Image

روسی جنگی سرگرمیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے‘زیلینسکی

یوکرینی صدر زیلینسکی نے خبردار کیا ہے کہ روس رواں ہفتے اپنی جارحانہ سرگرمیوں میں شدت لا سکتا ہے۔یوکرینی صدر زیلینسکی نے یہ بات ایک ایسے موقع پر کہی جب یوکرین حکومت یورپی یونین کی رکنیت کی اپنی درخواست پر ای یو کے تاریخی فیصلے کا انتظار کر رہی ہے۔ زیلینسکی نے کہا کہ اس درخواست پر صرف مثبت فیصلہ ہی پورے یورپ کے مفاد میں ہے۔برسلز کی جانب سے ای یو کی رکنیت حاصل کرنے کی کیف کی درخواست کی حمایت کی گئی ہے۔گزشتہ ہفتے فرانس، جرمنی اور اٹلی کے سربراہان نے کیف کا دورہ بھی کیا جس سے عالمی سطح پر یورپی یونین کی اہم طاقتوں کی یوکرین کی حمایت کا اظہار ہوا۔اس ہفتے برسلز میں یورپی یونین کے رکن ممالک ایک سمٹ میں شرکت کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں جہاں توقع ہے کہ یوکرین کا نام ان دیگر ممالک کے ساتھ شامل کر دیا جائے گا جو ای یو کی رکنیت کے خواہشمند ہیں۔دوسی جانب، یوکرینی صدر نے سوشل میڈیا ایپ ٹیلی گرام پر ایک ویڈیو پوسٹ میں کہا کہ ہم کسی کو جنوب لینے نہیں دیں گے، ہم سب کچھ واپس لیں گے، یہ سمندر یوکرین کا ہوگا اور یہ محفوظ ہوگا۔یاد رہے، مائیکولیو روس کا مرکزی ہدف ہے کیوں کہ یہ اسٹریٹیجک اہمیت والی اوڈیسا بندرگاہ تک پہنچنے کا ذریعہ ہے۔ روس نے اوڈیسا کو بلاک کر رکھا ہے۔ اس خطے میں ہزاروں ٹن اجناس ذخیرہ ہیں جو وہاں سے برآمد نہیں کی جا رہیں۔ یہ رکاوٹ عالمی سطح پر خوراک کے بحران کا سبب بن رہی ہے۔