40

کرونا اور تلخ یادیں لئیے 2020

عدیل ممتاز

بے شک پوری دنیا اس وقت اللہ تعالیٰ کے ایک امتحان سے گزر رہی ہے یہ امتحان کبھی سخت ہوا تو کبھی نرم لیکن اب پھر سخت ہوگیا ہے پوری دنیا صبر کے ساتھ اس امتحان کا مقابلہ کر رہی ہے سال 2020 کرونا کا سال رہا اس سال لاکھوں اموات ہوئیں اور یہ سبق بھی حاصل ہوا کہ انسان کی اپنی خواہش کے تابع کسی چیز کا انکار یا اقرار کرنے سے حقیقت نہیں تبدیل ہوسکتی یوں تو ہر سال دوسرے سالوں سے مختلف ہوتے ہیں ہر سال اپنی تلخ یادیں چھوڑ کے جاتا ہے لیکن سال 2020 سب سے مختلف ہوگا اس کو کبھی بھولا نہیں جائے گا جس نے بھی اس سال کو دیکھا یا گزارہ وہ تاریخ میں اس کو ہمیشہ یاد رکھے گا اس سال میں کرونا وبا کا پھیلنا یا نظام کادرہم برہم ہونا واقعی ہی منفرد بات ہے اس سال میں جہاں روضہ رسولۖ اور خانہ کعبہ جیسی بابرکت جگہوں کو سیل کیا گیا وہی کچھ اہم شخصیات بھی رخصت ہوئیں'دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والے وائرس نے تقریبا بیس فروری کو پاکستان میں قدم رکھا فروری کے آخر میں کیس آنا شروع ہوگئے اِکا دکُا کیسز آنے پر سبھی نے اس وائرس کو معمولی سمجھا اس وقت پاکستان میں پی ایس ایل کے میچز بھی جاری تھے مارچ میں پی ایس ایل کے کچھ میچز ملتوی اور کچھ میچز بغیر تماشائیوں کے کرائے گئے بیس مارچ تک کیسز بڑھنا شروع ہوگئے صوبائی حکومتوں نے لاک ڈاؤن کے فیصلے پر وفاق کی طرف دیکھنا شروع کر دیا کہ کب حکم آئے اور لاک ڈاؤن کر دیا جائے وزیر اعظم عمران خان نے غریبوں کا کافی حد تک سوچنے کے بعد لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا 23 مارچ کے بعد پورے ملک میں چودہ دن کا لاک ڈاؤن کر دیا گیا ایک قیامت سا سماں تھا جب دنیا لاک ڈاؤن کی طرف گئی تو تعلیمی ادارے، بازار، پارکس، ہوٹل ریسٹورنٹس سب کچھ بند ایسے لگا کہ زندگی رُک سی گئی ہو ہر شخص حیران وپریشان نظر آیا سب لوگ اپنے اپنے گھروں کے ہی ہو کے رہ گئے اس دوران گھریلو تشدد میں غیر معمولی اضافہ ہوا، سیکیورٹی اداروں، پولیس آرمی اور دیگر متعلقہ اداروں نے ذمہ داری کے ساتھ اپنا کام کیا سماجی فاصلہ، ماسک گلووز، اور سینی ٹائزر کے استعمال کو یقینی بنایا گیاکچھ لوگوں نے اس کو عالمی پروپیگنڈہ بھی کہا کچھ لوگ اس وبا کو مذاق سمجھتے رہے مگر بعد میں خود ہی اس وائرس میں مبتلا ہوکر زندگی کی بازی ہار گئے کرونا وائرس کے خلاف سازشی تھیوریاں بھی چلیں کہ بل گیٹس اپنی ویکسین بیچ رہا ہے کسی نے وائرس کو ٹیکنالوجی سے جوڑا کسی نے عجیب و غریب تو کسی نے اسکا علاج جڑی بوٹیوں یا ٹوٹکوں سے بھی کرنا شروع کر دیا چودہ دن گزرنے کے بعد لاک ڈاؤن آہستہ آہستہ مزید بڑھا دیا گیا لوگوں کے کاروبار بُری طرح متاثر ہوئے 'معیشت نیچے گر گئی لاکھوں لوگ بے روزگار ہوئے مہنگائی بھی عروج پر چلی گئی تعلیمی ادارے بند ہونے سے بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہوئی حکومت کی طرف سے غریب گھرانوں کو بارہ ہزار روپے بھی دئیے گئے' عید الفطر کے بعد مئی کے آخر میں لاک ڈاؤن میں نرمی آنا شروع ہو گئی اور سمارٹ ڈاؤن لگنا شروع ہو گیا وزیر اعظم عمران خان کی لاک ڈاؤن کی بہترین حکمت عملی پر عالمی اداروں نے بھی تعریف کی وبا کے آغاز میں بہترین حکمت عملی سے لاک ڈاؤن لگایا گیا تھا سمارٹ ڈاؤن لگنے پر معیشت کو بھی سہارا ملنے لگا عید الضحیٰ کے بعد تقریبا زندگی معمول کی طرف آگئی تھی تو اپوزیشن جماعتوں نے سر جوڑ لئیے اور تمام جماعتوں نے مل کر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے پارٹی بنا لی اس کا مقصد حکومت کو گرانا اور وزیر اعظم عمران خان سے استعفیٰ لینا تھا حکومت گرانے کے لئیے پی ڈی ایم متحرک ہوگئی' پی ڈی ایم کا سربراہ مولانا فضل الرحمن کو بنایا گیا ابھی کرونا کی پہلی لہر تھوری تھمی ہی تھی کہ اگست کے آخر میں پوری دنیا میں کرونا کی دوسری لہر پھر سر اٹھانے لگی اپوزیشن نے ستمبر میں آل پارٹیز کانفرنس رکھی اور اسی اجلاس میں پی ڈی ایم باقاعدہ وجود میں آئی انہوں نے حکومت کے خلاف جلسوں کا اعلان کر دیا جس کی باقاعدہ تاریخیں بھی ٹی وی چینلز کے ذریعے سب کو پتہ چل گئیں پشاور، کراچی کا جلسہ ہوا تو حکومت نے بھی اپنے جلسے شروع کر دئیے کرونا کی دوسری لہر میں اضافہ ہوتے ہی حکومت نے اپنے جلسے منسوخ کر دئیے حکومت کی طرف سے اپوزیشن کو جلسے منسوخ کرنے کا کہا گیا مگر اپوزیشن اتحاد پارٹیوں کا اپنی ضد اور عوام کی جانوں کو داؤ پر لگا کر اپنے جلسے تاریخ کے مطابق جاری رکھنے کا حتمی فیصلہ تھا ماہرین صحت نے کرونا کی دوسری لہر کو شدید حد تک خطرناک قرار دیا اور ڈبلیو ایچ او نے پاکستان کو سختی سے کرونا ایس او پیز پر عمل کرنے کو کہا گیا گلگت بلتستان کے الیکشن کے لئیے اکتوبر میں حکومت اور اپوزیشن نے الیکشن کمپین جاری رکھی نومبر میں پی ٹی آئی حکومت نے گلگت بلتستان میں میدان مارا ساتھ ساتھ کرونا بھی تیزی سے پھیلنے لگا جوکہ عوام کی غیر ذمہ داری کا نتیجہ ہے حکومت کے لاکھ منع کرنے کے باوجود اپوزیشن نے ملتان اور آخر میں لاہور کا بھی جلسہ کر ڈالا جوکہ جلسے تقریبا فلاپ ہی تھے اور اس کے ساتھ عوام کی جانیں بھی داؤ پر تھیں صوبائی حکومتوں کی اجازت نہ دینے کے باوجوہ پی ڈی ایم نے جلسے کئیے ان کی قیادت پر پرچے تو کٹ گئے اب دیکھنا یہ ہے کہ آگے کیاہوتا ہے' اب دسمبر میں کرونا نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں تیزی سے پھیل رہا ہے پوری دنیا میں کرونا کے کیسز اس وقت پانچ کروڑ اور اموات تقریباً چودہ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہیں پاکستان میں اب روزانہ کی بنیاد پر دو تین ہزار کیسز اور ساٹھ ستر اموات ہو رہی ہیں جو کہ تشویسناک صورتحال ہے کرونا ویکسین بھی بعض ممالک میں تیاری کے آخری مراحل میں ہے اب ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ جتنا ہوسکے ہم احتیاط کریں اور کرونا ایس او پیز پر عمل کریں 'جس طرح ہر سال بہت سارے انسان اس دنیا فانی سے پردہ کر جاتے اسی طرح 2020 میں بھی کچھ اہم شخصیات ہم سے بچھڑ گئیں جن میں پی ٹی وی ہوسٹ اینکر طارق عزیر صاحب، مذہبی سکالر علامہ ضمیر جعفری، مولانا محمد نعیم، مذہبی رہنما پیر حمید الدین سیالوی، قاری شیخ صدیق، گلوکار شفاء اللہ خان روکھڑی، سابق وزیر اعظم نواز شریف کی والدہ شمیم اختر، اینکر پرسن ارشد وحید چودھری، پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ اور پشاور کے معروف ڈاکٹر عبد القیوم شامل ہیں اللہ سب کی مغفرت فرمائے آمین پاکستان میں اس سال ہونے کو ہونے والے تمام واقعات پرہم نے سرسری سا جائزہ لیا اس سال کا سورج غروب ہوگیا اللہ کرے آنے والا سال ہم سب کے لئیے بہت سی خوشیاں لائے ہمارافرض ہے کہ اس وبا میں ہم غریبوں کا خیال رکھیں ہمیں انسانی حقوق پر زور دینا ہوگا اور ہمیں اچھا شہری بننا ہوگا اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین