Image

انسدادمنشیات کا عالمی دن

دنےا بھر میں منشےات کا عالمی دن26 جون کو مناےا جاتا ہے گزشتہ روز ےہ دن پاکستان میں بھی مناےا گےا۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کی رو سے پاکستان میں نشہ استعمال کرنے والے افراد کی تعداد ستر لاکھ سے زائد ہے جن میں سے چار ملین یا چالیس لاکھ باقاعدگی سے نشہ کرتے ہیں ۔پاکستان نشہ کرنے والے افراد کے حوالے سے دنیا کے ان ممالک میں پہلے نمبر پر آ چکا ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق پاکستان کے آٹھ لاکھ شہری ہیروئن کا استعمال باقاعدگی سے کرتے ہیں۔ پاکستان میں سالانہ استعمال ہونے والی ہیروئن کی مقدار کا تخمینہ چالیس ٹن سے زائد لگایا گیا ہے جبکہ مزید ایک سو ٹن ہیروئن افغانستان سے پاکستان لا کر بین الاقوامی منڈیوں میں بیچی جاتی ہے۔ ہر سال پاکستان میں منشیات کی تجارت سے حاصل کیے جانے والے کالے دھن کا تخمینہ دوارب ڈالر لگایاگیا ہے۔اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں منشیات استعمال کرنے والے 76 لاکھ افراد میں سے 78 فیصد مرد جبکہ 22 فیصد خواتین ہیں۔ہر سال پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں چالےس ہزارنفوس کا مزید اضافہ ہوجاتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پاکستان دنیا بھر میں منشیات استعمال کرنے والا سب سے بڑا ملک سمجھا جاتا ہے۔ ہر گزرتے روز کے ساتھ منشیات کے استعمال میں اضافہ عام بات بن چکی ہے۔ کم و بیش دس لاکھ افراد نشے کے مکمل طور پر عادی ہوچکے ہیں۔پنجاب میں بھی حالیہ برسوں کے دوران منشیات کے استعمال میں بے حد اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔سگریٹ نوشی کو منشیات کی جانب پہلا قدم قرار دیا جاتا ہے کیونکہ معاملہ محض اچھائی اور برائی کے درمیان باریک سی لکیر کا ہی تو ہے اور جب وہ تفریق مٹ جاتی ہے تو پھر کوئی برائی برائی نہیں لگتی۔یہ علت معاشرے میں عمر کی تفریق کے بغیر کچھ اس طرح سے عام ہو چلی ہے کہ اسے ایک بین الاقوامی مسئلہ کہا جا رہا ہے ایک ایسا مسئلہ جو ہر گزرتے دن کے ساتھ سنگین ہوتا چلا جا رہا ہے۔منشیات کا زہر ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے، کتنے ہی خاندان ایسے ہیں جو نشے میں مبتلا اپنے بچوں کے مستقبل سے ناامید ہو چکے ہیں۔ہمارے نوجوان اکثر و بیشتر معاشرتی ردعمل اور نامناسب رہنمائی کی وجہ سے نشے جیسی لعنت کو اپنا لیتے ہیں۔ آج ہماری نوجوان نسل منشیات، شراب، جوئے اور دیگر علتوں میں مبتلا ہو کر نہ صر ف اپنی زندگی تباہ کر رہی ہے بلکہ اپنے ساتھ اپنے خاندان والوں کے لیے بھی اذیت اور ذلت و رسوائی کا سبب بن رہی ہے۔ ملک و قوم کی ترقی اور مستقبل کے ضامن یہ نوجوان جرائم پیشہ ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ نشہ جسم کے ساتھ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بھی سلب کر کے رکھ دیتا ہے۔ایسے لوگوں کے پیش نظر صرف نشے کا سحر ہوتا ہے جس کی خاطر وہ ہر حد سے گزر جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اپنا علاج بھی نہیں کرانا چاہتے کیونکہ ان کے نزدیک یہ وہ بیماری ہے جو انہیں دنیا کے دکھوں سے دور رکھ کرجنت کی سیر کراتی ہے۔ نشے کی تباہ کاریوں کی وجوہات میں خراب صحبت، گھریلو ناچاقی، ازدواجی مسائل، ذہنی دباﺅ، بے جا خوف، دین سے دوری، اہل خانہ کو اپنا دشمن سمجھنا، بے وقت کا سونا اور جاگنا شامل ہیں۔اس وقت دنیا بھر میں پندرہ سے چونسٹھ سال کی عمر کے پےنتےس کروڑ لوگ کسی نہ کسی نشے میں مبتلا ہیں۔ دنیا کی تقریبا سات ارب آبادی میں سے ساڑھے چار ارب افراد کی عمریں پندرہ سے چونسٹھ سال کے درمیان ہیں جن میں نشے کے عادی افراد کی شرح سات فیصد ہے۔صوبائی شرح کے حساب سے پنجاب کے 55 فیصد اور دیگر صوبوں کے پنتالےس فیصد افراد نشے کے عادی ہیں۔ صرف لاہور میں ہی ایک لاکھ لوگ نشے میں مبتلا نظر آتے ہیں جبکہ پاکستان میں ہرسال نشہ کرنے والوں کی تعداد میں پانچ لاکھ کا اضافہ ہو رہا ہے۔ گو پاکستان میں سرکاری سطح پر اے این ایف کسٹم اور ایکسائز سمیت چوبےس ایجنسیاں منشیات کے خلاف فعال ہیں۔ ہمارے ہاں پکڑی جانے والی منشیات میں سے ساٹھ فیصد اینٹی نارکوٹکس فورس پکڑتی ہے جبکہ ساٹھ فیصد باقی 23 ادارے پکڑتے ہیں لیکن ان کی تمام تر کوششوں اور کاوشوں کے باوجود یہ زہر تیزی سے معاشرے کی رگوں میں اترتا جا رہا ہے۔دنیا بھر میں چرس، افیون، ہیروئن، بھنگ اور حشیش سمیت منشیات کی اکےس سے زائد اقسام ہیں۔ دنیا میں باسٹھ فیصد لوگ چرس بھنگ اور حشیش کے عادی ہیں جبکہ باقی بےس فیصد ہیروئن، دس فیصد افیون، بےس فیصد لوگ کوکین کیپسول کرسٹل اور گولیاں استعمال کرتے ہیں۔سڑکو ں اور پتھاروں پر بکھرے ہوئے منشیات کے عاد ی افراد کے حلیے اور ٹھکانوں سے تو اکثر لوگ باخبر اور واقف ہیں اور ان پر نفرین بھی بھیجتے ہیں لیکن کیا کیا جائے شہر کے پوش علاقوں اور اعلی درس گاہوں میں زیرتعلیم ان نوجوانوں کا جو انتہائی تیزی سے نشے کو فیشن کے نام پراپنا رہے ہیں۔ صد حیف کہ جب تک ان بچوں کے والدین پر یہ کربناک حقیقت آشکار ہوتی ہے تب تک ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں رہتا۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق ان دنوں منشیات کی فروخت روایتی نہیں بلکہ انتہائی جدید انداز میں سوشل میڈیا کے ذریعے کی جارہی ہے۔ منشیات فروش واٹس ایپ اور فیس بک سمیت سوشل میڈیا کی دیگر ایپس استعمال کر رہے ہیں۔ واٹس ایپ پر ایک میسیج سو لوگوں تک بھی گیا تو ان میں دس سے پندرہ نوجوان ان کے شکنجے میں پھنس ہی جاتے ہیں۔منشیات کا عادی بنانے کے لیے گاہکوں کو ان کے گھر تک منشیات پہنچائی جا رہی ہے۔ حال ہی میں کچھ ایسے گروپ بھی پکڑے گئے ہیں جو ٹیکسی سروس استعمال کیا کر تے تھے۔ ان میں لڑکیاں اور لڑکے دونوں ہی شامل تھے جو گھروں میں جا کر ڈرگز پہنچاتے تھے۔ ایسے گروپ شہر کے پوش علاقوں میں سرگرم ہیں کیونکہ وہاں کے نوجوانوں کے لیے چار پانچ ہزار روپے کا انتظام کوئی مشکل بات نہیں۔ یہ بھی ایک تکلیف دہ امر ہے کہ منشیات فروش اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے نوجوان نسل کو ہی اپنا آلہ کار بنا رہے ہیں اور ہماری نسلیں ان کے ناپاک ارادوں کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں۔نوجوان آج کل آئس اور کرسٹل میتھ زےادہ استعمال کر رہے ہےں ۔ نسبتا مہنگا ہونے کی وجہ سے نجی تعلیمی اداروں اور امیر گھرانوں کے نوجوان کرسٹل میتھ کا شکار بن رہے ہیں۔ کرسٹل میتھ نامی نشے پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ کرسٹل یا آئس نامی یہ نشہ میتھ ایمفٹامین نامی ایک کیمیکل سے بنتا ہے۔ یہ چینی یا نمک کے بڑے دانے کے برابر کرسٹل کی قسم کی سفید شے ہے جسے باریک شیشے سے گزار کر حرارت دی جاتی ہے۔اس مقصد کیلئے عام طور پر بلب کے باریک شیشے کو استعمال کیا جاتا ہے جبکہ اسے جسم میں اتارنے کا ایک ذریعہ انجکشن بھی ہے۔ کراچی میں پولیس اور رینجرز بعض ایسی لیبارٹریز پر چھاپے مار چکی ہیں جہاں کرسٹل تیار کی جاتی تھی جبکہ اس کی ایک بڑی مقدار افغانستان سے اسمگل ہو کرآتی ہے۔پاکستان منشیات کی ایک عالمی گزرگاہ پر واقع ہے اس لیے یہاں انہیں فروخت کرنے والی مافیا اور استعمال کرنے والے بھی موجود ہیں۔ ایماندار اور فرض شناس پولیس اہلکاروں کے لیے جدید منشیات فروشوں تک رسائی کسی چیلنج سے کم نہیں۔ماہر منشیات ڈاکٹر ہیرا لال لوہانو منشیات کے استعمال کی تین بنیادی وجوہات بیان کرتے ہیں جن میں ذہنی دباﺅ سرفہرست ہے۔ یہ دباﺅ امتحان محبت میں ناکامی تاخیر سے شادی نظر انداز کئے جانے کسی کے ساتھ مقابلے اور بے روزگاری سمیت کسی بھی چیز کا ہو سکتا ہے۔دوسری وجہ شخصیت کا عدم توازن جبکہ تیسری وجہ دوستوں کی صحبت ہے یعنی چار دوست اگر منشیات استعمال کرتے ہیں تو پانچواں دوست دباﺅ میں آکر اس کا استعمال شروع کر دیتا ہے۔ ڈاکٹر لوہانو کے مطابق بعض امیر گھرانوں کے نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کی ایک وجہ قوت میں اضافے کی خواہش بھی ہے۔پوش علاقوں میں بطور خاص نشے کے عادی نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ ان مقامات پر منعقدہ پارٹیاں ہیں جہاں سے نوجوان نسل آزادی کے نام پر بے حیائی اور فیشن کے نام پر نشے کی عادت اختیار کرتے ہیں۔ منشیات کے عادی نوجوانوں میں ذہنی معذوری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ منشیات دماغ کے خلیوں میں عدم توازن پیدا کر دیتی ہے جس کے نتیجے میں دماغ عام انسانوں کی طرح کام کرنے کے قابل ہی نہیں رہتا اور نتیجتا انسان ذہنی جسمانی اور سماجی طور پر معذور ہو جاتا ہے۔نشے کی عادت میں مبتلا ہونے کی ایک اہم وجہ والدین کی بچوں سے عدم توجہی ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچے سگریٹ نوشی کرتے ہیں اور ان کے والدین اس امر سے بے خبر نظر آتے ہیں یہ بچے سگریٹ کے دھوئیں کے ہمراہ آگے بڑھتے ہوئے ایک ایسی راہ کے مسافر بن جاتے ہیں جو انہیں تباہی و بربادی کی منزل تک لے جاتی ہے۔اس لےے ضروری ہے کہ حکام بالا منشےات کے تدارک کےلئے کوئی دقےقہ فروگزاشت نہ رکھےں۔