Image

آئی جی پولیس اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش، شہباز گل پر تشدد کی تردید

ہائی کورٹ میں بغاوت کے مقدمے میں شہباز گل کے مزید جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست پر آئی جی اسلام آباد پیش ہوگئے۔

ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامرفاروق نے بغاوت کے مقدمہ میں شہباز گل کا مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔

پٹیشنر کی جانب سے فیصل چودھری اور شعیب شاہین ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل پر جسمانی ریمانڈ کے دوران تشدد کیا جارہا ہے جو غیر قانونی ہے۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو تین بجے کے لیے نوٹس جاری کر دیا۔


عدالت نے آئی جی اسلام آباد ، ایس ایس پی انویسٹیگیشن ، ایس ایچ او تھانہ کوہسار کو بھی طلب کر لیا جبکہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو بھی ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔

وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی تو آئی جی اسلام آباد عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ شہباز گل پر بالکل کوئی ٹارچر نہیں ہوا، میڈیکل رپورٹ میں کہیں بھی ٹارچر کی نشاندہی نہیں۔

عدالت نے کہا کہ سامنے آنا چاہیے کہ ٹارچر ہوا یا نہیں، اگر نہیں ہوا تو جو الزام لگا رہے ہیں وہ ذمہ دار ٹھہرنے چاہئیں۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ 12 اگست کو شہباز گل نے تشدد کا الزام لگایا اگلے روز میڈیکل بورڈ تشکیل دیا،
میڈیکل بورڈ معائنے کے لیے جیل گیا تو شہباز گل نے تعاون سے انکار کردیا۔

عدالت نے اڈیالہ جیل کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ، میڈیکل آفیسر ، اسلام آباد پولیس کے متعلقہ افسران کو وضاحت دینے کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کی وجہ سے اداروں کا نام خراب ہوتا ہے۔

عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو ابتدائی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کردی۔

شہباز گل پر تشدد کے خلاف درخواست دائر 

علاوہ ازیں تحریک انصاف کے رہنماؤں اسد عمر اور بابر اعوان نے شہباز گل پر تشدد کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی۔

درخواست میں شہباز گل کے طبی معائنہ کے لیے غیر جانبدار ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ بنانے کی استدعا کرتے ہوئے کہا گیا کہ پولیس کو شہباز گل پر پریشر ڈال کر اعترافی بیان لینے سے روکا جائے ، شہباز گل پر جسمانی تشدد کی خبریں میڈیا پر بھی آ چکی ہیں ۔

درخواست میں کہا گیا کہ تشدد کے بعد شہباز گل کی جسمانی اور دماغی حالت بہتر نہیں جو اسکی زندگی کے لیے خطرہ ہے، شہباز گل کو حراست میں رکھنے کا مقصد صرف جسمانی تشدد کرنا مقصود ہے، عدالت شہباز گل کے جسمانی تشدد سے روکنے کا حکم جاری کرے۔

آئی جی سے رپورٹ طلب

اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہباز گل پر ریمانڈ کے دوران تشدد کے الزامات پر آئی جی اسلام آباد سے پیر تک رپورٹ طلب کر لی۔

عدالت نے سیشن جج کے حکم پر فوری عمل درآمد نا کرنے پر اڈیالہ جیل کے ایڈیشنل سپریٹنڈنٹ اور میڈیکل افسر کو نوٹس جاری کر کے وضاحت طلب کر لی جبکہ شہباز گل کے وکلا کو ریمانڈ رولز کے تحت ملاقات کی اجازت دے دی۔

وکیل نے ایڈیشنل سیشن جج کی جانب سے مزید جسمانی ریمانڈ منظور کرنے کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا کی تو عدالت نے کہا شہباز گل پولیس کی حراست میں ہیں مگر اسپتال میں ہونے کے باعث زیر تفتیش نہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے شہباز گل کے مزید جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔

عدالتی حکم پر آئی جی اسلام آباد، ایس ایس پی انوسٹی گیشن، ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اور جیل کے میڈیکل افسر عدالت میں پیش ہوئے۔

آئی جی اسلام آباد نے ریمانڈ کے دوران شہباز گل پر تشدد کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ میڈیکل رپورٹ میں تشدد نہیں، سانس کی تکلیف کا بتایا گیا ہے۔

فیصل چودھری نے کہا شہباز گل پمز اسپتال میں بے ہوشی کی حالت میں ہیں۔ اسپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے عدالتی استفسار پر بتایا کہ شہباز گل کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے تشدد کا نہیں بتایا۔

عدالت نے اڈیالہ جیل کے میڈیکل افسر سے شہباز گل کے ابتدائی طبی معائنہ کی رپورٹ طلب کی تو وہ پیش نہ کر سکے اور کہا کہ رپورٹ ساتھ نہیں لائے، عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پھر آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ آپ کو میں نے اپنے علاج کے لیے تو نہیں بلایا۔

اڈیالہ جیل حکام نے بتایا کہ شام چار بجے روبکار ملی اور رات نو بجے اسلام آباد پولیس کے حوالے کیا گیا۔ میڈیکل افسر نے بتایا کہ شہباز گل نے سوا چار بجے دل کی تکلیف کی شکائت کی۔

عدالت نے کہا جیسے ہی ایڈیشنل سیشن جج کے ریمانڈ کا آرڈر ملا تو ملزم کو تکلیف ہو گئی۔ عدالت نے 4 وکلا کو شہباز گل سے ملاقات کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ اسپتال میں دوسرےمریض بھی ہیں،ایسا نا ہو کہ چالیس پچاس لوگ چلے جائیں۔ اسپتال کے کوئی وزٹنگ آورز ہیں تو اس کو فالو کیا جائے۔