Image

بدامنی سے بچنے کی ضرورت

کمشنر دیامر استور ڈویژن دلدار احمد ملک کی زیر صدارت علما کرام، سیاسی قیادت ، اراکین امن کمیٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں کے مشترکہ اجلاس میں صوبائی وزیر خوراک شمس الحق لون نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی بھی صورت میں بدامنی کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں۔ ہم شرپسندوں کے ہاتھوں علاقے کا امن تباہ ہوتے ہوئے دیکھ نہیں سکتے ہیں۔اب کسی کو بھی امن کے ساتھ کھیلنے کی قطعی اجازت نہیں دیں گے اور امن قائم کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہیں چاہے اس کے لیے جان کی قربانی دینے کیوں پڑے۔انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان میں ہر کسی کو اپنے عقائد کے مطابق اپنے مذہبی عبادات ادا کرنے کا حق حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری آپس کی رشتہ داریاں اور تعلق اس قسم کا ہے کہ ایک دوسرے کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتے ہیں۔انہوں نے قیام امن کے حوالے سے علما کرام ، اراکین امن کمیٹی اور سول سوسائٹی کے کردار پر خراج تحسین پیش کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے وزیر اعلی محبوب علی خان نے کہا کہ ہم سب ایک ہی گھر کے افراد ہیں ہم کبھی بھی بدامنی کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں۔ہمیں ایک دوسرے کے عقائد کا ہر صورت احترام کرتے ہوئے زندگی گزارنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اراکین امن کمیٹی رضاکارانہ طور پر علاقے میں قیام امن کے حوالے سے اپنی کردار ادا کررہے ہیں۔اراکین امن کمیٹی علما اور انتظامیہ کے درمیان پل کا کردار ادا کررہے ہیں۔امن کمےٹی علما کی جانب سے مقرر کردہ افراد پر مشتمل ایک ایسا فورم ہے جو بلاتفریق رنگ ونسل اور مذہب وملت علاقے میں امن کا قیام اور علاقے کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کررہی ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید عاشق حسین الحیسنی نے کہا کہ ہم امن قائم کرنے کے حوالے سے انتظامیہ کے ساتھ ہر قسم کا تعاون دینے کو تیار ہیں ہم نے پہلے بھی انتہائی مشکل حالات میں امن کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیا ہے۔ امن سب کی ضرورت ہے اس کے لیے ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔قیام امن کے لیے خلوص دل اور نیک نیتی سے ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کرتے ہوئے ہمیں اپنی زندگی گزارنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی بھی قسم کے انتشار کے خلاف ہیں اور مذہبی انتہاپسندی کے سخت مخالف ہے۔میں دل وجان سے دوسروں کے عقائد کا احترام کرتا ہوں اور اپنے پیروکاروں کو بھی یہی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ دوسرے مسلک کے عقائد اور رسوم کا احترام کریں اور کسی بھی قسم کی انتشار سے دور رہیں۔اس موقع پر قاری گلزار احمد اور قاری عبد الحکیم نے بھی خطاب کیا اور قیام امن کے لیے اپنا بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔انہوں نے کہا کہ طے شدہ معاہدوں پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا تقریق کاروائی عمل میں لائی جائے۔موجود دور میں پوری دنیا ہی سنگین حالات سے دوچار ہے۔ امن کہیں نظر نہیں آتا۔ کوئی بھی میڈیا اٹھا کے دیکھ لیں چاہے وہ پرنٹ میڈیا ہو، الیکٹرانک یا سوشل میڈیا، جرائم اور قتل و غارت سے بھرے پڑے ہیں۔ پیار و محبت ا ور بھائی چارے کی جگہ نفرت نے لے لی ہے بے سکونی اور بدامنی نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ علم و تدریس کے ادارے کرپشن کا شکار ہیں۔ جن کا فرض معصوم بچوں کی شخصیت کی تعمیر کرنا ہے۔وہ انہیں قوم کے معمار بنانے کی بجائے سلیبس کو مکمل کرنے میںمحو رہتے ہیں اور سلیبس غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے بچوں کی تربیت کرنے سے قاصر ہے۔موبائل اوربرائے نام غیر نصابی سرگرمیاں نہ ہونے کی وجہ سے بچے اور نوجوان بے راہ روی کاشکار ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ کبھی مشرقی اقدار کی مثالیں دی جایا کرتی تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے وقت اور حالات نے ایسا پلٹا مارا کہ زمانے سے محبت، بھائی چارہ اور امن ہی اٹھ گیا۔ فرد واحد ہے تو وہ ذہنی دباﺅاور الجھنوںکا شکار ہے۔خاندانوں میں بے سکونی پائی جاتی ہے۔نااتفاقی اتنی بڑھ گئی ہے کہ سگے بہن بھائی صلاح مشورہ کرنے کی بجائے اپنے ذاتی اور خاندانی معاملات کو ایک دوسرے سے پوشیدہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہیں بھی امن یا سکون کا پہرہ نہیں ہے۔ بات بات پرتکرارہوتی ہے اورپھر یہ تکرار دنگا فسادکی شکل اختیار کرلیتی ہے۔مسائل اور مصائب کی اس کیفیت میں کمی ہونے کی بجائے دن بہ دن تیزی سے اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ لوگ طرح طرح کی نفسیاتی الجھنوں اور بیماریوں کاشکار ہورہے ہیں۔قوت برداشت ختم ہوتی جا رہی ہے۔محبت ،بھائی چارہ ،سچائی اور انصاف، امن کی بنیادی اکائیاں ہیں۔مگر یہی معاشرے سے ناپید ہو گئی ہیں۔نتیجہ جرائم میں اضافہ، بدامنی اوعدم اعتماد اورر عدم برداشت ہے۔نیزمعاشرہ بدامنی میں پنپ رہا ہے ۔ یہی عمل آج ملکی ایوانوں میں بھی دوہرایا جا رہا ہے۔ ریاست اور سیاستدان آپس میںہی الجھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر ہم اپنے اردگرد کے حالات کا جائزہ لیں تو فرد واحد سے لے کر خاندانوں اور ملکی سطح پر بھی حالات اسی طرح کی ابتری کا شکار ہیں۔اس کی وجہ معاشی مسائل ،ناخواندگی ،مذہب سے دوری،غیر یقینی کیفیت اور دہشت ہے۔ معاشرے میں بے راہ روی اور تشدد میں ہو شربا اضافہ ہوا ہے۔ جب تک انصاف اور قانون سب کے لئے یکساںنہ ہو اور اس پر سختی سے عمل درآمد نہ کروایا جائے گا، معاشرہ سدھرے گا نہیں۔ بلکہ پستی کی اتھاہ گہرائیوں میں گرتا چلا جائے گا۔اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے رویوں کے زاویوں میں بھی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے کیونکہ تبدیلی صرف کہہ دینے سے نہیں آجاتی ۔ تبدیلی لانے کیلئے عمل کرنا پڑتا ہے۔وزیر اعظم کہہ چکے ہےں کہ پاکستان انتشار اور بدامنی کا متحمل نہیں ہوسکتا، آئین اور قانون کے راستے پر چلیں گے تو ملک آگے بڑھے گا، ہم سب کو جذبہ حب الوطنی کےساتھ ملک کو آگے لے کر چلنا ہے۔ اس وقت ہمارے معاشرے میں جو انتشار، بدامنی، اور عدم برداشت کا کلچر فروغ پا رہا ہے، اس کا قلع قمع کرنے کے لئے اس طرح کی کانفرنسز بہت ضروری ہیں اور مختلف افکار کے حامل لوگوں کو اور مختلف مذاہب کی مذہبی اور سیاسی لیڈرشپ کو اور سول سوسائٹی کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر سوچ بچار کیا جائے کہ آخر کیوں ہمارا معاشرہ بگاڑ کی طرف جارہا ہے اور دہشت گردی اور انتہا پسندی کے عنصر سے نمٹنے کے لئے بہت ضروری ہے کہ مل بےٹھ کر کام کےا جائے ۔آئین پاکستان اس بات کی ضمانت فراہم کرتا ہے کہ یہاں پر بسنے والے تمام لوگوں کو بلاتفریق رنگ، مذہب و نسل ان کو برابری کے حقوق ملیں گے۔جمہوریت ایسا حکمرانی کا نظام ہے جس میں عوام کو سب سے اوپر رکھا گیا ہے۔ اسی طرح تمام حکمرانی کے نظاموں کے مقابلہ جمہوریت کی کشش کو سب پر فائق سمجھا گیا ہے۔ آزادی کی سات دہائیوں سے بھی زیادہ وقت گزر جانے کے بعد تمام چیلنجوں سے گزرتے ہوئے نہ صرف جمہوریت کی کشش برقرار ہے بلکہ اس میں پہلے سے کہیں زیادہ بہتری آئی ہے۔ جمہوریت جہاں لوگوں کو اظہاررائے کی آزادی دیتی ہے وہیں اس پر اختلاف یا مخالفت کا حق اسے اور خوبصورت بنادیتا ہے۔ جمہوریت میں سبھی کی بات سننے، خیالات کا اظہار کرنے، مشورہ کرنے، بحث و مباحثہ کرنے اور یہاں تک کہ اختلاف رائے کا اہم مقام ہے۔ لیکن اختلاف رائے کا یہ حق جب ذمہ داری سے متنفر ہوکر بدامنی کی صورت حال اختیار کرجائے تو جمہوریت کی خوبصورتی کے لےے یہ خطرہ بھی بن جاتا ہے۔لوگ روزانہ اپنی روزمرہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لےے بھاگ دوڑ کررہے لوگوں کے مسائل جوں کے توں ہیں جن کا حل نکلتا نظر نہیں آرہا ہے۔جمہوریت اگر مخالفت کا موقع فراہم کرتی ہے تو مخالفت کی مخالفت میں کھڑے ہونے کا حق بھی دیتی ہے۔ لیکن اظہار رائے کے لےے مشتعل ہونے کی اجازت کبھی نہیں دیتی، تشدد کی قیمت پر تو بالکل نہیں۔ملکی صورتحال کا بھی بدامنی میں بڑا حصہ ہوتا ہے۔تمام تر کاوشوں کے بعد ستم ظریفی یہ ہے کہ تمام بڑی سیاسی جماعتیں در حقیقت اقتصادی پالیسی کے بنیادی عناصر پر متفق ہیں جیسے کہ ایک منصفانہ اور آسان ٹیکس نظام کا قیام ، ٹیکس کی تعمیل کو یقینی بنانا ، کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ، دیوالیہ ہونے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کو کم کرنا، مہنگائی کو کم کرنا، قرض کی سطح کو کم کرنا اور حکومتی اخراجات کو روکنا اور مالیاتی خسارے کو کم کرنا شامل ہیں۔ تمام معاملات پر سب تو ایک پیج پر ہیں جب بات سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی آئے تمام تر کوششیں راکھ ہو جاتی ہیں اس لےے ضرورت اس بات کی ہے کہ سےاسی جماعتےں‘علما اور سول سوسائٹی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرے۔