66

سوست بارڈر،تاجر رہنمائوں نے ایف بی آر کو چار بڑے مطالبات پیش کردیئے

سابق نگران صوبائی وزیر و سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی محمد علی قائد نے انچارج ایف پی سی سی آئی حاجی قربان کے ہمراہ چیئرمین ایف بی آر محمد جاوید غنی سے ملاقات کی، اس موقع پر سابق صوبائی وزیر محمد علی قائد نے چیئرمین ایف بی آر کو سوسست بارڈر پر کرونا وائرس  کے باعث تاجروں کو ہونے والے نقصانات سے آگاہ کیا اور پاک چائنہ بارڈر پر جلد تجارتی سرگرمیوں کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ سابق صوبائی وزیر محمد علی قائد اور انچارج ایف پی سی سی آئی حاجی قربان علی نے چیئرمین ایف بی آر محمد جاوید غنی کو پاک چین تجارت پر درپیش مشکلات سے آگاہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ سوست بارڈر کے لیئے الگ ویلیوویشن متعارف کرایا جائے کیونکہ پاکستان میں زیادہ تر سوپیریئر سامان امپورٹ کیا جاتا جبکہ سوسست پورٹ پر انفیریئر کوالٹی کا سامان امپورٹ ہوتا ہے جس کے باعث گلگت بلتستان کے تاجروں کو بھاری ٹیکس ادا کر کے نقصان کا سامنا کرناپڑ رہا ہے اس نقصان کے ازالے کے لئے سوسست بارڈر پر امپورٹ ہونے والے سامان کا ٹیکس انفیریئر کوالٹی کے مطابق الگ ویلیویشن متعارف کرا کے لگایا جائے۔ اس کے علاوہ چیئرمین ایف بی آر کی توجہ اس طرف بھی مبذول کرائی کہ گلگت بلتستان میں اس  وقت شدید انرجی بحران کا سامنا ہے جس کی وجہ سے جنگلات کی کٹائی میں اضافہ ہو رہا ہے چین سے امپورٹ کیئے جانے والے کوئلے کو ڈیوٹی فری کیا جائے تاکہ علاقے میں ہر فرد تک سستے دام رسائی ممکن ہو سکے جس کے باعث جنگلات کی بے دریغ کٹائی بھی رک جائے گی۔ اس کے علاوہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹرانزٹ ٹریڈ ڈکلیئر کرنے کے ساتھ ساتھ پورے سال بارڈر پر تجارت بحال رکھی جائے اور چین پر زور دیا جائے کہ وہاں پھنسی کنسائنمنٹ بھی بر وقت ریلیز کرائی جائے جس پر چیئرمین ایف بی آر نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ بہت جلد ان مسائل کے ازالے کے لیئے باقاعدہ پراپوزل مرتب کر کے اس پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ تاجروں کو مزید نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔