ملک بھر میں کورونا وائرس سے مزید 44 افراد جاں بحق ہو نے کے بعد اموات کی تعداد 23 ہزار 133 ہوگئی

   اسلام آباد(آئی این پی )  ملک  بھر  میں کورونا وائرس سے مزید 44 افراد جاں بحق ہو نے  کے بعد اموات کی تعداد 23 ہزار 133 ہوگئی، پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 10 لاکھ 15 ہزار 827 ہوگئی۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر  کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4 ہزار 119 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں 3 لاکھ 54 ہزار 312، سندھ میں 3 لاکھ 71 ہزار 762، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 42 ہزار 400، بلوچستان میں 29 ہزار 861، گلگت بلتستان میں 7 ہزار 896، اسلام آباد میں 86 ہزار 226 جبکہ آزاد کشمیر میں 23 ہزار 370 کیسز رپورٹ ہوئے۔ ملک بھر میں اب تک ایک کروڑ 58 لاکھ 18 ہزار 764 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 52 ہزار 291 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 9 لاکھ 35 ہزار 742 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ 2 ہزار 898 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 44 افراد جاں بحق ہوئے جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 23 ہزار 133 ہوگئی۔ پنجاب میں 10 ہزار 978، سندھ میں 5 ہزار 860، خیبر پختونخوا میں 4 ہزار 428، اسلام آباد میں 796، بلوچستان میں 326، گلگت بلتستان میں 127 اور آزاد کشمیر میں 618 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ادھرسندھ حکومت نے کرونا کے پھیلا ئوکو روکنے کے لئے سخت ترین اقدامات کا فیصلہ کرلیا ہے۔ سندھ میں بالعموم اور کراچی میں بالخصوص کرونا کی لہر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، کراچی میں کرونا کے مثبت کیسز کی شرح 30 فیصد سے تجاوز کرگئی ہے، جس کے ساتھ ہی سندھ حکومت نے کرونا کے پھیلائو کو روکنے کے لئے سخت ترین اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں سندھ حکومت نے کراچی میں مزید پابندیوں کے ساتھ لاک ڈائون پر غور شروع کردیا ہے۔طبی ماہرین اور محکمہ صحت سندھ نے صوبائی ٹاسک فورس کو 15 دن کے فوری لاک ڈائون کی سفارش کی ہے تاہم تاجروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد کراچی میں لاک ڈائون کا فیصلہ کیا جائے گا، وزیراعلی سندھ نے صوبائی کرونا ٹاسک فورس کا اجلاس جمعے کو طلب کیا ہے، جس میں لاک ڈائون کے حوالے سے حتمی فیصلہ ہوگا۔سندھ حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جن شہروں میں کرونا کی شرح 20 فیصد سے زائد ہے وہاں لاک ڈائون لگانے کی تجویز ہے، سندھ حکومت نے لاک ڈائون کے نفاذ اور ایس اوپیز پر عمل درآمد کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد لینے پر بھی غور شروع کردیا ہے، ایس اوپیز پر عمل درآمد کے لئے اہم مقامات پرقانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد لی جاسکتی ہے، اس کے علاوہ کراچی کے اسپتالوں میں مریضوں کی گنجائش بڑھانے کے لئے بھی ہنگامی بنیادوں پر اقدامات شروع کرد یئے گئے ہیں۔