Image

روس نے سپلائی بند کرکے یورپ کے خلاف گیس جنگ شروع کردی ، یوکرینی صدر

 یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے ماسکو پر الزام عائد کرتے ہوے کہا ہے کہ اب روسی حکومت نے یورپ کو ترسیل ہونے والی گیس پائپ لائن سپلائی بند کرکے یورپ کے خلاف گیس جنگ شروع کردی ہے جو عوام پر دہشت گردی کے مترادف ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق روسی توانائی فرم گیز پروم نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک بار پھر جرمنی کو فراہم کی جانے والی گیس بہاﺅ کو کم کر رہی ہے تاکہ نورڈ اسٹریم نمبر ایک پائپ لائن پر ٹربائن پر کام کی اجازت دی جا سکے۔ لیکن یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ یہ یورپ کے خلاف محض گیس بلیک میلنگ ہے۔ نورڈ اسٹریم نمبر ایک پائپ لائن جو روس سے جرمنی تک گیس پمپ کرتی ہے گزشتہ چند دنوں سے گیس بہت کم سپلائی کررہی ہے۔رواں ماہ روس کی سب سے بڑی یورپی پائپ لائن جو پورے یورپ کو گیس سپلائی کرتی ہے کو مرمت کا کام کرنے کے بہانے10 دن کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا، جس سے یورپ میں یہ خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ اب روس کی طرف سے گیس ترسیل دوبارہ بحال نہیں کی جائی گی۔پانچ دن پہلے گیس ترسیل یورپ کو کم پریشر کے ساتھ بحال کر دی گئی لیکن پیر کے روز، گیز پروم نے اعلان کیا کہ وہ ایک بار پھر اپنی گیس کی سپلائی میں مزید کمی کرے گا۔اس بار، اس نے کہا کہ اسے بحالی کا کام کرنے کے لیے گیس کی سپلائی کو موجودہ سطح کے تقریبا نصف تک کم کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم جرمن حکومت نے کہا کہ اس کی سپلائی کو محدود کرنے کی کوئی تکنیکی وجہ نہیں ہے۔ یوکرینی صدر زیلینسکی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ روس کی یورپ کے خلاف گیس بلیک میلنگ ہے جو ہر ماہ بدتر ہوتی جا رہی ہے اور جو عوام پر دہشت گردی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس کا مقصد جان بوجھ کر یورپ کے لیے موسم سرما میں مشکلات پیدا کرنا ہے جس نتیجے میں لوگ سرد موسم میں غربت کا شکار ہو سکتے ہیں۔