72

امریکی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلی: ایرانی سفارتکاروں پر عائد سفری پابندیاں ختم


 واشنگٹن (آئی این پی)امریکی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلی آ گئی، ایرانی سفارتکاروں پر عائد سفری پابندیاں ختم کر دی گئیں،سابق صدر ٹرمپ کی مشرق وسطی میں لگائی جانے والی آگ کو نئی امریکی انتظامیہ بجھانے میں مصروف ہے،ایران اور امریکا کے درمیان برف پگھلنے لگی، امریکا نے ایران کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کا اعلان کر دیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق امریکا ایران جوہری معاہدے پر فریقین کے اجلاس میں شرکت کیلئے تیار ہے کیونکہ بائیڈن انتظامیہ جوہری معاہدے پر اختلافات کا سفارتی حل تلاش کرنا چاہتی ہے، امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ ایران نیوکلیئر ڈیل کثیرالجہتی سفارتکاری کی اہم کامیابی تھی، جوہری معاہدہ اتنا اہم ہے کہ اس پر دوبارہ اتفاق کر لیا جائے،دوسری جانب جوبائیڈن انتظامیہ نے ایرانی سفارتکاروں پر عائد سفری پابندیاں بھی ختم کر دیں جس کے بعد ایرانی سفارتکار اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں شرکت کیلئے امریکا جا سکیں گے۔دو سری جانب ایرانی حکومت نے امریکا کے صدر جوبائیڈن سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان کے ملک پر عائد تمام پابندیاں ہٹائی جائیں، امریکا کی جانب سے کوئی شرط عائد کئے بغیر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عائد کردہ پابندیاں ہٹا لی جائیں تو ایران فوری طور پر جوابی اقدامات سے پیچھے ہٹ جائے گا،یہ مطالبہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کی جانب سے جوبائیڈن انتظامیہ کیساتھ براہ راست کیا گیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر کے ذریعے اپنے پیغام میں جواد ظریف نے لکھا کہ اگر امریکا کی جانب سے کوئی شرط عائد کئے بغیر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عائد کردہ پابندیاں ہٹا لی جائیں تو ایران فوری طور پر جوابی اقدامات سے پیچھے ہٹ جائے گا