126

نظام عدل میں اصلاحات لائیں گے، عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ براڈشیٹ کیس کی روشنی میں جامع تحقیقات کروا رہے ہیں۔تحریک انصاف نے کوئی فارن فنڈنگ نہیں لی۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت حکومتی رہنمائوں کا اجلاس ہوا، اجلاس میں بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر بریفنگ دی گئی۔بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ گزشتہ دور میں ضرورت سے زیادہ اور مہنگی بجلی بنائی گئی، 42 فیصد مہنگی بجلی بنانے کا خمیازہ آج عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔اجلاس کے دوران وزرا کی کمیٹی نے براڈشیٹ معاملے پر بریفنگ دی۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ براڈشیٹ کیس نے سابق حکمرانوں کو ایکسپوز کردیا ہے، سابق این آر او 20 ملین ڈالر کے نقصان کا سبب بنا۔ انہوں نے مشرف کے ساتھ ڈیل کرکے اپنی پراپرٹی بچائی۔عمران خان نے کہا ہے کہ یہ لوگ آج بھی صرف اپنے دولت بچانے کے لیے این آر او مانگ رہے ہیں، براڈشیٹ کیس کی روشنی میں جامع تحقیقات کروا رہے ہیں۔ ہماری حکومت اور ادارے انکے پریشر میں نہیں آئیں گے۔ قوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس لائی جائے گی۔اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما فرخ حبیب نے فارن فنڈنگ کیس پر بریفنگ دی۔فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فارن فنڈنگ کیس کی اوپن سماعت کی پیشکش کر چکا ہوں، تحریک انصاف ہر فورم پر اپنا کیس پیش کر چکی ہے، فارن فنڈنگ کیس اپوزیشن جماعتوں کی حقیقت قوم کے سامنے آئے گی، میں جو کہتا تھا آج وہ سچ ثابت ہو رہا ہے۔دریں اثناء لیٹرآف ایڈمنسٹریشن،وراثتی سرٹیفکیٹ کے اجراکی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ  ہم اپنے عدالتی نظام کو بہتر کر رہے ہیں جس میں کریمنل جسٹس سسٹم کی اصلاحات سب سے اہم ہیں،نادرا کی مدد سے وراثتی سرٹیفکیٹس کے 15 دن میں اجرا کو خوش آئند  ہے ،سمندر پار پاکستانیوں کی زمینوں پر قبضے ہوجاتے ہیں ، اس اقدام  سمندر پار پاکستانیوں کا مسئلہ بھی حل ہوگا،خواتین کے وراثت کے حق کے حوالے سے بھی جلد عملی اقدام سامنے لائے جائیں، خواتین کو وراثت میں حصہ نہ ملنا ظلم ہے۔ خطاب کرتے  ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ضابطہ دیوانی میں اصلاحات کا فائدہ عوام کو پہنچانے کے لیے متعلقہ فریقوں کواعتماد میں لیا جائے،پیسے والے تو اپنے لیے آسانی ڈھونڈ لیتے ہیں، عام آدمی کو مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ سزائوں میں دیر کی وجہ سے بڑے بڑے مجرم بچ جاتے ہیں، جس وجہ سے معاشرے میں جرائم زیادہ  ہیں،کریمنل جسٹس سسٹم میں انصاف دینے میں دیر لگتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عدالت میں آدھے کیسز زمینوں کے ہوتے ہیں،کریمنل جسٹس سسٹم میں اصلاحات لائیں گے جو سب سے اہم ہے،اوورسیز پاکستانی ہمارا اثاثہ ہیں، قانون میں آسانیاں نہ ہونے کی وجہ  زمینوں کے کیسز40سال چلا کرتے تھے اب  ان کے فیصلے بھی جلد حل ہوں گے،اوورسیز پاکستانیوں کو  اسی وجہ سے مشکلات  کا سامنا کرنا پڑتا تھا ، قبضہ مافیا کی طرف سے  اوورسیز پاکستانیوں کی زمینوں پر قبضے کیے جاتے  ہیں،  وراثتی سرٹیفکیٹس کے 15 دن میں اجرا کے  اقدام  سمندر پار پاکستانیوں کا مسئلہ بھی حل ہوجائیگا  ۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے وراثت کے حق کے حوالے سے بھی جلد عملی اقدام سامنے لانے والے ہیں ،خواتین کو شائد شہروں میں تو شریعت کے مطابق وراثت میں حصہ ملتا ہو، لیکن دیہاتوں میں بالکل نہیں ملتا، خواتین کو وراثت میں حصہ نہ دینا ظلم ہے۔