Image

قراقرم یونیورسٹی سے صدر مملکت کا غور طلب خطاب

صدر مملکت اور چانسلر قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی ڈاکٹر عارف علوی نے کہاہے کہ تعلیم ایک قوم کی تعمیر کی کنجی ہے۔ تعلیم کے بغیر کوئی بھی قوم ترقی کے اہداف حاصل نہیں کر سکتی۔ ملک کے بہترین تخلیقی اذہان اور ہنر یافتہ نوجوان روزگار کی تلاش میں بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں اور پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک سے برین ڈرین تشویش کا باعث ہے، ان باصلاحیت نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ان کی صلاحیتوں کو ملک کے وسیع تر مفاد میں بروئے کار لانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے ہونگے،انہوں نے کے آئی یو کے دسویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا، اساتذہ اور والدین نے تعلیم کے ذریعے طلبا کے تابناک مستقبل کی راہ متعین کر دی ہے، اب وہ اپنی صلاحیتوں کے بہترین استعمال کیلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں۔ صدر مملکت نے کہا کہ ہمیں اس امر کا ادراک کرنا ہوگا کہ ہم اربوں روپے خرچ کر کے باصلاحیت نوجوان تیار کر کے دوسرے ممالک کو سونپ رہے ہیں۔ اور نوے کی دہائی میں بیرون ممالک منتقل ہونے والے نوجوان آج ان ممالک کی معاشی ترقی میں ہر اول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ آج جب کہ انٹرنیٹ کے ذریعے گھر میں بیٹھ کر فری لانسنگ اور دیگر کاروبار کے ذریعے پیسے کمائے جا سکتے ہیں، تو حکومت کو آئی ٹی صنعت سے وابستہ افراد کو بہترین سہولیات فراہم کرنا ہوںگی تاکہ ای کامرس اور فری لانسنگ کے فروغ سے برین ڈرین کا عمل روکا جا سکے اور ان نوجوانوں کی صلاحیتوں سے کماحقہ فائدہ اٹھایا جا سکے۔ عارف علوی نے فارغ التحصیل طالبات کو تلقین کرتے ہوئے کہا کہ وہ صنف نازک، کمزور اور مظلوم عورت کے لیبل اتار پھینکیں اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرنا سیکھیں۔ خواتین اپنی اہلیت اور قابلیت کی بنیاد پر مختلف شعبہ ہائے نظام زندگی میں مردوں کے شانہ بشانہ مساوی کردار ادا کرنے اور فیصلہ سازی کے عمل میں شرکت یقینی بنانے کیلئے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں۔بلاشبہ ہرسال ہزاروں نوجوان یونیورسٹیوں اور کالجوں سے فارغ التحصیل ہو کر ملازمت کے لیے در بدر پھرتے ہیں،جس کی بڑی وجہ پبلک اور پرائیوٹ سیکٹر میں آسامیاں نہ ہونے کے برابر ہے۔ قیام پاکستان کے تہتربرس گزرنے کے باوجود فی الحال یہاں نوجوان نسل کے مسائل کا حل یا ان کے مستقبل کے لیے بہتر مواقع فراہم کرنے کی منصوبہ بندی، حکومتی ترجیحات کی فہرست میں آخری سطر میں ہی دکھائی دیتی ہے۔سیاسی جماعتوں کے منشور میں تو نوجوانوں کے حوالے سے مختلف پروگرام اورمنصوبے نظر آتے ہیں، لیکن عملی طور پر وسائل کی کم یابی کا رونا رو کر حکمران وعدوں سے مکر جاتے ہیں اور ایسا ہربار ہی ہوتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کل آبادی کا نصف نوجوانوں پر مشتمل ہے یعنی 15 سے 30 سال کے افراد کی عمر کی تعداد 40 فی صد سے زائد ہے۔ نوجوانوں کو ملک کا مستقبل تو کہا جاتا ہے تاہم حالات یہ ہیں کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پندرہ سے چوبےس سال کی عمر کے نو فی صد نوجوانوں کے پاس نہ تعلیم ہے اور نہ ہی روزگار ۔یہ شرح سولہ فی صدہے۔ ایسے حالات میں پاکستانی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے یا ملازمت کرنے کی خواہاں ہے، جبکہ یہ رجحان بہت تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے۔معاشی و معاشرتی ناہمواری، وسائل اورانسانیت کی قدر و قیمت میں کمی کے سبب قابل افرادکا ترکِ وطن برین ڈرین کہلاتا ہے۔مسائل کا شکار ایسے لائق اورذہین نوجوان تعلیم تو حاصل کر لیتے ہیں ،لیکن عملی قدم پردیسمیں اٹھانا پسند کرتے ہیں۔حصول رزق کی خاطرملک چھوڑنے کا رجحان اب خطرناک حدوں کو چھونے لگاہے۔کالجوں اور یونیورسٹیوں کا رخ کرنے والے ہزاروں نوجوان جب عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں، تو ملازمت کے حصول کے لیے سرکاری تعاون تو نہیں ملتا ،لیکن انہیںرشوت اور سفارش کلچر کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور در در بھٹکنے کے بعد اپنی جمع پونجی لگا کر وہ بیرون ملک جانے کے خواب دیکھنے لگتے ہیں اور بالآخر اس میں کامیاب ہو بھی جاتے ہیں۔ یہ بات بھی درست ہے کہ تعلیمی اداروں کے بہترین نتائج بھی نوجوانوں کو ملک چھوڑنے سے روک نہیں سکتے۔سرکاری ونجی میڈیکل کالجوں سے ہرسال ہزاروںنوجوان ڈاکٹربن کر نکلتے ہیں۔ جن میں سے تین سو سے زائد ڈاکٹرز پاکستان سے باہرچلے جاتے ہیں۔ پے بیک نہ ہونے سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان سے دوچار ہونا پڑتا ہے، کیونکہ ایک ڈاکٹر اور انجینئر کی تعلیم پر ملک کا خطیرسرمایا خرچ ہوتا ہے۔ جو ڈاکٹر اور اِنجینئر باہر نہیں جا سکتے، ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ سی ایس ایس کرکے دیگر اہم ملازمتوں کا رخ کرلیں، کچھ تو اپنے پروفیشن کو ہی خیرباد کہہ کر حصول رزق کے لیے دیگر راستے اختیار کر لیتے ہیں۔ ٹیلنٹ، صلاحیت اورذہانت کسی بھی معاملے میں ہمارے نوجوان کسی بھی ترقی یافتہ ملک سے پیچھے نہیں ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق تیس لاکھ سے زیادہ طلبا و طالبات گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ پروگراموں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ہر سال تقریبا پانچ لاکھ نوجوان ڈگری لیتے ہیں،لیکن اہلیت، قابلیت اوراعلی تعلیم کے ہوتے ہوئے نوجوانوں کا ملک سے باہر چلے جانا پوری قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔گزشتہ ایک دہائی میں صرف صحت ،تدریس اور انجینئرنگ کے شعبوں سے متعلقہ سترہزارسے زائداعلی تعلیم یافتہ پاکستانیوں نے بہترروزگار اوراچھے مستقبل کی خاطر وطن کو خیربادکہا۔جن میں سے ستاسٹھ فی صد انجینئرز ، بےس فی صدڈاکٹرز او ر بارہ فی صدٹیچرزشامل ہیں۔بے روزگار گریجویٹ نوجوانوں کی دوسری بڑی تعداد صوبہ سندھ میں ہے دیگر دو صوبوں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بے روزگار گریجویٹ کی بڑی تعداد ہے۔بیورو آف امیگریشن کی رپورٹ کے مطابق ملک میں روزگار کی عدم دستیابی اور بڑھتی مہنگائی سے تنگ آکر صرف 2018-19 کے دوران آٹھ لاکھ چوراسی ہزارتعلیم یافتہ پاکستانی نوجوان حصول روزگار کی خاطر بیرون ملک روانہ ہوئے۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ بیرون ملک جانے والے مزدوروں کے ساتھ بڑی تعداد اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بھی ہے۔29 ہزار 312 اعلی تعلیم یافتہ پاکستانی بیرون ملک گئے، جبکہ 17 ہزار 609 اعلی تربیت یافتہ اور 3 لاکھ 69 ہزار اسکلڈ لیبر نے بیرون ملازمت کو ترجیح دی۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ موجودہ حکومت کے دور میں 10 ہزار انجینئرز، ساڑھے 3 ہزار ڈاکٹرز جبکہ ساڑھے 9 ہزار اکاونٹنٹ نے ملازمت کےحصول کے لیے دوسرے ممالک کا رخ کیا۔اسی طرح 25 ہزار الیکٹریشن، 3 ہزار ٹیچرز، ڈھائی ہزار فارما سسٹ، 5 سو نرسز اور زراعت کے شعبے میں مہارت رکھنے والے 13 ہزار پاکستانیوں نے بیروزگاری کے باعث بیرون ملک ملازمت کو ترجیح دی۔اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں سوا دو کروڑ افراد اقتصادی بحران کے باعث وطن چھوڑ کر دوسرے ملکوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں ،جن میں سے اکےس لاکھ نوجوان ہیں،جبکہ وہاں پہنچنے پر ان نوجوانوں کو انگنت مسائل ،قوانین اور مقامی ثقافت سے ناواقفیت کی بنا پر نسل پرستی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور حقارت کا سامنابھی کرنا پڑتا ہے۔غیر سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس وقت امریکا میںتیرہہزار چار سو، برطانیہ میں نوہزار، آسٹریلیا میں تین ہزار اور مڈل ایسٹ میں ساڑھے آٹھ ہزار پاکستانی ڈاکٹرز کام کر رہے ہیں ،یہ محض ڈاکٹروں کی غیرممالک میں خدمات ہیں، دیگر تمام اہم شعبوں میں پاکستانیوں کے پیشہ وارانہ کردارکا تناسب بھی کم اہمیت کا حامل نہیں ہے، جبکہ پاکستانی سرمایہ کاروں کی ایک بڑی تعداداِس کے علاوہ بیرون ملک خدمات سرانجام دے رہی ہے۔خدمات کا معقول معاوضہ نہ ملنا، جان و مال کا عدم تحفظ، سفارش کلچر، میرٹ کا فقدان، رشوت ، اقربا پروری اور غیر یقینی صورت حال ، وہ بنیادی عوامل ہیں کہ جنہوں نے نوجوانوں کے دل ودماغ میں مایوسی کی جڑیں گاڑ رکھی ہیں۔سیاسی جماعتیں انتخابات کے وقت نوجوانوں کوبہتر تعلیم اور روزگار کی امیدیں دلاتی ہیں ،انہیں اپنے جلسے جلوسوں میں استعمال کرتی ہیں،لیکن اقتدار میں آکر اپنے سارے وعدے بھول جاتی ہیں۔ہر سال ملک بھر کی مختلف پروفیشنل یونیورسٹیوں سے ہزاروں طلبہ روشن مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں ،تاہم حقیقت اس کے برعکس ہی ہوتی ہے۔ اگرحکومت ملک کے نوجوانوں کو ان کی خدمات کا معقول صلہ اور ان کی جان ومال کی سلامتی کو یقینی بنانے، ان کے اعتمادکو بحال کرنے اوران کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے ٹھوس اورعملی اقدامات کرے، تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان کے یہ فرزند وطن چھوڑکر جائیں۔