضائیہ کے خصوصی طیارے میں دہلی لایا گیا ہے۔افغانستان کے صدر اشرف غنی نے خوست ایئرپورٹ کے افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا ہے کہ ملک سے غیر ملکی افواج کا انخلا ہونے کے بعد اب طالبان کس سے اور کیوں جنگ کر رہے ہیں۔  افغانستان کے صدر اشرف غنی نے صوبے خوست میں انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں مطالبہ کیا کہ طالبان کو افغان تنازع کو امریکا سے فروری 2021 کو دوحہ میں کیے گئے امن معاہدے کے تحت حل کرنا چاہیئے۔صدر اشرف غنی نے مزید کہا کہ افغان حکومت کے علاوہ کوئی بھی طالبان قیدیوں کو رہا نہیں کر سکتا اور اس کے لیے بہترین پلیٹ فارم بین الافغان مذاکرات ہے جس میں جان بوجھ کر تاخیر کی جارہی ہے۔افغان صدر نے طالبان قیادت سے سوال کیا کہ ملک سے غیر ملکی افواج کے چلے جانے کے بعد اب کس سے اور کیوں جنگ کی جا رہی ہے؟ ہم سب کو شام، عراق اور لبنان کا حشر یاد رکھنا چاہیئے اور اس سے سبق سیکھنا چاہیئے۔افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کا عمل کافی حد تک مکمل ہوچکا ہے تاہم اس دوران طالبان نے سیکیورٹی فورسز سے پچاسی فیصد علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنے کا دعوی کیا ہے جس میں ایران، تاجکستان، ترکمانستان اور چین سے متصل سرحدیں بھی شامل ہیں۔طالبان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی ایران اور ترکمانستان کے ساتھ سرحد اب اس کے کنٹرول میں ہے۔بیس سالہ جنگ کے بعد امریکہ اب اپنے فوجی یہاں سے نکال رہا ہے اور اگست تک فوجیوں کا انخلا مکمل ہو جائے گا۔ بائیڈن کا کہنا ہے کہ افغان مسئلے کا حل یہ نہیں کہ چیزیں جیسی ہیں ویسے ہی چلتی رہیں۔بائیڈن کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ امریکیوں کی اگلی نسل کو افغان جنگ میں نہیں بھیجنا چاہتے اور افغان اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کر سکتے ہیں۔افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا اور طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کا بظاہر انڈیا پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ انڈیا کے انگریزی اخبار دی ہندو نے صفحہ اول پر خبر شائع کی کہ طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے پیشِ نظر انڈیا نے افغانستان کے شہر قندھار میں اپنے قونصل خانے کی بندش کا فیصلہ کیا ہے۔انڈین حکام نے اخبار کو بتایا کہ حکومت نے یہ فیصلہ احتیاطی طور پر لیا ہے۔نوے کی دہائی میں طالبان کا ہیڈ کوارٹر قندھار میں تھا اور طالبان اب ایک مرتبہ پھر قندھار کا کنٹرول سنبھال چکے ہیں ۔اس وقت تک انڈیا کا کابل میں سفارت خانہ اور مزارِ شریف میں اس کا قونصل خانہ بند نہیں ہوئے مگر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر طالبان اسی طرح پیش قدمی کرتے رہے تو انڈیا کے لیے کابل میں سفارت خانے کو محفوظ رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔حال ہی میں پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان ٹی وی چینل طلوع نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ انڈیا اور افغانستان کی ایک دوسرے کے ساتھ سرحدیں نہیں ہیں پھر بھی انڈیا نے یہاں چار قونصل خانے کھول رکھے ہیں۔اس سے قبل اپریل 2020 میں انڈین حکومت نے جلال آباد اور ہرات میں اپنے قونصل خانوں پر کام ملتوی کرتے ہوئے اپنا عملہ واپس بلوا لیا تھا۔انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان اریندم باگچی نے کہا: انڈیا افغانستان میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کو قریب سے دیکھ رہا ہے۔ ہمارے لوگوں کا تحفظ ہمارے لیے نہایت اہم ہے۔ قندھار میں انڈین قونصل خانہ بند نہیں ہوا ہے تاہم انڈین عملے کو قندھار شہر کے پاس تشدد بڑھنے کی وجہ سے واپس بلوایا گیا ہے۔ یہ ایک عارضی اقدام ہے۔قونصل خانہ مقامی عملے کے ذریعے اپنا کام جاری رکھے گا۔ افغانستان ہمارا قابلِ قدر پارٹنر ہے اور انڈیا اس کی خود مختاری، امن اور جمہوریت کے لیے پرعزم ہے۔اس پورے معاملے پر افغانستان کے انڈیا میں سفیر فرید ماموندزئی نے انڈین میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ انڈیا کی تشویش سمجھتے ہیں۔افغان حکومت نہیں چاہتی کہ کوئی بھی قونصل خانے یا سفارت خانے بند ہوں مگر ہم اپنے سفارتی عملے واپس بلوانے والے ممالک کی تشویش سمجھتے ہیں۔اس کے علاوہ قندھار سے انڈین عملے کی واپسی پر پاکستان میں بھی کافی ردِ عمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے اتوار کو کہا کہ انڈیا کو افغانستان میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔انڈیا کے پاس افغانستان سے اپنے عملے کو واپس بلوانے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ جب تک افغانستان میں استحکام نہیں آتا، تب تک وہاں چینی سرمایہ کاری کا فائدہ نہیں ہوگا۔پاکستان کے انڈیا میں سابق ہائی کمشنر عبدالباسط نے لکھا: کاش انڈیا سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان کو پاکستان کے خلاف دہشتگردانہ حملوں کے لیے استعمال نہ کرتا۔ اسے تنازع کشمیر کے حل کے لیے بھی بلوغت کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ انڈین خودسری خطے میں عدم استحکام کی باعث بن رہی ہے۔