Image

گلگت بلتستان،کلائمٹ چینج کی وزارت بنانے کا فیصلہ

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے سونی جواری پبلک پالیسی سنٹر اور ای پی اے کے زیر اہتمام گلگت بلتستان میں الائنس فار کلائمیٹ ایکشن پر پالیسی ڈئیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے دنیا بھر کے درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے، اس کے مضر اثرات سے ماﺅنٹین کمیونٹی سب سے زیادہ متاثر ہورہی ہے۔ ایکو سسٹم کا سائیکل بری طرح متاثر ہورہاہے، زراعت سمیت پورے ملک میں پانی کا انحصار ماﺅنٹین کمیونٹیز پر ہے کیونکہ یہ واٹر ٹاﺅرز پر ہے، بدقسمتی سے موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ممالک کی فہرست میں پاکستان شامل ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی میں پاکستان کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے، موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے گلگت بلتستان کا درجہ حرارت بھی تیزی سے بڑھ رہاہے، جس کی وجہ سے گلیشیرز پگھل رہے ہیں، دریاﺅں میں پانی کم ہورہاہے، جنگلات تیزی سے ختم ہورہے ہیں۔ گلگت بلتستان نیشنل گرڈ سے منسلک نہیں اور گلگت بلتستان میں رہنے والوں کو سخت موسم کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور متبادل توانائی کے ذرائع نہ ہونے کی وجہ سے جنگلات کٹ رہے ہیں۔ مقامی کمیونٹی کی شراکت کےساتھ ہی دیرپا ترقی اور جنگلات کا تحفظ ممکن ہے، جس کی مثال جنگلی حیات کے تحفظ کےلئے ٹرافی ہنٹنگ کا اقدام انتہائی کامیاب رہا۔ وزیر اعلیٰ خالد خورشید نے کہاکہ مستقبل میں فوڈ سیکورٹی کا چیلنج درپیش ہوسکتا ہے، جس کےلئے ہمیں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، پہلی مرتبہ موسمیاتی تبدیلیوں سے بچاﺅ کےلئے مشترکہ جدوجہد کی پالیسی پر کام ہوا ہے۔ زرعی شعبہ گلگت بلتستان کےلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اس شعبے میں خودکفالت کےلئے سنجیدہ اقدامات کررہے ہیں اور حکومت خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ گلگت بلتستان میں صحیح معنوں میں سیاسی نظام کا آغاز 2009سے ہوا، ہماری ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ جعلی قوم پرستی اور جعلی فرقہ پرستی رہی ہے، دیگرصوبوں اور آزاد کشمیر میں اس قسم کی رکاوٹیں نہیں رہی اس لئے وہاں پر پالیسیز بنائی گئی اور عملی اقدامات کئے گئے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہاکہ گلگت بلتستان کےلئے موسمیات کا شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے کلائمیٹ چینج کی وزارت بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جلد کلائمیٹ چینج کی وزارت کا قیام عمل میں لایاجائے گا، چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے بروقت موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کے پیش نظر دنیا بھر میں آگاہی پیدا کی اور پاکستان 10بلین ٹری سونامی منصوبے کا آغاز کیا، جس کی پوری دنیا میں پذیرائی ہوئی۔ گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کا واحد حل جنگلات میں اضافہ ہے، جس کو مدنظر رکھتے ہوئے گلگت بلتستان میں بھی صوبائی حکومت شجرکاری مہم کے خصوصی منصوبے کا آغاز کرے گی۔