Image

تھورہربن حدود تنازعہ، گرینڈ جرگہ نے حد بند ی کردی

 تھور ہربن گرینڈ جرگہ ممبران نے  تھور اور ہر بن حددو  تنازع فیصلے کے بعد باقاعدہ حد بندی کردی ہے، اس موقع پر تھور ہر بن گرینڈ جرگہ ممبران کے اراکین، علاقہ عمائدین،دیامراور آپر کوہستان ضلعی انتظامیہ کے نمایندوں اور پولیس کے مقامی سینئر آفسران موجود تھے۔ گرینڈجرگہ ممبران نے ہربن اور تھور کے درمیان متفقہ جگہ پر پتھر رکھ کر اور اس اوپر سفیدی کے ذریعے نشان لگا کر حدود کا واضح  تعین کیا۔ اس پر موقع پر گفتگو کرتے ہوئے گرینڈ جرگہ ممبران نے اس خوشی کا اظہار کیا کہ جس نیک مقصد کیلئے وہ 2011 سے کوششیں کر رہے تھے اللہ تعالی نے اس نیک کام میں انھیں سرخرو کیا ہے۔ جرگہ ممبران نے اس عزم کے اظہار کیا کہ ہربن اور تھور کے عوام و عمائدین کے تعاون سے لینڈ ایکوزیشن اور معاوضوں کے معاملات کو بہتر انداز میں حل کریں گے۔ گرینڈ جرگہ ممبران نے اپر کوہستان اور دیامر انتظامیہ، واپڈا اور دیگر تمام متعلقہ اداروں کے تعاون کو سراہا۔ واضح رہے کہ تھور ہربن  گرینڈ جرگہ ممبران نے واپڈا اور دیگر حکومتی اداروں کی سرپرستی میں دیامر بھاشا ڈیم سائٹ پر رواں برس 11 جنوری کو حدود تنازع سے متعلق تاریخی فیصلہ سنایا تھا۔ اس فیصلے میں دونوں قبائل کے درمیان متفقہ حدود کی حد بندی پر اتفاق کیاگیا۔ اس اہم تقریب میں سال 2014 میں مسلح تصادم کے نتیجے میں جاں بحق اور زخمیوں ہونے والے متاثرہ خاندانوں کو امدادی چیکس بھی دیے گئے تھے۔ ہربن اور تھور قبائل کے درمیان حدود کے تنازع  پر فروری 2014 میں دونوں قبائل کے درمیان مسلح تصادم کے باعث چار قیمتی انسانی جانیں ضیاع اور املاک کو نقصان پہنچا تھا۔ اس مسئلے کو حل کرنے کیلیے وفاقی اور صوبائی سطح پر کئی کوششیں کی گئیں۔ اس کے بعد گرینڈ جرگہ نے حکومتی اداروں، مقامی عمائدین اور عوامی تعاون کے ذریعے اس تاریخی فیصلے پر عمل درامد کروایا۔ گرینڈ جرگہ کے اس تاریخی اقدام سے دیرینہ تنازع اب حل ہوگیا ہے۔