رحمة اللعالمینۖ کی مخدومہ کونین صاحبزادی

  شیخ میرزا علی 

کسی بھی شخصیت کی معرفت کیلئے بنیادی طور پر اُن خصوصیات کا جاننا ضروری ہے جو اُس میں نمایاں ہوتی ہیںپھر اُس شخصیت کی شناخت میں پرورش ، خاندان، مکان بہت اہمیت رکھتا ہے اس میں کسی دوسری رائے کی گنجائش نہیں رہتی ہے کہ کائنات میںنسل انسانی کی ابتداء سے قیام قیامت تک ، میدان محشر کی بے سر و سامانی کے عالم سے میزان اور صراط سے گزر کر خلد میں اعلیٰ مقام و درجات پانے تک ایک ہی ہستی نظر آتی ہے جس کو ربّ الارباب نے( َلولاکَ لَما خَلَقتُ الَافلاکَ )سے مخاطب کر کے یہ اعزاز بخشا کہ کائنات کا مقصود بھی تو ہے میری رضا ، اطاعت کا معیار بھی تو ہی ہے اسی طرح بارگاہ الہی میں کسی بھی سطح کی محبوبیت ، پسندیدگی ، نیکی ، اخلاق حسنہ ، تقرب ، شخصیت ، بندگی کا معیار بھی وہی ذات مبارک ہے جس کو معبود لم یزل نے بندوں کے حق میں قبولیت دعا ،طلب مغفرت ، بخشش ، عفو و در گذر ، شفاعت ، سفارش اور رحمت کے اہل ہونے کا معیار بھی اسی پاکیزہ ہستی کو قرار دیا ہے وہ عظیم ہستی جسے پروردگارِعالم نے مصطفیٰ و مجتبیٰ کے سنہرے القاب عطاء فرمائے جو اپنے دامن میں ایک عظیم پیغام رکھتا ہے گو کہ بحیثیت مرسل اعظم اس کائنات میں آپ کا تعارف ہے لیکن مصطفیٰ کا مفہوم نہایت وسعت رکھتا ہے جس حوالے سے اہل دانش طبقوں میں گفتگو رہی ہے کہ اصطفیٰ (چن لیا ) کا تعلق کب سے، کن اصناف اور درجات میں چنا گیا ہے صرف مطلب کی وضاحت کیلئے اتنا اشارہ کر دیناکافی ہے کہ چنی ہوئی ہستی کو بحث کا موضوع بنانے سے پہلے جس مقدس ذات نے آپ کو چنا ہے کو موضوع بحث بنایا جائے تو علمی حلقوں کیلئے نہایت آسانیاں پیدا ہو سکتی ہیں کیونکہ جس ہستی کو جس قادر مطلق ذات نے چنا ہے اُس کا چنائو نہ ادھورا ہو سکتا ہے نہ ایسا چنائو وقتی ہو سکتا ہے اسی حوالے سے احادیث کی کتابوں میں مختلف حوالوں سے ایک حدیث بھی روایت کی گئی ہے جس کے الفاظ بھی روایات کے مختلف ہونے کے ساتھ مختلف ہیں لیکن مفہوم تقریبا ایک ہے جو رحمة اللعالمین کے چنائو کے حوالے سے ہے جس پاکیزہ ہستی کو مختلف زمانوں میں مختلف قبیلوں اور مختلف خاندانوں کے درمیان سے چنا گیا حدیث میں طویل سلسلے اور مختصر سلسلہ کا ذکر ہے جس میںمرحلہ بہ مرحلہ چنائو کاآخری سلسلہ بنی ہاشم کا ہے پھر بنی ہاشم میں سے رحمة اللعالمین کا چنائو رب العزت کا انتہائی انتخاب ہے اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ چنائو کا مطلق اختیار رکھنے والی ذات نے تمام خوبیوں کے ہمراہ چنا ہے اور جس طرح چننے کا حق ہے ویسے ہی چنا ہے جس چنائو میں تمام خوبیاںمدنظر ہیں اور تمام پہلوئوں سے چنائو کیا گیا ہے اس نرالے اور الہی چنائو کے بعد کوئی سوال باقی ہی نہیں رہتا ہے کیونکہ چنائو کرنے والی ذات بے عیب ، جمیل ، حکمت والی اور قدرت رکھنے والی ہے عاجزی جس کے شایان شان نہیں ہے جس ذات نے بے شمار کمالات ، اعزازات ، اختیارات ، احسانات اور القابات سے اپنے منتخب اور نامزد کردہ کو نوازدیا ہے اور اس انداز کے نوازنے کی نہ حد معین ہے اور نہ کسی زمانہ تک محدود ہو سکتا ہے ۔ربّ الارباب کا چنائو جس میں حکمت ، علم ، دانائی ، قدرت ، عدل ، انصاف ، مہربانی کارفرما ہو کے حدود کو معین کیا جا سکتا ہے نہ ہی کسی زمانے سے محدود کیا جاسکتا ہے مثلا یہ تصور کیا جائے کہ جب نبوت پر فائز ہوئے تب سے چنائو بھی عمل میں آیا ہو اعزازات و انعامات کے حقدار قرار پائے ہوں جس کو رحمة اللعالمین نے بزبان وحی اس انداز سے بیان فرمایا  ( اَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّہُ نُورِی )   مخلوقات میں سب سے پہلے پروردگار ِعالم نے میرا نور خلق فرمایا جو اس طرف واضح اشارہ ہے کہ رب العالمین نے اس کائنات کی تخلیق کو حادثاتی قرار نہیں دیا بلکہ مکمل تدبیر اور حکمت جو پروردگار کے شانِ اقدس کے شایانِ شان ہے تدبیر فرمائی اور زبان رسالت ، وحی کے مطابق گویا ہوئی اور فرمایا '' جس نور سے میری تخلیق ہوئی اسی نور سے علی بھی پیدا ہوئے''اسی مفہوم کو رسالت مآبۖ نے دوسرے پیرائے میں یوں بیان فرمایا ''میں اور علی ایک ہی درخت کا حصہ ہیں بقیہ انسان مختلف درختوں سے ہیں'' جو اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ کائنات کی تخلیق کے ارداہ الٰہی میں آجانے کے بعد تدبیر الٰہی کارفرما ہوئی کائنات کااستقرارنور الٰہی سے ہی ممکن ہے جس کو قرآن مجید نے بھی بیان فرمایا ہے پروردگار آسمان و زمین کا نور ہے یعنی نور الٰہی کے سبب کائنات کی برقراری ممکن ہے اسی لئے خالق ارض و سماء نے کائنات کی بنیاد بھی نور سے ہی رکھی ہے جس کو نور محمدی نام دیا ہے جس کی ضرورت اس لئے تھی تا کہ مخلوقات الٰہی کو امام میسر آئے یہی سبب ہے کہ کائنات کی تمام مخلوقات نے رحمة اللعالمین کی رسالت کی گواہی بھی دی اور فرمانبرداری بھی کی ورنہ سورج کبھی نہیں پلٹتا ، چاند اپنے کو دوحصوں میں تقسیم نہیں کرتا ، سنگریزے گویا نہیں ہوتے ، درخت اپنی جگہ سے حرکت نہیں کرتا اور ان جیسے بے شمار مثالیں ایسی ہیں جو نور محمدی کے اثرات کی گواہی دیتی ہیں جو اس حقیقت کو عیاں کرتی ہیں کہ کائنات کی تخلیق میں تدبیر اور حکمت کارفرما ہے یعنی باقاعدہ الٰہی منصوبے کے تحت کائنات کو تخلیق کے مراحل سے گذارا گیا ہے جس کا ہر مرحلہ رب العالمین کے کارساز اور حکمت سے مزین منصوبے کی گواہی دیتے ہیں ان منصوبوں میں سے ایک منصوبہ ، حکمت الٰہی میں سے ایک حکمت ، اسرار و رموز الٰہی میں سے ایک سر اور رمز خاتون جنت ، مخدومہ کونین ، رحمة اللعالمین کی صاحبزادی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا بھی ہیں جن کو بزبانِ وحی، مرسل اعظم نے سیدة نساء العالمین قرار دیا یہی سبب ہے جب کبھی پیغمبر اعظم اپنی صاحبزادی کے چوکھٹ پر پہنچتے تھے بلند آواز سے فرماتے تھے ( اَلسّلامُ عَلَیکُم یَا اَھلَ بَیتِ النَّبُوَّةِ ) سلامتی ہو اے نبوت کے گھرانے والو معتبر و مستند احادیث میں آتا ہے کہ جب بھی نبی رحمت سفر پر جاتے سب سے آخری ملاقات اپنی صاحبزادی سے فرماتے تھے اور جب سفر سے واپسی فرماتے تو سب سے پہلے صاحبزادی سے ملاقات فرماتے تھے۔ کتب احادیث میں کثرت و شدت کے ساتھ امام الانبیاء و المرسلینۖ کی حیات طیبہ کا ایک اور معمول بیان ہوا ہے کہ جب کبھی مخدومہ کونین اپنے بابا کے گھر تشریف لے جاتیں باعث تخلیق کائنات رسولۖ احترامِ فاطمہ کیلئے اپنی مسند سے اٹھ جایا کرتے آداب بجا لاتے اور اپنی مسند خالی فرماتے اور اسی مسند پر بٹھا دیتے تھے اور اس نوعیت کا فقید المثال احترام و استقبال صاحبزادی ہونے کے ناتے نہیں تھا بلکہ بزبانِ وحی تھا جیسا کہ روایات میں آیا