77

عوام کے حال پر رحم کریں

وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نئے سال کے پہلے مہینے میں دوسری مرتبہ اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت مزید تینروپے  بیس پیسے بڑھا دی۔وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کی جانب سے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شیئر کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق 'وزیراعظم نے اوگرا اور فنانس ڈویژن کی طرف سے پیٹرول کی قیمت میں تیرہ روپے فی لیٹر بڑھانے کی سمری منظور نہیں کی اور قیمتوں میں کم سے کم اضافے کا فیصلہ کیا۔شہباز گل کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں تین روپے بیس پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں دوروپے پچانوے پیسے اور کیروسین کی قیمت میں تین روپے کا اضافہ ہوگا۔شہبازگل کی جانب سے جاری سمری کے مطابق نیپرا نے تجویز دی تھی کہ پیٹرول کی قیمت میں 13.7 روپے، ہائی اسپیڈ ڈیز کی قیمت میں 11.03 روپے، کیروسین آئل میں 10.55 روپے اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 15.33 روپے اضافہ کر دیا جائے۔نیپرا کی سمری میں بتایا گیا ہے کہ نئی قیمتوں کا اطلاق 16 جنوری سے ہوگا۔وزیراعظم کے معاون خصوصی کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 109.20 روپے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 113.19 روپے، کیروسین آئل کی قیمت 76.65 روپے ہوگی۔خیال رہے کہ حکومت نے دسمبر 2020 کے آخری روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 3 روپے 95 پیسے فی لیٹر تک اضافے کی منظوری دے دی تھی۔وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ عوام کے ریلیف کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کی سفارشات کے برعکس پیٹرولیم مصنوعات میں کم سے کم اضافہ کرنے کی منظوری دی۔اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ اوگرا کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں 10.68 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 8.37 روپے فی لیٹر اضافے کی سفارش کی گئی تھی لیکن عوام کو ممکنہ حد تک ریلیف فراہم کرنے کی حکومتی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 2.31 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 1.80 روپے فی لیٹر اضافہ منظور کیا گیا۔اس سے قبل پندرہ دسمبر کو حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا جس کے تحت پٹرول اور ڈیزل فی لیٹر تین، تین روپے مہنگا ہوگیا تھا۔قبل ازیں 30 نومبر کو وفاقی حکومت نے پندرہ  روز کے لیے پیٹرول کی قیمت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں چارروپے اضافہ کردیا گیا تھا۔حکومت کی جانب سے مہنگائی میں مسلسل اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے' پٹرول مصنوعات پر بھاری ٹیکس لینا عوام کے ساتھ سراسر ظلم ہے دنیا بھر میں عالمی منڈی کے مطابق تیل کی قیمتیں مقرر کی جاتی ہیں جس کا فائدہ عوام کو پہنچایا جاتا ہے کیونکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں سمیت روز مرہ کی اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوجاتا ہے جس سے براہ راست عام آ دمی ہی متاثر ہوتا ہے ۔ مگریہ حکومت اپنے دعووں اور وعدوں کے بر عکس گزشتہ پانچ سال سے مسلسل قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام کا تیل نکالنے میں مصروف ہیں۔ ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت 55 روپے ہے مگر وصول  کی جاتی ہے جو ظلم و نا انصافیوں کے مارے عوام کے ساتھ سراسر ظلم ہے ، حکومت کی تمام تر نا اہلی  کا خمیازہ پٹرول سے لیکر صابن پر ٹیکس دینے کی شکل میں عوام بھگت رہے ہیں۔ اس لیے  عوام کی حالت زار پر رحم اور عام آدمی کا معیار زندگی بہتر بنانے کیلئے سنجیدہ اقدامات کئے جائیں۔ حکومت کے ساتھ ساتھ پٹرول پمپس بھی لوٹ مار میں مصروف ہیں' پٹرول پمپس پر جو طریقہ سب سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے وہ مشین سے نکلنے والے پٹرول کی کچھ مقدار کو گاڑی میں جانے سے روک کر نوزل میں بچا لینا ہوتا ہے۔ اس حوالے سے سب سے زیادہ جو طریقہ استعمال کیا جاتا ہے وہ گاڑی کی فرنٹ سکرین صاف کرنے کیلئے وائپر لے کر خریدار کو مخاطب کرنا ہے۔ وائپر والے کے آنے سے پہلے پٹرول پمپ کا ملازم خریدار کوزیرو میٹر دکھا کر پٹرول ڈالنا شروع کر چکا ہوتا ہے جوں ہی خریدار وائپر والے کی جانب متوجہ ہوتا ہے تو پٹرول ڈالنے والا ملازم مشین کے اندر نصب مخصوص بٹن کو دبا کر میٹر پر پٹرول کی مقدار میںجمپ لگا کر دو یا تین سو روپے کی ڈنڈی مار چکا ہوتا ہے۔اگر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ قیمتوں کے نوٹسز کا جائزہ لیا جائے تو اگست 2018 سے اپریل 2019 تک وفاقی حکومت نے چار مرتبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ تین مرتبہ کمی کی ہے جبکہ ایک ماہ قیمتوں کو برقرار رکھا گیا تھا۔ اس سال حکومت کی جانب سے قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ چھ روپے فی لیٹر کیا گیا ہے جبکہ سب سے زیادہ کمی جنوری میں پانچ روپے کی گئی تھی۔جب تحریک انصاف کی حکومت نے اگست 2018 میں اقتدار سنبھالا تھا اس وقت پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 95 روپے 24 پیسے تھی جبکہ آج اس کی قیمت کیا ہے ۔عالمی منڈی سے فراہم ہونے والے تیل کی صفائی کے بعد پی ایس او کو ملنے والی فی لیٹر تیل کی بنیادی قیمت، ان لینڈ فریٹ مارجن یعنی ملک میں تیل سپلائی کرنے کی قیمت، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا کمیشن، آئل ڈیلرز یا پیٹرول پمپ مالکان کا کمیشن، سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی، پیٹرولیم لیوی ٹیکس شامل ہیں۔پاکستان سٹیٹ آئل  اوگرا حکام، وزارت خزانہ اور پیٹرولیم کے حکام ہر مہینے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت، پاکستان کو ملنے والے تیل کی قیمت، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں رد و بدل، ملک میں منگوائے گئے تیل کی تعداد، کھپت اور لاگت کا جائزہ لیکر ایک سمری تیار کرتے ہیں۔اس سمری کو پیٹرولیم اینڈ فنانس ڈویژن بھیجا جاتا ہے۔ جس کے بعد وزارت خزانہ ان سفارشات کی روشنی میں ملکی خزانے میں خسارے یا اخراجات کا تعین، ٹیکسوں کی مد میں مختص رقم کا تعین کر کے اس سمری پر فی لیٹر قیمت طے کر کے وزیر اعظم کو بھیجتی ہے۔وزیر اعظم فی لیٹر پیٹرول کی قیمت کا حتمی فیصلہ کرنے کے بعد وزارت خزانہ کو نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ اوگرا کے مطابق ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی ماہانہ کھپت سات لاکھ سے ساڑھے سات لاکھ میٹرک ٹن ہے۔ حکومتی ٹیکسز کے لاگو ہونے سے بھی صارفین کے لیے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی خریداری کے لیے روزانہ کی بنیاد پر قیمت نہیں بلکہ ایک ہفتہ کے دوران رہنے والی قیمت کی اوسط قیمت کے مطابق خریدا جاتا ہے جبکہ خام تیل کی خریداری بھی ایک مہینے کی قیمت کی اوسط کے مطابق کی جاتی ہے۔ پاکستان میں تیار تیل منگوایا جاتا ہے یہ خام تیل نہیں ہوتا۔ پی ایس او عالمی منڈی سے تیار تیل خریدتا ہے خام تیل نہیں۔ البتہ عالمی منڈی میں ریفرنس پرائس خام تیل کی قیمت کو رکھا جاتا ہے۔ایک جانب پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں ہوش ربااضافہ صارفین کے لیے سوہان روح بنا ہواہے تو دوسری جانب ملاوٹ اور کم مقدار کی فراہمی ان کے لیے دوسرا عذاب بنی ہوئی ہے۔کرپشن کے حوالے سے برسراقتدار طبقے پر تنقید اپنی جگہ لیکن تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ پورا معاشرہ مجموعی طور پر دھوکہ بازی ،جھوٹ ،ملاوٹ ،بے ایما نی کی پٹی باندھ کر راتوں رات امیر بننے کی تگ و دو میں لگا ہواہے۔  بڑے پیمانے پر غیر معیاری اور اسمگل شدہ ایرانی تیل کا کاروبار کھلے عام چلنے کی اطلاعات بھی ہیں جبکہ اس کے علاوہ میٹر ٹیمپرنگ کے ذریعے مقررہ مقدار سے کم پٹرول دینے کی بھی شکایات عام ہیں۔دیکھا جائے تو پیٹرول میں ملاوٹ پاکستان کا ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ دیگر ممالک میں بھی یہی شکایات رہتی ہیں لیکن وہاں ملاوٹ مافیا اور منافع خور عناصر سے سختی سے نمٹا جاتا ہے۔ ملک بھر میں پیٹرول میں ملاوٹ کی شکایت کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس کی متعدد مرتبہ نہ صرف نشاندہی ہوچکی ہے بلکہ اعلی سطح پر اس کی روک تھام کرنے کے اقدامات بھی تجویز کیے جاچکے ہیں،لیکن اس پر سنجیدگی سے عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے صورت حال جوں کی توں ہے۔