سزا منتخب کرنا آپ کا کام

احسان علی دانش 

گئے دنوں کی بات ہے ۔ گول، سرمیک ، مہدی آباد یا کھرمنگ کی طرف سے ایک غریب آدمی مزدوری کی خاطر سکردو شگر کو آیا ۔ اس وقت جب بھی تنگی ہوتی تو لوگ خزاں کے ساتھ ہی شگر یا سکردو کی طرف آتے اور کہیں کام شام ملے تو مزدوری کر کے بال بچوں کے کپڑے اور چائے پانی کا بندوبست کرتے ۔ ابھی سڑکیں بنی نہیں تھیں ۔ سڑکوں کے ساتھ ظاہر ہے دریائوں پر پل بھی نہیں تھے لہذا یہ لوگ پیدل اور زخ پر سوار ہوکر سفر تمام کرتے تھے ۔ اس غریب آدمی کو سکردو شگر میں مزدوری مل گئی اور مسلسل دو ماہ کی مشقت کی کمائی سے دو چار روپے جڑ گئے ،جس کے سکردو بھٹو بازار سے بچوں کے لئے کپڑے،  کچھ کھانے پینے کی چیزیں اور کچھ خشک فروٹ لے کر اپنے گائوں کی طرف چل پڑے ۔ پیٹھ پر چورونگ ، جس میں من ڈیڑھ من کا سامان ، ہاتھ میں عصا اور دو ماہ کے بعد  اپنے بچوں سے ملنے کی خوشی میں مسافتیں بنا آرام کئے طے کرتا گیا۔ اس کی بد بختی دیکھئے کہ خوش بختی موسم اچانک ابرآلود سا ہوگیا اور ہلکی پھلکی بوندا باندی ہونے لگی ۔اسے بارش سے بچنا تھا لہذا  نرتھنگ کے کسی غار میں پناہ لی۔ ایک غار میں تنہا انسان کیا کرتا ۔اس نے دو ماہ کی اپنی محنت اور اس کی مزدوری کا حساب لگایا پھر اپنی پیاری بیوی کے جوڑے کو نکال کے ایک بار پھر دیکھا کہ اس کے پہننے کے بعد نہیں معلوم وہ کیسی لگے ۔ بہن کا جوڑا نکالا مسکرایا ۔ بچوں کے سارے کپڑے نکالے ایک ایک کا بغور جائزہ لیا کہ بڑا بیٹا دو مہینوں میں چارانچ بڑھا ہوگا اسی طرح چھوٹی بچی بھی اب بچی نہیں رہی ہوگی اب تو باقاعدہ لڑکی بن گئی ہوگی ۔ پھر مٹھائی کی پوٹلی کھولی،  خشک فروٹ والے تھیلے کو بھی کھولا۔ پھر خیالوں میں اپنے بچوں کو سامنے رکھ کر ان کے نام کی ساری چیزوں کو ان کے حوالے کردیا ۔ اسے زندگی میں پہلی بار اتنی ساری خوشیاں حاصل ہوئی تھیں جتنی پہلے کبھی حاصل نہ ہو سکی تھیں۔ اس نے سوچا کہ کل میری بیوی یہ والا کپڑا پہن کر پنگھٹ پہ جائے تو محلے کی باقی عورتیں کس نگاہ سے دیکھیں گی ۔ بہن پر یہ سرخ جوڑا نہایت سوٹ کرتا ہے ۔میرے دونوں  بچے خشک فروٹ اور مٹھائی لے کر گلیوں میں جائیں تو باقی بچے حیرت میں ڈوب جائیں گے ۔ اس نے ایک ایک چیز واپس چورونگ میں ڈال دی اور آرام کرنے لگا ۔ ابھی رات پوری طرح چھائی نہیں تھی کسی  آہٹ نے اسے چوکنا کیا ۔ دیکھا تو کوئی راہ گیر اسی غار میں پناہ کے لئے پہنچ گیا ۔ وہ بہت تھکا ہارا تھا اس کی حالت دیکھ کر اس نے اپنے چورونگ سے اسے ایک روٹی نکال کر دی اور کچھ خشک فروٹ بھی۔ اس نووارد مسافر نے پوچھا کہ سکردو شگر میں مزدوری کا کیا حال چال ہے کام شام ملتا بھی ہے ؟ سوال کیا ۔ وہ کہنے لگا ڈھونڈنے والوں کو خدا ملتا ہے کام کیوں نہ ملے ۔ مجھے کچھ دن سکردو میں بھی کام ملا پھر باقی دن شگر میں لگا دیے ۔ میری دو ماہ کی مزدوری سے بچوں کے کپڑے اور کچھ کھانے پینے کی چیزیں دستیاب ہوئیں ۔نووارد نے سوچا کہ یہاں سے سکردو شگر جا کر کوئی کام نہ ملے تو دربدر میں کہاں کہاں پھروں ۔ اس سے بہتر ہے کہ ایک چورونگ بھرا سامان میرے سامنے ہے اور یہ آدمی بھی میری نسبت کمزور و لاغر ہے اسے میں لمحوں میں دبوچ سکتا ہوں ۔ رات کے اس اندھیرے میں اس غار میں  کس نے کیا کیا کس کو کیا پتہ چل جائے گا ۔ لہذا کیوں نہ اس کا کام تمام کیا جائے اور چورونگ اٹھا کر واپس گھر چلا جائوں ۔اس نے اپنی شیطانی سوچ سے اس غریب مزدور کو آگاہ کر دیا ۔ مزدور حیران و پریشان۔ارے بھائی دیکھو آپ کی بھوک پیاس دیکھ کر میں نے روٹی دی ، فروٹ دیے ابھی یہاں سے سکردو زیادہ دور بھی نہیں صبح صادق کے ساتھ چلے جانا ۔ انشاء اللہ آپ کو بھی کام مل جائے گا ۔ کیوں مجھ غریب کو لوٹتے ہو ۔وہ کہنے لگا کیا پتہ مجھے کام  ملے نہ ملے اس سے بہتر ہے کہ میں تیرے چورونگ کو اٹھا کر کیوں نہ جائوں  ۔غریب مزدور نے کہا ۔ دیکھو میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جو دو ماہ سے میرا انتظار کر رہے ہیں ۔ ان کو خبر ہے کہ میں آج کل میں پہنچ جائوں گا ۔ مہربانی اپنی سوچ کو واپس لو اور میری جان بخشی کرو ۔ اگر تم سچ مچ واردات کرنا ہی چاہتے ہیں تو ایک کام کریں۔ میں چورونگ کے سامان کو برابر حصوں میں تقسیم کرتا ہوں نصف تیرا نصف میرا ۔ ہم دونوں  بھائی ہنسی خوشی گائوں جائیں گے ۔نہیں ایسا نہیں ہوسکتا ۔ مجھے سالم تیرا چورونگ چاہئے ۔ ظالم نے کہا ۔ارے بھائی اگر تمہارا ارادہ اتنا خطرناک ہے تو سالم چورونگ اٹھائو اور مجھے معاف کرو ۔ میں صبح واپس سکردو جائوں گا اور دو ماہ اور لگائوں گا ۔وہ کہنے لگا ایسا ہو نہیں سکتا۔ پھر تم سکردو میں سب کو بتانے گا پھر میری بدنامی ہوگی اور لوگ میرے خلاف جہاد کریں گے ۔ ابھی میری اس کارروائی کا کسی کو علم نہیں ہوگا لہذا میری زندگی عزت سے گزر جائے گی ۔ بس یہ کہنا تھا اس نے بے چارے مزدور کو دبوچ لیا ۔ رات کے اندھیرے میں کون دیکھے اور کل عدالت میں کون گواہی دے ۔ بیچارے کی آخری سانسیں چل رہی تھیں بارش کے چند قطرے غار کے کونے سے اندر گرنے لگے تو نہایت کسمپرسی اور غربت میں کہا ارے بارش کے قطروگواہ رہنا ۔تم یہ سفاکی کا منظر دیکھ رہے ہو۔ یہاں اوپر خدا نیچے تمہارے سوا کوئی نہیں ۔ کل کہیں عدالت لگ جائے تو بولنا رات کی تاریکی میں اس شقی انسان نے میرا خون کیا ۔ میرے خون ہونے کا مجھے دکھ نہیں مگر میرے بیوی، بہن اور بچوں کے تحائف کے لٹنے کا دکھ ہے ۔ بس یہ آخری باتیں تھیں پھر اس کے گلے میں اس کا طاقتور ہاتھ تھا اور سانسیں تھم گئیں۔ ظالم نے بیچارے کی ڈیتھ باڈی کو  غار میں چھوڑ دیا چورونگ کو اٹھایا اور راتوں رات واپسی کی راہ لی ۔ گھر میں بیوی حیران ہوگئی ابھی گیا تھا ابھی واپس آیا وہ بھی سازو سامان کے ساتھ ۔ بیوی کو جوڑا پہنایا اور بچوں میں مٹھائیاں تقسیم کیں ۔ بیوی نے تنگ کرنا شروع کیا کہ یہ سب کچھ کیسے کہاں سے ملا۔ مجھے بھی نہیں بولوگے تو کسے بولنا ہے ۔ دیکھو میں تمہارا پیار ہوں اور مجھے نہیں خبر کہ آج تک تمہاری الٹی سیدھی کوئی خواہش میں نے رد کی ہو ۔بیوی کی محبت میں ظالم نے راز فاش کردیا ۔ اگرچہ تم نے کمال کردیا بغیر محنت کے سازو سامان مل گیا مگر کسی نے دیکھا تو نہیں ۔ خدا نخواستہ کسی نے دیکھا سنا ہو تو مسائل پیدا ہوں گے۔ لینے کے دینے  پڑ جائیں گے ۔ قاتل میاں ہنسنے لگا ۔ ارے بیگم رات کے اندھیرے میں کون دیکھے گا ، مگر بیچارے کی روح قبض ہو رہی تھی تو آخری چارہ جوئی کے طور پر بارش کے چند قطرے سے ہاتھ جوڑ کر کہا ۔ ارے قطرو تم گواہ رہنا ۔ اب تم ہی بولو ، بارش کے قطرے گواہی دے سکیں گے ؟ دیں گے بھی تو کون مانے ۔تم کمال کے انسان ہو اور کمال کر دیا تھا ۔ تمہیں پتہ ہے اسی لئے میں تمہیں پسند کرتی ہوں اور جائز ناجائز مانتی ہوں کہ تم کچھ بھی کر سکتے ہو۔نئے جوڑے زیب تن کر کے بیگم پنگھٹ پر گئی باقی سب خواتین حیران و پریشان کہ راتوں رات ان کے گھر کیا معجزہ ہوا کہ ہر چیز  بدل گئی۔ جبکہ مظلوم کے گھر میں بچے ابو کی راہ تک رہے ہیں اور دن نکلتے جارہے ہیں کوئی خیر خبر نہیں آرہی ہے۔ پنگھٹ پر ایک خاتون کے ڈول سے پانی چند قطرے گرے جس پر قاتل کی بیوی کی ہنسی چھوٹ گئی۔ اسے نرتھنگ غار کے بارش کے قطرے یاد آئے جو مقتول کے گواہ تھے۔ اس کی قریبی سہیلی نے وجہ پوچھی تو پہلے سنی ان سنی کردی مگر جب اصرار کیا تو کہنے لگی خبردار کسی کو بتانا نہیں وہ ہمارا میاں سکردو گیا تھا راستے میں غار اور غار میں ۔۔۔۔۔۔۔ ساری کہانی سنادی ۔ ایک خاتون سے دوسری خاتون میں راز پہنچنے کے بعد خاتون کی خواتین بن گئیں پھر آہستہ آہستہ معلوم ہوا کہ فلاں آدمی نے فلاں کا خون کیا ہے ۔ گویا بارش کے قطرے نے گواہی دی اور اسے عدالت میں پہنچایا ۔ اب اس کو جو سزا دی گئی اسے میں راز میں رکھتا ہوں اور آپ سے تجویز کے لئے گزارش کرتا ہوں کہ اسے کیسی سزا دینی چاہئے تھی۔