145

خوش قسمت بیمار ہاتھی اور گلگت بلتستان

  شیخ میرزا علی

1985میں صدر مملکت جنرل ضیاء الحق کی بیٹی کو سری لنکا دورے کے موقع پر میزبان حکومت نے ایک ہاتھی کا تحفہ دیا جو کاون کے نام سے موسوم کیا گیا جسے سرکاری مہمان کے طور پر پاکستان منتقل کیا گیا اور بالآخر اسلام آباد کے چڑیا گھر میں مقید کر دیا گیا جس نے 35سال تک تماشہ بینوں کو اپنا وجود دکھایا اسی دوران کاون کے بیمار ہونے اور نامساعد حالات سے دوچار ہونے کی رپورٹیں دست بدست منتقل ہوتی رہیں اور 2015میں سوشل میڈیا میں ایک ویڈیو دکھائی جانے لگی جس میں کاون کی بے چینی اور قید تنہائی کو فلمبند کیا گیا تھا جس کا نتیجہ دو صورتوں میں ضرور نکلنا تھا متعلقہ محکمہ اپنی ذمہ داری نبھاتا یا بین الاقوامی سطح کی تشہیری مہم کے اثرات مرتب ہونے تھے اسی دوران دنیا بھر میں جانوروں سے محبت کرنے والے اداروں اور فورمز نے اپنی توانائیاں کاون کی طرف مبذول کرانے کیلئے صرف کیں اور مارچ 2019کو اویس اعوان نامی شہری نے عدالت میں کاون کی چڑیا گھر سے منتقلی کیلئے پٹیشن بھی دائر کردی پٹیشن میں کاون کو درپیش نامناسب ماحول کو بیان کرنے کے ساتھ یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ یہ واضح نہیں ہو رہا کہ اسلام آباد چڑیا گھر کس کے زیر انتظام ہے وزارت موسمیاتی تبدیلی یا اسلام آباد وائلڈ لائف منیجمنٹ بورڈ میں سے کون ذمہ دار ہے؟ عدالت نے لگ بھگ ڈیڑھ سال تمام متعلقہ محکموں کو موقع دیا اور محکمانہ فرائض کی انجام دہی کا چانس دیا لیکن جب کسی نتیجہ کی برآمدگی کے آثار نظر نہیں آئے تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزز اور فاضل چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وائلڈ لائف حکام سے استفسار کیا کہ مرغزار سے کاون اور دوسرے جانوروں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کیلئے کیا' کیا گیا ہے جس کے جواب میں حکام نے کہا حکومت نے کاون کو کمبوڈیا منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے صرف شپنگ کا انتظام ہونا باقی ہے جبکہ چڑیا گھر میں موجود مگرمچھ کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے خوبصورت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چڑیا گھر بادشاہوں کے زمانے میں بنائے جاتے تھے' وہ جانوروں کو مقید کر کے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے تھے اور انسانوں کو عبرت کا درس بھی دیتے تھے جبکہ انسان کی طاقت کمزور کو قید کرنا نہیں ہے بلکہ اس کی حفاظت کرنا ہے اور بالآخر کاون سے اظہار ہمدردی کرنے اور اس کی حفاظت کیلئے چلائی جانے والی عالمی مہم کامیاب ہوئی اور کاون کو سرکاری اہتمام کے ساتھ پرتپاک انداز میں کمبوڈیا منتقل کر دیا گیا جہاں علاج معالجہ کے بعد کاون کو جنگل میں چھوڑ دیا گیا جو اس کی منزل تھی جس کیلئے اس بے زبان جانور نے خوب محنت کی اور بے زبانوں کی زبان سمجھنے والوں نے کاون کا بھی خوب ساتھ نبھایا ایک رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر کاون سے اظہار ہمدردی کرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں تھی جس میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے ۔کائنات کے واحد و یکتا خالق نے انسان کو مخلوقات میں امتیاز اور شرافت کی منزل بھی اسی لئے عطا فرمائی ہے کہ احسن الخالقین کے عظیم شاہکار اس مخلوق میں خلقت کے عجائبات ودیعت کئے گئے ہیں جس کو بروئے کار لاتے ہوئے وہ تمام مخلوقات پر تسلط پا سکتا ہے جس کو قرآن مجید نے بھی بیان کیا ہے جو اس حقیقت کو بیان کرتا ہے جس کی صلاحیت جتنی زیادہ ہو گی اس کی ذمہ داریاں بھی اسی کے مطابق ہوں گی اسی لئے رب العزت نے عبادات کی انجام دہی کیلئے بالغ و عاقل اور بعض عبادات کیلئے ان شرائط کے ساتھ آزاداور امکان کی شرط رکھی ہے اور ہادیان بر حق کیلئے بھی وہ شرائط رکھی ہیں جن کے سبب وہ معاشرہ کی ہدایت کا حق ادا کرسکیں جن میں سے ایک شرط ان ہستیوں کا ہدایت یافتہ ہونا ہے جو خود ہدایت کا محتاج ہو وہ کبھی ہدایت کا حق ادا نہیں کر سکتا ہے اسی بنیاد پر انسان کو بقیہ مخلوقات پر شرافت عطا کی گئی ہے اور انسانوں میں اس شرافت کی مثالیں بھی ملتی ہیں اور وہی لوگ انسان ہونے کا حق ادا کر پاتے ہیں جو شرافت کی منزل پر ہوں جس اعزاز کو اپنانے کیلئے رب العزت نے دستور بھی دیا جسے دین اسلام کہا گیا جس میں تمام مخلوقات کے حقوق بیان کئے گئے ہیں لیکن خود انسان کی نمایاں کمزوری رہی ہے کہ اس نے ان حقوق کی طرف توجہ نہیں دی جانوروں کے حقوق بھی من حیث المخلوق ہونے کے شریعت نے واضح کئے ہیں اور تاریخ انسانیت میں ایسے بے شمار مثالیں موجود ہیں جنہوں نے جانوروں پر رحم کھا کر بندگی میں نمایاں مقام پایا ہے البتہ اس کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے کہ دین نے جہاںجانوروں کے حقوق بیان کئے ہیں وہیں پر حدود و قیود بھی بیان کی ہیں جیسے کتے جس میں کچھ خاصیتیں ایسی پائی جاتی ہیں جس کی ضرورت کا احساس انسان کو رہتا ہے لیکن اس کے باوجود اس جانور کو نجس قرار دیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ انسان کو اس جانور سے دور رہنا چاہئے اور معاشرت نہیں رکھنی چاہئے لیکن انسان کے ایسے معاشرے میں جہاں انسان کو کتا کہنا گالی سمجھی جاتی ہو اسی معاشرہ میں انسان کی شان و شوکت والی لائف اسٹائل کا لازمی حصہ بھی یہی کتا ہے جو اپنے طور پر انسانی معاشرہ کے خدوخال کی تعریف کو لڑکھڑا دیتا ہے الغرض انسان کی دوسری مخلوقات پر برتری کا ایک پہلو ،ان جملہ حقوق کی ادائیگی ہے جن میں جانوروں کے حقوق بھی شامل ہیں لیکن کیا کہیے ایسے انسانی معاشرہ کا جہاں حیوانوں سے اظہار ہمدردی کرنے کو عدل و انصاف کا معیار تو سمجھا جاتا ہو لیکن انسانوں سے اظہار ہمدردی اور یکجہتی کرنے کیلئے ہزار بہانے تلاش کئے جاتے ہوں جیسے سانحہ مچھ کے بے گناہ کان کنوں کو جس بے دردی اور وحشیانہ انداز سے شہید کیا گیا ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ آج کے معاشرہ میں انسانیت مر چکی ہے 'بے گناہ شہیدوں سے اظہار ہمدردی کرنے کیلئے رنگ و نسل کے رشتے ڈھونڈنے کا مطلب یہی ہے کہ تعصبات زندہ ہیں انسانیت مر چکی ہے ۔خوش قسمت ہاتھی جو سری لنکا سے آیا 35سال تک چڑیا گھر میں سیر و تفریح کیلئے آنے والوں کیلئے تفریح طبع کا سبب بنا رہا بیمار ہوا خبر چلی سوشل میڈیا پر' ٹرینڈ بنا' دنیا بھر سے لاکھوں کی تعداد میں ہمدردی رکھنے والوں نے آواز اٹھائی عدالت میں پٹیشن دائر ہوئی فاضل عدالت نے متعلقہ سارے محکموں کو طلب کیا سنہرے الفاظ میں لکھے جانے والے تاریخی ریمارکس دئے اور یوں شہنائیوں اور تمام تر سرکاری اعزازات کے ساتھ سری لنکن ہاتھی کمبوڈیا کے جنگل میں اپنی منزل پا گیا جو کاون کا مکمل آئینی اور قانونی حق تھا۔ اس خوش قسمت ہاتھی کی حالت زار ، بیماری اور بے چینی کو سمجھنے والے فاضل جج ، مقدس عدالت ، وکلاء ، صحافی ،سرکاری و سماجی ادارے ، سوشل ورکرز ، حیوانوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیمیں ، سوشل سائٹس کے مالکان اور وہ لاکھوں انسان جنہوں نے ہر سطح پر کاون کی بے چینی دور کرنے کیلئے کردار ادا کیا یقینا لائق تحسین ہیں اور انسان ہونے کا حق ادا کیا جب کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ کاون خود نہیں آیا تھا بھیجا گیا تھا اور حکومت پاکستان کے خرچہ پر لایا گیا تھا نہ اس کا نام تبدیل کیا گیا نہ اسے شناختی کارڈ دیا گیا اور نہ ہی اس کا پاسپورٹ بنایا جاسکتا تھا کسی ملک کا تھا ایک اور ملک میں لایا گیا اور اب کسی اور ملک میں جا بسا ہے لیکن 28000مربع میل ، 72 971کلومیٹر پر محیط گلگت  بلتستان جس نے از خود آزادی حاصل کر کے پاکستان سے الحاق کا اعلان کیا'پاکستان بننے کے بعد سے ہی اس خطہ کے باسی اپنے کو پاکستانی کہتے ہیں اور پاکستان کی سرحدوں کے دفاع میں بھی نمایاں کردار رکھتے ہیں ملک بھر کے ہم وطنوں کیلئے تفریح طبع کے بے شمار اور ان گنت بے مثال تفریحی مقامات پر نہایت مہربان میزبان بنے ہوئے ہیں گذشتہ 74سالوں سے قومی مفاد کی خاطر لازوال قربانی دیتے آرہے ہیں' ایسا بے نظیر خطہ جواہمیت اور حساسیت میں اپنی مثال ہے نہ اپنا آئین رکھتا ہے اور نہ کسی آئین کا حصہ ہے جب آئینی حیثیت کے تعین کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو جواب میں پیکج ،گورننس آرڈر ، ریفارمز ، ایمپاورمنٹ آرڈرکا حوالہ دیا جاتا ہے اور اب کہا جارہا ہے کہ ایسی اصلاحات لائی جارہی ہیں کہ جس سے وہ تمام اختیارات جو دوسرے صوبوں کو حاصل ہیں وہ جی بی کو بھی حاصل ہوںگے اس ضمن میں اتنا پوچھنا ہے کہ دوسرے صوبوں کا ذکر جس آئین میں ہے وہاں گلگت  بلتستان کا پہلے نام دکھائیں پھر اختیارات کی بات کریں ۔