104

موسم سرما میں'' کے ٹو'' سر کرنے کا کارنامہ

نیپالی کوہ پیمائوں نے پہلی مرتبہ موسم سرما میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو سر کرکے تاریخ رقم کر دی۔ یہ کارنامہ ہفتہ کے روز سہ پہر تین بجے کے قریب دس نیپالی کوہ پیمائوں کی ٹیم نے مشترکہ طور پر انجام دیا۔ تاریخ کی سب سے بڑی اور مشکل ترین مہم جوئی کا آغاز گزشتہ سال دسمبر کے آخر میں ہوا تھا۔ دنیا کے اٹھارہ ممالک کے پچپن سے زائد کوہ پیما سردیوں میں کے ٹو کو سرکرکے تاریخ رقم کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔29دسمبر کو ملکی و غیر ملکی کوہ پیمائوں کی چار ٹیمیں بیس کیمپ پہنچیں۔ اگلے روز کے ٹو کی بلندی پرسفر باقاعدہ شروع ہو گیا۔۔ مہم کی قیادت نیپالی کوہ پیما چنگ داوا شرپا کر رہے ہیں۔ تاریخ کی سب سے بڑی مہم جوئی میں پانچ خواتین کوہ پیما بھی شامل ہیں۔ مقامی کوہ پیما  محمد علی سدپارہ کے ساتھ ان کے انیس سالہ فرزند ساجد سدپارہ بھی مہم میں شریک ہیں۔29دسمبر سے بارہ جنوری تک کوہ پیمائوں کی کوششیں جاری رہیں ۔نیپالی کوہ پیمائوں کی ٹیم بارہ جنوری کو کیمپ ون پہنچی۔ تیرہ جنوری کو کیمپ ٹو، چودہ جنوری کو کیمپ تین اور پندرہ جنوری کو کیمپ فور پہنچ گئی۔ کیمپ فور کے بعد آگے سیدھا کے ٹو کی اونچائی پر پہنچنے کا سفر شروع ہوتا ہے۔ کیمپ فور پہنچنے کے بعد نیپالی کوہ پیمائوں نے رات کو ہی کیمپ فور سے آگے منزل کی طرف بڑھنے کا سفر شروع کیا۔ یوں دس نیپالی کوہ پیمائوں نے بیک وقت کے ٹو سر کر کے تاریخ رقم کر دی۔ اس سے پہلے سردیوں میں اس چوٹی کو سر کرنے کی تمام تر کوششیں ناکام ہو چکی تھیں۔ اس دوران کئی کوہ پیمائوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا بھی پڑا۔ اس چوٹی کو پہلی مرتبہ اطالوی کوہ پیما اچیل کمپگنونی نے 1954میں سر کیا تھا۔ چوٹی کو فتح کرنے کی کوشش میں مجموعی طور پر  چھیاسی کوہ پیما اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں جبکہ آج سے قبل صرف ساڑھے چار سومہم جو ہی اس کو سر کرنے میں کامیاب ہوئے ۔ دنیا کی چودہ میں سے تیرہ بلندترین چوٹیوں کو سردیوں کے موسم میں سر کیا جا چکا تھا۔ صرف کے ٹو ہی وہ واحد چوٹی تھی جسے سردیوں کے موسم میں سر کرنے کی ہر کوشش ناکام ہو چکی تھی۔ وزیراعلی گلگت بلتستان محمد خالد خورشید خان نے کے ٹو سر کرنے پر نیپالی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔نیپالی ٹیم بجا طور پر موسم سرما میں کے ٹو سر کرنے پر مبارکباد کی مستحق ہے'حوصلے اور عزم جواں ہوں تو کچھ بھی ناممکن نہیں ہوتا۔کے ٹو کی بلندی8611میٹر ہے جو کہ دنیا کی بلند ترین چوٹی کوہ ہمالیہ یا ایورسٹ سے صرف دو سو میٹر کم ہے لیکن موسم سرما میں یہاں پر حالات جان لیوا ہو جاتے ہیں۔ہر چار سال بعد اس چوٹی پر ایک کوہ پیما کی موت واقع ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں تمام موسموں میں آکسیجن اور آکسیجن کے بغیر تمام مہمات شامل ہیں۔گلیشیئر پر نقطہ انجماد سے نچلے درجہ حرارت میں ڈوبی ہوئی سرد ہوائوں کے مسلسل تھپیڑوں کی زد میں رہنے والی اس چوٹی پر جہاں ہر وقت برفانی تودے گرتے رہتے ہیں اور چٹانوں کی شکست و ریخت بھی جاری رہتی ہے، سر کرنے کے لیے کمال مہارت، چٹان کی سی قوتِ ارادی، فولادی اعصاب، غیر متزلزل حوصلے اور کسی حد تک خوش قسمتی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اس چوٹی پر سردیوں میں چلنے والی شدید ہوا کی رفتار بعض اوقات دو سو کلو میٹر سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ ماضی میں اس چوٹی کو موسم سرما میں سر کرنے کی سات مرتبہ کوشش کی جا چکی ہے اور ساتوں مرتبہ کوہ پیمائوں کی تعداد بہت کم تھی۔بلند چوٹیوں پر کمند ڈالنے والے کوہ پیمائوں کی برادری میں کے ٹو جہاں  مہم جوئی کے جذبات جگاتی ہے وہاں یہ چوٹی ان کے اندر ایک خوف کا باعث بھی ہے۔کہا جاتا ہے اگست2018میں گیارہ انتہائی تجربہ کار کوہ پیما کے ٹو پر ہلاک ہو گئے تھے جس کی وجہ جان لیوا آئس فال یا برفانی تودے تھے جو آٹھ ہزار دو سو میٹر بلند اس انتہائی دشوار حصہ میں گرے جسے تنگ راستہ کہا جاتا ہے۔یہ راستہ آٹھ ہزار میٹر سے کہیں اونچائی پر آتا ہے اور اس کوہ پیمائوں کی زبان میں ڈیتھ زون یا موت کی گھاٹی بھی کہا جاتا ہے جہاں پر آکسیجن کی کمی انسانی جسم کو مفلوج کر دیتی ہے۔ایک غلط قدم رکھنے سے تین ہزار میٹر گہری کھائی اور گلیشیئر میں گر سکتے ہیں۔موسم سرما میں کے ٹو کی چوٹی پر ہوا کا دبائو بہت تیز ہوتا ہے اور درجہ حرارت منفی 60 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ کے ٹو کو سر کرنے کے بعد نیپالی کوہ پیمائوں نے وہاں اپنا قومی ترانہ بھی گایا۔پاکستان کا شمالی پہاڑی علاقہ تین پہاڑی سلسلوں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے ملاپ کی جگہ بھی ہے۔کے ٹو سر کرنے کی اس مہم میں شامل کوہ پیمائوں میں نیمرال پورجا،منگما ڈیوڈ شرپا،منگما تینزی شرپا،گیلجن شرپا،پیم چیری شرپا،داوا ٹیمبا شرپا،منگما جی ،داوا ٹینجین شرپا،کیلو پیمبا شرپااور سونا شرپاشامل ہیں۔گلگت بلتستان دنیا کا واحد خطہ تصور کیا جاتا ہے، جہاں تین عظیم پہاڑی سلسلے کوہ قراقرم ، کوہِ ہمالیہ اور کوہِ ہندو کش آپس میں جگلوٹ کے مقام پر ملتے ہیں۔کوہ ہمالیہ دنیا کے ان عظیم پہاڑی سلسلوں میں سے ایک ہے جن میں دنیا کی سب سے بلند چوٹی مائونٹ ایورسٹ، جو نیپال میں واقع ہے اور کے ٹو سمیت سوسے زیادہ ایسی پہاڑی چوٹیاں موجود ہیں، جن کی بلندی 7200 میٹر سے زیادہ ہے۔ یوں تو گلگت بلتستان میں چھوٹی بڑی چوٹیاں سیکڑوں کی تعداد میں موجود ہیں لیکن دنیا کی آٹھ مشہور و معروف پہاڑی چوٹیوں میں سے پانچ اس خوب صورت خطے میں ہیں۔ ان میں کے ٹو، ننگاپربت، پراڈ پیک، گشہ بروم ون، گشہ بروم ٹوشامل ہیں، جن کی اونچائی آٹھ ہزارمیٹر سے بھی زیادہ ہے۔کوہ پیمائوں کے مطابق دنیا کی بلند ترین چوٹی مائونٹ ایورسٹ کی نسبت کے ٹوکو سر کرنا انتہائی دشوار ہے۔ اس کی واضح مثال یہ ہے کہ اب تک مائونٹ کو 3448 کوہ پیما سر کر چکے ہیں۔ ان میں گلگت بلتستان کی پہلی کوہ پیما خاتون ثمینہ بیگ بھی شامل ہیں جب کہ کے ٹوکوسر کرنے والوں کی تعداد کم ہے کئی کوہ پیما اس چوٹی کو سر کرنے کے شوق میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ گلگت بلتستان پہاڑی دولت سے مالا مال ہے۔  کے ٹو کو بلتی زبان میں چو گوری بھی کہا جاتا ہے جس کا مطلب پہاڑوں کا راجہ ہے۔ایک کوہ پیما کا خواب ہوتا ہے کہ وہ کے ٹو سر کرے، اسی خواہش کے تحت بہت سے کوہ پیما آتے ہیں یورپ اور پاکستان کے پہاڑوں کی اونچائی میں بہت فرق ہے۔ یہاں کے پہاڑ بہت ہی اونچے ہیں اور اونچے پہاڑوں کو سر کرنا ایک کوہ پیما کاخواب ہو تا ہے، خواہ وہ دنیا کے جس بھی خطے میں ہو۔ دنیا بھر کے کوہ پیمائوں کے لیے کے ٹو سر کر نا مائونٹ ایورسٹ سر کر نے سے بھی بڑا خواب ہوتا ہے، اس کی وجہ غالبا اس کی دشوار گزاری ہے۔پہاڑی سلسلے ، پہاڑ اور پہاڑ کی چوٹی کو سمجھنے کیلئے بنیادی اصول کچھ اسطرح سے ہیں۔ پہاڑ ، پہاڑیوں کی نسبت بڑے ہوتے ہیں۔ پہاڑیوں کی ڈھلانیں کم گہری ہوتی ہیں جبکہ پہاڑوں کی ڈھلانیں عمودی ۔ زیادہ ڈھلان دار اور چڑھنے کے لئے مشکل ہوتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی چوٹی اردگرد کی زمین سے چھ سومیٹر تک اونچی ہے تو یہ پہاڑ ہے اور اگر اس سے کم ہے تو پہاڑی ہے۔ہم دیکھتے ہیں نیپال نے اس حوالے سے کوئی خاص قواعد وضوابط وضع نہیں کئے کہ کون مائونٹ ایوریسٹ کو سر کر سکتا ہے اور کون نہیںکر سکتا۔جب کہ سینئر کو ہ پیمائوں کا کہنا ہے کہ مائونٹ ایوریسٹ موت اور تباہی کا لائسنس ہے۔ مائونٹ ایورسٹ کے معروف کوہ پیما اور وقائع نگار ایلن آرنیٹ کا کہنا ہے کہ آئرن مین کی مہارت دکھانے کے لئے تو آپ کو کوالیفائی کرنا پڑتا ہے مگر دنیا کی بلند ترین چوٹی مائونٹ ایوریسٹ سر کرنے کے لئے آپ کو کوالیفائی کرنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے۔کوہ پیما یہ شکوہ بھی کرتے پائے گئے ہیں کہ مائونٹ ایورسٹ پر چوریا ں ہوتی ہیں اور وہاں بہت زیادہ کوڑا کرکٹ جمع ہو چکا ہے۔کو ہ پیمائوں کی سیفٹی کے حوالے سے پائی جانے والی ان تمام تر خامیوں کے باوجود یوں محسوس ہوتا ہے کہ نیپالی حکومت مائونٹ ایورسٹ سے تجارتی انداز میں پیسہ کمانے کا منصوبہ بنا چکی ہے اسی لئے حکومت ریکارڈ تعداد میں دنیا بھر کے مہم جوئوں کو مائونٹ ایورسٹ پر چڑھنے کے لئے پرمٹ جاری کرتی ہے ۔ کوہ پیما کہتے ہیں کہ ہر سال جاری ہونے والے اجازت ناموں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔کے ٹوکا شماربھی ایسے ہی پہاڑوںمیں ہوتا جس کی تسخیرکرنے کا شوق دنیا بھر کے کوہ پیمائوں کے دل میں مچلتارہتاہے حکومت اگر اس کے لئے خاطر خواہ اقدامات اور کوہ پیمائوں کو سہلولیات فراہم کرے تو بہت سا زرِ مبادلہ حاصل کیا جاسکتا ہے جو ملکی معیشت کیلئے آکسیجن کا کام کرے گا۔