پاک افغان سرحد سیل،فوجی دستے تعینات، ملک دشمنوں کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دینگے، عسکری ترجمان

پاک فوج کے  شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائر یکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کا کوئی منظم انفراسٹرکچرموجود نہیں، دہشت گردافغانستان میں بیٹھے ہیں، ان کو بھارت کی سپورٹ حاصل ہے، افواج پاکستان ملک دشمن عناصرکی سرکوبی کے لیے ہرطرح تیارہے، ملک دشمنوں کوکسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے،  پاکستان نے افغانستان میں امن عمل میں معاونت میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی، ہم افغانستان میں امن کے ضامن نہیں، یہ فیصلہ افغان فریقوں نے کرنا ہے، مستقبل میں پیدا ہونے والے حالات کے لیے ہم نے بہت تیاری کی ہے،   افغان نائب صدر کے  پاک فضائیہ سے متعلق الزامات بے بنیاد ہیں، ہم  اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں کرنے دیں گے اور نہ ہی کسی کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال ہونی چاہئے۔ ان خیالاتک ا ظہار انہوں نے  ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں  کیا ۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خطے کی صورت حال پر گہری نظر ہے اگرچہ افغان امن عمن کی کامیابی کے لئے ہم اپنا کردار بہت سنجیدگی سے ادا کر رہے ہیں بالخصوص افغان امن عمل میں معاونت میں پاکستان نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے لیکن افغانستان کے امن میں ہم ضامن نہیں آخر میں یہ فیصلہ افغان فریقین نے کرنا ہے کہ کس طرح وہ آگے بڑھیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد کی صورت حال سے نمٹنے کے لئے ہم نے تمام تر تیاریاں اور حفاظتی اقدامات اٹھا رکھے ہیں ۔مستقبل کے پیدا ہونے والے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ہم نے تیاری کر رکھی ہے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان میں بدامنی اور عدم استحکام کا سب سے برا اثر پاکستان پر پڑے گا اور پرامن افغانستان کا تعلق بھی پاکستان سے  منسلک ہے انہوں نے کہا کہ افعانستان کی صورت حال سے جو سکیورٹی چیلنجز درپیش آ سکتے ہیں ان میں ایک طرف پاکستان میں دہشتگردی سیلپر اور ن کی باقیات کے فعال ہونے کا خدشہ ہے ،دہشتگرد تنظیمیں  آپس میں اتحاد کر سکتی ہیں۔اور دوسری طرف بلوچستان میں شدت پسندوں کو واپس تقویت مل سکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے افغان امن عمل سے پورے پہلے سے حفاظتی اقدامات کر رکھے ہیں سخت محنت اور قربانیوں سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا ۔2017 ء سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے وژن کے مطابق پاک فوج نے اقدامات اٹھائے ہیں افغان سرحد پر 90 فیصد باڑ مکمل ہو چکی ہے ۔ پاک ایران سرحد پر بھی بارڑ کی تعمیر جاری ہے انہوں نے کہا کہ سرحد پر سینکڑوں پوسٹیں قائم کی گئیں ہیں ۔ بارڈر کنٹرول سسٹم کو اپ گریڈ اور سرحد پر بائیو میٹرک سسٹم کی تنصیب کی جا رہی ہے۔غیر قانونی کراسنگ پوائنٹس ختم کر دیئے گئے ہیں۔ صرف نوٹیفائی کراسنگ پوائنٹس سے کراسنگ ہو سکے گی اور باقی پوائنٹس کو سیل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پر باڑ افغانستان کے لئے بھی اتنی فائدہ مند ہے جتنی پاکستان کے لئے ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ واضح کر چکے ہیں کہ یہ باڑ تقسیم نہیں بلکہ امن کو فروغ دے گی انہوں نے کہا کہ ایف سی کی استعداد کار میں اضافہ کیا گیا ہے قبائلی اضلاع اور بلوچستان میں لیویز کو ٹریننگ دی جا رہی ہے جس کی نگرانی پاک فوج کر رہی ہے ۔اب تک ایک جامع عمل اپنایا گیا ہے ۔ ایک سوال پر جنرل میجر بابر افتخار نے کہا کہ ملک میں حالیہ دہشتگردی کا واقعہ سے تعلق افغانستان کی صورت حال سے بنتا ہے ۔ پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ پاکستان میں دہشتگردی کا کوئی منظم سٹرکچر موجود نہیں ہے ۔دہشتگردوں کی قیادت افغانستا میں بیٹھی ہیں، پاکستان میں امن کو خراب کرنے والے عناصر افغانستان میں موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اداروں نے پاکستان کے کردار کو سراہا ہے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا گیا ہے ۔ مئی میں خیبرپختونخوا  میں 150 سے زائد دہشتگردی کے واقعات ہوئے ۔  بلوچستان  قبائلی اضلاع میں سکیورٹی فورسز نے 7500 سے زائد آپریشنز کئے جن میں 42 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا جبکہ ہمارے کئی جوان اور افسر شہید اور زخمی ہوئے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہماری افواج دہشت گردوں کے خلاف سینہ سپر ہیں ۔ ہم ملک و امن دشمنوں کو کسی صورت ان کے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ہماری بھرپور اور جارحانہ کارروائیوں کے نتیجے میں دہشتگرد فرار ہیں اور ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم نے قوم کی حمایت سے طویل اور صبر آزما  جنگ لڑی ہے جس میں ہماری معیشت کو اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا ۔ ہزاروں کی تعداد میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا ۔ ہم نے اپنے علاقوں سے دہشتگردوں کا  صفایا کیا ۔ نوگوایریاز کا خاتمہ کیا ۔بڑی تعداد میں بارودی مواد اور دیگر اسلحہ قبضے میں لیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف  کی ہدایات کے مطابق  آپریشن ردالفساد شروع کیا گیا جس کا بنیادی وژن تھا کہ طاقت کا استعمال کا حق صرف ریاست کے پاس ہے ۔دہشتگردوں کی مالی معاونت اور ان کی سہولت کاری کی روک تھام کے حوالے سے قانون سازی کی گئی ۔انہوں نے کہا کہ ہم  اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں کرنے دیں گے اور نہ ہی کسی کی سرزمین ہمارے خلاف ہونی چاہئے ایک اور سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارت کا افغانستان میں اثرورسوخ رہا ہے جس کا اس نے  پاکستان کے خلاف استعمال کیا اس نے اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کی جس کا مقصد ہی یہی تھا کہ پاکستان کو نقصان پہنچا سکے ۔ بھارت نے پاکستان مخالف عناصر کو دوبارہ منظم کیا ۔ ہمارے پاس بھارت کے حوالے سے ثبوت موجود ہیں بھارت نے کالعدم ٹی ٹی پی کے دھڑوں کو ہمارے خلاف استعمال کیا ۔ اگر افغانستان مستحکم اور پرامن ہو گا تو بھارت کے لئے پاکستان کے خلاف کام کرنا مشکل ہو گا ،بھارت پریشانی میں مبتلا ہے ۔انہوں نے کہا را اور این ڈی ایس افغانستان میں موجود دہشت گرد گروپوں کی حمایت کر رہی ہیں۔ دہشت گردی کے حالیہ واقعات کا تعلق دوسری سائیڈ پیدا ہونے والی صورتحال سے ہے ۔نومبر 2020ئ  کو بھارت کیخلاف ایک ڈوزیئر بنایا تھا جسے پاکستان نے عالمی دنیا کو دیا تھا۔ جس میں تمام ثبوت موجود ہیں کہ بھارت پاکستان میں دہشتگردی کروا رہا ہے۔ ایک سوال میں انہوں نے کہا کہ افغانستان میں کارروائی کے حوالے سے پاک فضائیہ سے متعلق افغان نائب صدر کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ پاکستان نے افغانستان میں کوئی کارروائی نہیں کی۔     افغان نائب صدر امر اللہ صالح کے پاک فضائیہ سے متعلق الزامات بے بنیاد ہیں اور دفتر خارجہ نے اس پر وضاحت دے دی ہے۔ اس طرح کے کوئی اقدامات نہیں ہو رہے۔ پاک ایئر فورس نے کوئی اس طرح کی تیاری کی ، فضائیہ صرف اپنے ملک کی حفاظت کیلئے کام کرتی ہے۔    ہم دوسرے ممالک کی سرحدوں کا احترام کرتے ہیں اور اپنی سرحد کے حوالے سے یہی امید رکھتے ہیں  ۔ ضلع کرم سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اغوائ  ہونے والے16میں سے  10 مزدوروں کو دہشتگردوں نے چھوڑ دیا تھا، ایک کی ڈیڈ باڈی ملی تھی، گزشتہ ہفتے کے دوران ا?پریشن کے دوران ہم نے  باقی پانچ مزدوروں کو بازیاب کرا لیا تھا۔ پاک فوج کے جوانوں عبد الباسط اور حضرت بلال کی شہادت ہوئی تھی۔ جبکہ   3 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا  باقی ماندہ دہشتگردوں کے خاتمے کے لئے سخت کارروائی جاری ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا کی توجہ افغانستان پر مرکوز ہے ۔ کشمیر کی صورت حال مختلف ہے پاکستان ہر فورم پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرتا رہے گا ۔